سینیٹ نے بیسویں آئینی ترمیم کی منظوری دو تہائی اکثریت سے دے دی

اسٹاف رپورٹر
اسلام آباد:آج سینیٹ نے بھی بیسویں ترمیم کی منظوری دو تہائی اکثریت کے ساتھ دے دی ھے۔


مجموعی طور پر چوھتر سینییٹرزنے قراردادکے حق میں ووٹ ڈالے جبکہ دو ممبران نے اس کی مخالفت میں ووٹ ڈالے۔  


قبل ازیں سینٹ سے بیسویں ترمیم کی منظوری کا معاملہ اس وقت کٹھائی میں پڑ گیا تھاجب اتحادیوں نے نگران سیٹ اپ کے معاملے پر تحفظات کا اظہار کر دیا۔


 سینٹ میں قائد ایوان نیئر حسین بخاری کی زیر صدارت اپوزیشن اور حکومتی سینیٹرز کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔


اجلاس میں بیسویں آئینی ترمیم کی ایوان بالا سے متفقہ منظور کیلئے غور کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اتحادی جماعت مسلم لیگ ق نے بیسویں ترمیم میں مجوزہ نگران سیٹ اپ کے قیام کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کیا۔


ذرائع کے مطابق، چودھری شجاعت حسین کا کہنا ہے کہ نگران سیٹ اپ کے معاملے کو چیف الیکشن کمشنر کے پاس نہیں بھیجنا چاہیے،بلکہ پارلیمانی کمیٹی اگر فیصلہ نہ کرے تو معاملہ پارلیمنٹ میں لایا جائے۔


 اے این پی اور بی این پی عوامی نے نگران سیٹ اپ کیلئے قائم کی جانے والی کمیٹی میں اراکین اسمبلی کے بجائے سینٹرز شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔


قومی اسمبلی پھلے ہی بیسویں ترمیم کی منظوری دے چکی ہے اور آج سینیٹ نے بھی اس کی منظوری دےدی ہے۔ اب صدر آصف زرداری کے دستخت ھونے کے فوری بعد یہ ترمیم آئین کا حصہ بن جائےگی۔ سماء

کی

سے

نے

bail

دی

Cup

promise

bodybuilding

تہائی

Tabool ads will show in this div