افغان صدر کے بیان پردفتر خارجہ کا ردعمل

Apr 26, 2016

HDL 1100 26-04

[video width="640" height="360" mp4="http://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2016/04/Fo-Ghami-Address-Isb-Pkg-26-04.mp4"][/video]

اسلام آباد: پاکستان نے واضح کیا ہے کہ افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا صرف اس کی ذمہ داری نہیں ہے۔  ترجمان دفتر خارجہ محمد نفیس ذکریا کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام سب سے زیادہ پاکستان کے مفاد میں ہے۔ گزشتہ روز افغان صدر اشرف غنی کے پارلیمنٹ سے خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان، افغان امن عمل میں تعاون کیلئے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے اور پڑوسی ملک میں امن و ترقی اور خوشحالی کی غیر متزلزل حمایت کرتا ہے ۔

ترجمان نے مزید کہا کہ افغانستان میں امن اور مفاہمت کیلئے چارملکی گروپ مشترکہ طور پر کام کر رہا ہے۔ طالبان کے بااختیار نمائندوں کو براہ راست مذکرات میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ کئی مرتبہ کہا ہے کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا صرف پاکستان کی ذمہ داری نہیں ہے ۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ پاکستان دہشتگردی میں کوئی تفریق نہیں کرتا اور ہر قسم کی دہشتگردی کی مذمت کرتا ہے۔ دہشتگردوں کا کوئی مذہب نہیں ہے ۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز کابل میں افغان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران افغان صدر اشرف غنی کا کہنا تھا کہ  پاکستان کو مصالحتی عمل سے متعلق وعدوں کے مطابق افغان طالبان کیخلاف کارروائی کرنی چاہیے۔ اپنے خطاب میں اشرف غنی نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان  وعدوں پرعمل نہیں کرتا تو اس کے خلاف اقوام متحدہ میں آواز اٹھائیں گے۔

افغان صدرکا یہ بھی کہنا تھا کہ امن مذاکرات کے لیے بہت انتظار کیا لیکن اب اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے تمام تر اقدامات اٹھائیں گے۔

اشرف غنی نے اپنا بیان ایسے وقت میں دیا جب چار ملکی امن مذاکرات کے مصالحتی عمل کا پانچواں اجلاس رواں ہفتے اسلام آباد میں ہونے جا رہا ہے۔ سماء

FOREIGN OFFICE

afghan president ashraf ghani

AFGHAN TALIBAN

Tabool ads will show in this div