قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ میں بھی 20آئینی ترمیم منظور

Nov 30, -0001

اسٹاف رپورٹ
اسلام آباد : بیسویں آئینی ترمیم کی قومی اسمبلی کے بعد سینٹ نے بھی منظوری دے دی ہے۔


وزیراعظم کا کہنا ہے بیسویں آئینی ترمیم سے جمہوریت مضبوط ہوگی۔ اور آئندہ کوئی انتخابات کی شفافیت پر اعتراض نہیں کرسکے گا۔

قائد ایوان نئیر حسین بخاری نے بیسویں ترمیم منظوری کیلئے ایوان بالا میں پیش کی۔ اسے ایوان نے بھاری اکثریت سے منظور کرلیا۔


ترمیم کے حق میں 74 اور مخالفت میں جماعت اسلامی کے سینیٹر پروفیسر خورشید اور سینیٹر پروفیسر ابراہیم نے ووٹ دیئے۔


وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اس موقع پر خطاب میں کہا ہے کہ بیسویں آئینی ترمیم سے جمہوریت مضبوط اور چھوٹے صوبوں کا احساس محرومی ختم ہوگا۔


وہ اپنے اختیارات پارلیمنٹ کو سونپنے پر صدر مملکت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ترمیم کی منظوری کا مقصد صرف اٹھائیس ارکان پارلیمنٹ کو تحفظ دینا نہیں۔ اب کوئی انتخابات کی شفافیت پر اعتراض نہیں کرسکے گا۔


بیسویں آئینی ترمیم پر صدر آصف زرداری کے دستخط کے بعد تین وزراء سمیت سینیٹ ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اٹھائیس معطل ارکان بحال ہو جائیں گے۔ سماء

میں

کے

بعد

bail

myanmar

promise