میں نہ مانوں ۔ ۔ ۔

May 19, 2016

Mein-Na-Manoo

ليجئے تحريک انصاف کے چيئرمين عمران خان نے پاناما ليکس کي تحقيقات کے لئے بنايا گيا وہ کميشن بھي مسترد کر ديا جس کا مطالبہ انہوں نے خود ہي کيا تھا۔ نواز شريف کے خاندان پر بيرون ملک آف شور کمپنياں بنانے کا الزام لگا تو ملکي سياست ميں ايک ہلچل سي مچ گئي۔ اپوزيشن نے اس مسئلے پر حکومت کو آڑھے ہاتھوں ليا۔ کسي نے استعفے کا مطالبہ کيا تو کسي نے تحقيقات کے لئے اپنے پسنديدہ افسر بھي نامزد کر ديئے۔ خان صاحب نے شعيب سڈل سے تفتيش کروانے کا مطالبہ کيا تو وزير داخلہ نے يہ کہہ کر مسترد کر ديا کہ انہوں نے ايف آئي اے کے کسي افسر سے تحقيق کروانے کي پيشکش کي تھي شعيب سڈل کا ايف آئي اے سے کوئي تعلق نہيں۔

Mein-Na-Manoo-2

حزب اختلاف کا پريشر بڑھا تو وزيراعظم نے ايک ريٹائرڈ جج کي سربراہي ميں کميشن بنا ديا ليکن تحريک انصاف سميت ساري اپوزيشن نے اسے بھي مسترد کر ديا اور اب ان کا مطالبہ تھا کہ کميشن چيف جسٹس آف پاکستان کي سربراہي ميں بننا چاہئے۔ وزيراعظم نے يہ مطالبہ بھي مان ليا اور چيف جسٹس کو کميشن کے لئے خط لکھ ديا گيا ليکن پھر وہي ۔۔۔ ميں نہ مانوں ۔۔۔

اب ٹي او آرز پراعتراض لگا کر يہ کميشن بھي مسترد کر ديا گيا ہے۔ خان صاحب چاہتے ہيں کہ احستاب صرف وزيراعظم اور ان کے خاندان کا ہونا چاہئے اور اس کے لئے ايک وقت مقرر ہو۔ جبکہ حکومت نے ٹرمز آف ريفرنس ميں احتساب کا دائرہ اتنا پھيلا ديا ہے کہ اس پر اپوزيشن جماعتوں کے کئي رہنماوں کو بے چيني سي ہونے لگي ہے۔ بہت سارے ايسے بھي ہيں جنہيں خدشہ لاحق ہوگيا ہے کہ وزيراعظم کو پھنساتے پھنساتے کہيں وہ خود ہي اس کميشن کے شکنجے ميں نہ آجائيں۔ اسي لئے اب کميشن کے ٹرمز آف ريفرنس بھي حکومت کے مخالفين ہي طے کرنا چاہتے ہيں۔

Mein-Naa-Manoo-3

ب سوال يہ ہے کہ اگر ٹي او آرز بھي اپوزيشن کي مشاورت سے بن گئے تو اس بات کي کيا گارنٹي ہے کہ اس کميشن کي رپورٹ کو تسليم کر ليا جائے گا۔ ماضي ميں دھاندلي کي تحقيقات کرنے والے کميشن کي رپورٹ کے بخيے جس طرح ادھيڑے گئے اس سے لگتا نہيں کہ ۔۔۔۔ ميں نہ مانوں ۔۔۔ کي رٹ اب بھي ختم ہو پائے گي۔

ميں نہ مانوں کي رٹ  کي بات کريں تو يہ سلسلہ دو ہزار تيرہ کے انتخابات کے بعد ہي شروع ہوگيا تھا۔ جب عام انتخابات ميں دھاندلي کے الزامات کي بوچھاڑ کر دي گئي ليکن يہ دھاندلي کہيں ثابت نہ کي جاسکي۔ عام انتخابات ميں ہونے والي بے ضابطگيوں کو دھاندلي کا نام ديا گيا۔ اسلام آباد ميں ہونے والے طويل دھرنے کے بعد ايک جوڈيشل کميشن بن گيا جس نے سارے معاملات کي چھان پھٹک کي ليکن وہاں بھي دھاندلي ثابت نہ کي جاسکي اور جوڈيشل کميشن نے الزامات مسترد کر ديئے ليکن پھر وہي ميں نہ مانوں۔

mein-Na-Manoo-4

آج تين سال گزرنے کے بعد بھي دھاندلي کي وہي کہاني دہرائي جاتي ہے جو ہر پاکستاني کو تقريبا زباني ياد ہوچکي ہے۔ پراني کہاني دھرانے کے ساتھ ساتھ پاناما ليکس کا نيا ايڈيشن بھي ماحول کو گرما رہا ہے اور پھر وزيراعظ٘م سے استعفے کے مطالبے کے ساتھ ساتھ رائيونڈ کے گھيراو کي دھمکياں دي جا رہي ہيں ليکن حکومت نے اپوزيشن کے مطالبے پر کميشن بنا کر في الحال تو عوام کو يہ پيغام ديديا ہے کہ ہم جو مرضي کرليں مگر يہ 'ميں نہ مانوں' کی رٹ ختم ہونے والي نہيں۔

JUDICIAL COMMISSION

IMRAN KHAN

CJP

pti chairman

rigging in elections

opposition parties

panama papers

Nawaz Sharif family

Tabool ads will show in this div