منصور اعجاز کا بیان آج ریکارڈ ہوگا

Nov 30, -0001

اسٹاف رپورٹ


اسلام آباد: ميمو کيس کے مرکزی کردار منصور اعجاز آج ويڈيو کانفرنس کے ذريعہ اپنا بيان ريکارڈ کرائيں گے ۔۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں دو بڑی اسکرینیں نصب کرکے ریہرسل مکمل کر لی گئي ہے۔

10 اکتوبر2011ء کو برطانوی اخبار فنانشنل ٹائم میں مبینہ میمو سے متعلق شائع ہونے والے منصوراعجاز کے مضمون نے پاکستانی سیاست میں ہلچل مچا دی ۔

23 نومبر کو نواز شریف نے میمو اسکینڈل کی تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔

یکم دسمبر کو سپریم کورٹ میں میمو اسکینڈل کیس کی باضابطہ سماعت ہوئی ۔

30 دسمبر کو عدالت نے چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ کی سربراہی میں کمیشن قائم کیا۔ اور امریکہ میں سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کے ملک چھوڑنے پر پابندی عائد کر دی ۔

2 جنوری کو میمو کمیشن کے پہلے اجلاس میں حسین حقانی اور منصور اعجاز کے روابط کا ڈیٹا طلب کیا گیا ۔

9 جنوری کو حسین حقانی کمیشن کے روبرو پیش ہو گئے۔ کمیشن نے منصور اعجاز کو فوری ملٹی پل ویزا جاری کرنے کا حکم دیا۔

16 جنوری کو کمیشن نے منصور اعجاز کو 24 جنوری کو پیش ہونے کا آخری موقع دیا۔

24 جنوری کو ان کا بیان بیرون ملک ریکارڈ کرنے کی استدعا مسترد کر دی اور پیش ہونے کیلئے 9 فروری تک کی مہلت دے دی ۔

تحقیقات ایک ماہ میں مکمل نہ ہو سکیں تو عدالت عظمٰی  نے 30 جنوری کو کمیشن کی مدت میں دو ماہ کی تو سیع کر دی،حسین حقانی کو بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت بھی دے دی ۔

منصوراعجاز9 فروری کو بھی  پیش نہیں ہوئے اور لندن یا زیورخ میں بیان ریکارڈ کرنے کی استدعا کی۔

10 فروری کو میموکمیشن نے لندن میں پاکستان ہائی کمیشن سے ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرنے کا حکم دیا۔

اس سلسلے میں ضروری انتظامات کیلئے سیکرٹری میمو کمیشن راجا جواد عباس برطانیہ پہنچ چکے ہیں جب کہ نوازشریف کے وکیل مصطفٰی رمدے بھی لندن میں ہیں ۔

منصوراعجاز 22 فروری کو پاکستانی وقت کے مطابق دن دو بجے بیان ریکارڈ کروائیں گے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں ویڈیو کانفرنسنگ کیلئے دو بڑی اسکرینیں نصب کی گئی ہیں۔ منصوراعجاز اور حسین حقانی کے وکلاء اسلام آباد ہائیکورٹ میں موجود ہوں گے۔ سماء

کا

آج

بیان

october

humanitarian

Tabool ads will show in this div