سندھ پولیس، ریاست کی سوتیلی

AA1 تحریر : سید فیصل کریم جن کو مرنا تھا وہ مر گئے، حکومت نے وہ ہی کیا، جس کے لیئے وہ مشہور ہے، لاشوں کا معاوضہ اور حملہ آوروں کی پکڑ میں مدد دینے والوں کے لیئے پچاس لاکھ کا اعلان، ان پچاس لاکھ سے چند روپے نکال کر وہ سیکیورٹی کیمرہ ہی ٹھیک کرادیتے، جو پولیس موبائل پہ لگا لگا خراب ہوچکا تھا۔ شاید مجرمان تک رسائی میں مدد مل جاتی، یا پھر مرنے والوں کے ہیلمٹ اور بلٹ پروف جیکٹس پہ خرچ کردیتے، جانیں تو بچ جاتیں، ستم تو یہ کہ شہید سپاہی وزیر علی اس سے پہلے بھی دو بار مقابلوں میں زخمی ہوچکا تھا۔ اس کے باوجود بھی لاپرواہی کا یہ عالم؟۔ Killing-karachi لاپرواہی ہی تو ہے کہ گزشتہ سولہ ماہ میں پنچانوے پولیس اہلکار شہید ہوچکے ہیں، کس چیز کو روئیں؟ وسائل کی کمی کو؟ یا پھر موجود وسائل کے غلط استعمال کو؟ جس موبائل پہ حملہ ہوا۔ اس پر لگا کیمرہ خراب تھا۔ کیوں خراب تھا؟ ایسی موبائل کو سڑک پر آنے ہی کیوں دیا گیا؟ ایسی موبائیلیں سڑک پہ ڈیوٹی کے لیئے بھیجی ہی کیوں جاتی ہیں جن میں مجرموں کو لایا جائے تو وہ بیچ سڑک خراب ہوجائے اور پولیس اہلکار اس کو دھکا لگاتے پھریں۔ خیر جانے دے استاد۔ ڈبل اے ناقص تربیت کو روئیں؟ یا پھر سندھ پولیس میں بھرتیوں کے طریقہ کار کو روئیں؟ کس طرح ہوتی ہیں۔ سب جانتے ہیں، اگر ایک بار سندھ پولیس اہلکاروں کا فزکل ٹیسٹ لیا جائے تو مجھے یقین ہے کہ بیس پش اپس بھی نہیں لگا پائیں گے، سات میل بھی بھاگ نہیں پائے گا۔ ان تمام وجوہات سے بڑھ کر سوال یہ کہ پولیس کیساتھ ریاست کر کیا رہی ہے؟ سادہ الفاظ میں بیان کریں تو پولیس کو ’ رگڑا‘ جارہا ہے۔ ان کی چوبیس گھنٹے کی ڈٰیوٹٰیاں ہوتی ہیں ۔۔ اور پھر چوبیس گھنٹے کا آرام۔ یہ بیچارے موبائل میں بیٹھے نیند پوری کررہے ہوتے ہیں۔ resize.php ناں جانے کیوں لیکن لگتا ہے کہ ریاست نے پولیس کو سوتیلا بیٹا بنا رکھا ہے، پولیس دہشت گردی کیخلاف فرنٹ لائن فورس ہے، یہ بیان سن سن کر اب کان پک چکے ہیں۔ لیکن یہ کیسی فرنٹ لائن فورس ہے جو سڑکوں پہ اندھی گولیوں، سڑک کنارے نصب بارودی مواد اور خودکش بمبار کا نشانہ تو بن رہے ہیں، لیکن پالیسی سازی کا حصہ نہیں بن رہے۔ کسی کو تفتیش کروانی ہے یا کوئی کمپلننٹ ہے تو وہ پولیس کو اپنی ذاتی گاڑی میں بٹھا کر لے جائے۔ پولیس کے پاس ٹرانسپورٹ کی سہولت نہیں۔ پولیس کے پاس ہے کیا؟ پولیس کے پاس نمبر ٹریس کرنے کی اہلیت نہیں، اس کے لیئے وہ ایجنسیوں کو لکھے گی، پھر درخواست قبول کی جائے گی، پھر اونٹ کسی کروٹ بیٹھے گا۔ جب ریاست نے ہی پولیس کو سوتیلا کردیا تو پھر عوام پولیس کی توقیر کیوں کر کرے؟ اور کیوں کر پولیس پر اعتماد کرے۔ پرائیوٹ سیکیورٹی ایجنسییز پر کیوں ناں کریں۔ بات صاف ہے۔ جب تک سندھ میں پولیس کی بھرتیاں صرف سائیں کے بوٹ کو سیلیوٹ کرنے کے لیئے کی جاتی رہیں گی، پولیس رشوت بھی لے گی، کام چوری بھی کرے گی، اور بیچ چوراہے شہید بھی ہوتی رہے گی ( خاکم بدہن)۔ سماء

Attack on Police

TALIBAN

polio campaign

SAMAA Blog

Karachi attack

Tabool ads will show in this div