کرپشن کیخلاف ایکشن؛پاک فوج کے 11 افسران برطرف

Apr 21, 2016

ARMY CHIEF 1800 PKG 19-04

[video width="640" height="360" mp4="http://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2016/04/Army-Chief-In-Action-Isb-Pkg-21-06.mp4"][/video]

اسلام آباد: آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کرپشن میں ملوث پاک فوج کے لیفٹیننٹ جنرل اور میجر جنرل سمیت 11 افسران کو فارغ کردیا گیا۔ پاک فوج کے 12 افسران کو فوج کے احتسابی نظام کے تحت تحقیقات کے بعد برطرف کیا گیا۔ برطرف افسران میں ایک لیفٹننٹ جنرل، ایک میجر جنرل، 5 بریگیڈئیر، 3 کرنل اور ایک میجر شامل ہے۔

برطرف ہونےو الے افسران نے فرنٹیئرکانسٹبلری بلوچستان میں خدمات انجام دیں۔  افسران کی مراعات اور کرپشن کی رقم واپس کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: سپہ سالار نے ہر سطح پر احتساب لازمی قرار دے دیا

برطرف افسران  میں لیفٹننٹ جنرل عبید اللہ خٹک اور اعجاز شاہد بھی شامل ہیں۔ اعجاز شاہد آئی جی ایف سی بلوچستان رہ چکے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ افسران کی برطرفی کا فیصلہ کور کمانڈرز کانفرنس میں کیا گیا، سابق ایجوٹنٹ جنرل لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الحسن نے افسران پر کرپشن سے متعلق الزامات کی تحقیقات کیں، اس وقت بھی پاک فوج میں 3 انکوائریاں جاری ہیں۔

ذرائع کے مطابق  اعجازشاہدکیخلاف2افسران کی ہلاکت پرتحقیقات شروع ہوئیں۔ اعجازشاہد کےبیٹے کی گاڑی سے فوج کے کرنل اورمیجرجاں بحق ہوگئے تھے۔ ان افسران کےاہلخانہ نےآرمی چیف سےواقعے کی تحقیقات کی درخواست کی تھی۔

مزید پڑھیے:کرپشن پرفوجی افسران برطرف،سیاسی رہنماؤں کاخیرمقدم

حادثےکے بعد ایف سی بلوچستان میں وسیع پیمانےپرتحقیقات کی گئیں۔ لیفٹیننٹ جنرل عبیداللہ آئی جی آرمزکےعہدےپرکام کررہےتھے۔ ان افسران پرکورکےمختلف منصوبوں میں کرپشن کےالزامات تھے۔

واضح رہے کہ 2 روز قبل کوہاٹ میں سگنل رجمنٹ سے خطاب کے دوران آرمی چیف نے کرپشن کا خاتمہ ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہر سطح پر احتساب لازمی ہے۔ سماء

ARMY CHIEF

pak army

pak army officers suspended

Tabool ads will show in this div