کراچی، پولیس پر حملے،7 اہل کار شہید

khi Firing کراچی : اورنگی ٹاؤن کے علاقے میں پولیس اہلکاروں پر دہشت گردوں کے دو حملوں میں شہید اہل کاروں کی تعداد 7 ہوگئی، 4 موٹر سائیکلوں پر سوار دہشت گردوں نے پیدل چلتے اور موبائل میں بیٹھے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا، تمام مقتولین کے سر اور چہرے پر گولیاں ماری گئیں۔ کراچی پولیس پر سال کا سب سے بڑا حملہ جب اورنگی ٹاؤن کے علاقے  بنگلا بازار میں 4 موٹر سائیکلوں پر سوار 8 دہشت گردوں نے پولیو مہم کے دوران پولیو اسٹاف کی حفاظت پر مامور اہل کاروں پر فائرنگ کردی، قاتلانہ حملے میں شہید ہونے والے اہل کاروں کی تعداد سات تک پہنچ گئی ہے۔ ایک جگہ پیدل اہلکاروں کو گھیر کر جبکہ دوسری جگہ موبائل میں موجود پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ مزید ویڈیو دیکھیں : اہلکاروں کا قتل،عینی شاہد سامنے آگیا Korangi Firring Khi 20-04 مزید ویڈیو دیکھیں : ملزمان نے پہلے نام پوچھا،پھر فائرنگ کرکے شہید کردیا ڈی آئی جی ویسٹ فیروز شاہ کے مطابق دہشت گردوں نے دو پولیس موبائل کو نشانہ بنایا، پہلے واقعہ میں ڈسکو موڑ کے قریب کھڑے تین، جب کہ دوسرے واقعہ میں چار پولیس اہل کار شہید ہوئے۔ پولیس حکام کا مزید کہنا تھا کہ آٹھ حملہ آور چار موٹر سائیکلوں پر سوار تھے، دہشت گردوں نے پہلے پیدل اہلکاروں پر فائرنگ کی اور پھر پولیس موبائل کو نشانہ بنایا۔ اورنگی ٹاون میں پولیس اہلکاروں کی نشاندہی عبدالستار، اسماعیل، رستم خان، یاسین، غلام رسول، وزیرعلی اور دائم الدین سے ہوئیں۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھے، جنہوں نے سیکیورٹی کیلئے نافذ پولیس اہل کاروں کو نشانہ بنایا اور باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ دہشت گردوں نے پولیس موبائل کو چاروں جانب سے گھیر کر حملہ کیا۔ شہید پولیس اہل کاروں کی لاشیں اور دو زخمی اہل کاروں کو عباسی شہید اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ پولیس اہل کاروں پر حملے کے بعد علاقے میں پولیو مہم معطل کردی گئی ہے، جائے وقوعہ کا معائنہ کرنے والے حکام کے مطابق دونوں واقعات میں چھ سو گز کا فاصلہ تھا، اس علاقے میں انسداد پولیو مہم کا آخری روز تھا۔ مزید دیکھیں اور پڑھیں : حملےکرنےاورکرانے والےجلدپکڑےجائیں گے،ڈی جی رینجرز ڈائریکٹر ہیلتھ کے مطابق شہید اہلکار پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور تھے، حملے میں انسداد پولیو ٹیم محفوظ رہی ہے۔ واقعہ کے بعد رینجرز اور پولیس کے اعلیٰ حکام فائرنگ کی جگہ پر پہنچ گئے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے اورنگی ٹاؤن میں فائرنگ کے واقعے کی انسپکٹر جنرل (آئی جی ) پولیس سے رپورٹ طلب کرلی۔ صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور نے واقعہ کا فوری نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی، سہیل انور کے ، مطابق پولیس اہلکار وائرلیس پر اطلاع بھی نہ دے سکے، حملہ سیکیورٹی لیپس نہیں تھا۔ واقعہ سے متعلق ڈی آئی جی ویسٹ کا کہنا تھا کہ ملزمان کو جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائیگا، واقعے کی معلومات لے رہے ہیں، شہید اہل کاروں کا تعلق ریپڈ رسپانس فورس سے تھا۔، دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کی ناکہ بندی کرکے ملزمان کی تلاش شروع کردی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی کراچی سمیت مختلف شہروں میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں اور سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے اورنگی ٹاؤن کا علاقہ حساس ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں فائرنگ کے واقعات آئے روز پیش آتے رہتے ہیں۔ اس سے قبل رواں سال جنوری میں کوئٹہ کے علاقے میں پولیو مرکز کے قریب دھماکے سے چودہ افراد شہید ہوگئے تھے۔ یہاں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ ماضی میں ہونے والے پولیو ٹیموں پر اکثر حملوں کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے قبول کی گئی ہے۔ خیال رہے کہ کراچی میں ستمبر 2013 میں دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن شروع ہونے کے بعد پولیس اہلکاروں پر حملے کے واقعات میں تیزی آچکی ہے، جس میں ڈیوٹی پر مامور متعدد اہلکار ہلاک و زخمی ہوچکے ہیں۔ رینجرز کے بھرپور ایکشن کے بعد کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں نمایاں کمی واقع ہوئی تھی، تاہم پولیو ٹیم پر دہشت گردوں کا حملہ سیکیورٹی فورسز کیلئے اب بھی ایک امتحان ہے۔ سماء

POLICEMEN

TALIBAN

KARACHI KILLING

Polio Team

Tabool ads will show in this div