گینگ ریپ اور تیس من گندم

May 19, 2016
jirga-settles-gang-rape-for-1200-kg-of-wheat آٹا، گهی، دال چاول، روٹی کپڑا مکان کے علاوہ یہاں اور بهی  بہت کچھ بکتا ہے، اس بے حسی کے بازار  میں ہر چیز بکاؤ ہے، ضمیر بکتا  ہے، ایمان کی بولی لگتی ہے، نعرے بکتے ہیں، خواب بکتے ہیں، زندہ انسان کا سودا ہوتا ہے، لاشوں کی بولی لگتی ہے، انسانی  اعضا بیچنے کا بازار گرم رہتا یے، دھماکے میں مرنے والوں اور زخمی جسموں کے ریٹ طے کیے جاتے ہیں، ریٹ کا تعین کرتے وقت شہر اور واقعہ کی سنگینی کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔ 55277aa5bd778 اسمبلی میں بیٹھے باعزت ارکان بکتے ہیں، سیلاب زدگان کی امداد بکتی ہے، بھوک سے تنگ ماؤں کے بچے بکتے ہیں، مردہ لوگوں کو نعرے لگا  کر زندہ رکھا جاتا ہے اور زندہ لوگوں کو قدم قدم پر موت کے گھاٹ اتارنے کے بعد بهی چین کا سانس  لینے نہیں  دیتے۔ لوگوں کی امیدوں ،آرزو ں،خواہشوں کا سودا سر بازار ہوتا ہے،عورت کی بولی لگتی ہے، عورت کی بولی لگنا بهی کوئی نئی بات نہیں، اس کی عزت کو تار تار کرکے جرگے لگا کر اس کی عزت کا سودا ہوتا ہے۔ 03-1459683157-rape456 تلور کے شکاری کس طرح  غریبوں کی بیٹوں  کا شکار  اپنی خواب گاہوں میں کرتے ہیں، کتنی دردناک  چیخیں کی گونج  ان کے شاہی خیموں سے سنائی دیتی ہے، مگر اس سے کیا فرق پڑتا ہے، عورت کی عزت تو ایک عرصہ دراز سے لٹتی چلی آئی ہے۔ SC-TILOR-CASE-ISB-PKG-HASSAN-ABBAS-22-01 .2015 انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے مطابق 1974 لڑکیوں کی عزت لوٹی گی، 993خواتین کو جنسی تشدد ،279کو گھریلو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ،833خواتین کو اغوا کیا گیا.143 کے منہ پر تیزاب پھینکا گیا.ان تمام تر واقعات کے بعد بهی ہماری 35 مذہبی جماعتوں کے کان پر جوں تک نہیں  رینگی.کسی نے  عورتوں پر ہونے والے ظلم پر آواز اٹھانے کے لیے نہ تو انٹرویو دیا اور نہ ہی کوئی بیان.کیونکہ اس سے مردوں کے معاشرے کو کوئی فرق نہیں  پڑتا.خدانخواستہ کوئی اگر یہ بات کر دے  کہ عورتوں پر تشدد کرنے والے  مردوں کو بهی   تشدد  کا نشانہ بنایا جائے گا یا جو مرد عورت پر تیزاب  پھینکے گا تو اس پر بهی تیزاب  پھینکا جائے گا۔ تو مولانا حضرات ہڑبڑا کر  اپنے حجروں سے باہر آئیں گے اور فرمائیں گے  کہ اگر ایسا قانون بن گیا تو مردوں کی انا کو چوٹ پہنچے گی . شرح  طلاق میں اضافہ ہو گا. اسلام کے منافی باتوں پر عمل نہیں  ہونے دیا جائے گا .بیانات پر بیانات کا سلسلہ شروع ہو جائےگا خیر چهوڑیئے جناب ہم بهی کیا عورت کا رونا لے کر بیٹھ   گے۔ عورت تو ہوتی ہی پیر کی جوتی ہے اس کو سر پر نہیں  رکھا جا سکتا. انسانی حقوق کمشن نے اپنی رپورٹ میں صرف ان واقعات  کا ذکر کیا  جن کو درج کروایا گیا .  نہ جانے کتنے ہی ایسے واقعات ہوں گے جو درج ہی نہیں  کروائے جاتے ہوں گے یا  پیسے اور طاقت کے زور پر درج کروانے نہیں  دیے جاتے ہونگے، گاؤں والے خود ہی جرگے لگا کر معاملے کو رفع دفع کر دینے میں  اپنی بهلائی  گردانتے  ہوں گے۔ dc-Cover-7k2f8q7ej9bu25j7932tmendi5-20160402090412.Medi عمر کوٹ میں بهی ایک لڑکی کی عزت کو پیروں تلے روندا گیا، اس نیک کام کو سر انجام دینے والے طاقت  پیسے اور مرتبے میں اعلی مقام رکھتے  تهے۔ گاوں کا معاملہ گاوں  میں ہی رکها جائے اس کے لیے جرگہ لگایا گیا وڈیرے نے انصاف کا بول بالا کرتے ہوئے ترازو کے ایک پلڑے  میں لڑکی کی عزت رکھی اور دوسری طرف تیس من گندم۔ دونوں کا وزن برابر جانتے ہوئے یہ فیصلہ کیا یہ تیس من گندم لڑکی کے باپ کو دے دی جائے تاکہ حساب برابر ہو جائے، مگر نہ جانے باپ کو سوجهی کہ وہ اس فیصلے کے آگے سر جهکانے کے بچائے تن کے کھڑا ہو گیا اور گندم لینے سے انکاری ہو گیا اس گستاخی  کی پاداش  میں تمام گهر والوں کو علاقہ بدر کر دیا گیا.وڈیرے کی اس حکمت عملی کی وجہ سے اب   علاقے  میں ہر عورت اور بچی کی عزت محفوظ  ہاتھوں میں ہے.ہم تو قائل ہو گئے وڈیرے سائیں کے انصاف اور معاملہ فہمی کے . اگر دو دو ٹکے  کے لوگ یہ کھیتوں  میں کام کرنے والے کمی کمین سر اٹھانے لگیں تو آقاؤں  کو جهک جهک کر سلام کون کرے گا.جہاں تک سوال ہےاس تیس من گندم کا تو اس کو بچا کر رکھ لیا گیا ہے جلد ہی کسی اور باپ کو دینے کے کام آئے گی۔ سماء

Assault case

MirpurKhas

Gang Rape Settlement

Tabool ads will show in this div