میمو کمیشن نے حسین حقانی کو بلیک بیری کے پن نمبر، بل کےساتھ طلب کر لیا

اسٹاف رپورٹر


 اسلام آباد : میمو کمیشن نے حسین حقانی کو طلبی کا نوٹس جاری کرتے ہوئے، اپنے زیر استعمال بلیک بیری فون کا پن نمبر اور بل فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔ کمیشن نے بلیک بیری سیٹ کا فرانزک ٹیسٹ لندن سے کرانے کیلئے ماہرین کے نام بھی طلب کر لئے۔ آئندہ سماعت 15 مارچ کو ہوگی۔


میمو کمیشن کا 11 واں اجلاس اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوا۔ کمیشن نے مئی 2011 سے نومبر 2011 تک حسین حقانی کے زیر استعمال بلیک بیری کا پن نمبر اور بل کی نقل جمع کروانے کی ہدایت کی۔ 15 مارچ کو حسین حقانی کے وکیل زاہد بخاری منصور اعجاز کے بیان پر جرح کا آغاز کریں گے۔


 کمیشن نے منصور اعجاز کو 15 مارچ کو لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ کمیشن نے قرار دیا کہ اگر جرح ایک دن میں مکمل نہ ہوئی تو 18 مارچ تک روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی جائے گی۔ کمیشن نے منصور اعجاز کے بیان پر جرح مکمل ہونے کے بعد حسین حقانی کی طلبی کا نوٹس بھی جاری کر دیا ہے۔


 کمیشن نے بلیک بیری سیٹ کا فرانزک ٹیسٹ لندن سے کرانے کیلئے ماہرین کے نام بھی طلب کئے ہیں۔ تمام فریقین دو دو نام دے سکتے ہیں، جس کے بعد کمیشن اُن کا چناؤ کرے گا۔ ماہرین کے نام پر اعتراض 9 روز کے اندر اندر کیا جاسکتا ہے۔ سیکرٹری کمیشن تجویز کردہ ناموں کی جانچ پڑتال کریں گے۔


 فرانزک ماہرین بلیک بیری سیٹ میں موجود پیغامات، ڈیلیٹڈ پیغامات، بھیجی اور موصول کی گئی ای میلز کا معائنہ کریں گے۔ اجلاس کے دوران درخواست گزار عبدالقادر بلوچ کے وکیل صلاح الدین مینگل اور نواز شریف کے وکیل مصطفی رمدے نے منصور اعجاز کے بیان پر جرح مکمل کی۔


جرح کے دوران منصور اعجاز نے بتایا کہ ان کے پاس ایسے شواہد ہیں جس میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حسین حقانی اور صدر آصف زرداری ایبٹ آباد آپریشن سے آگاہ تھے۔  انہوں نے کہا کہ بارہ مئی کو انہوں نے ایک نئے نمبر سے حسین حقانی کو کال کی۔ یہ ان کا فیملی نمبر تھا۔ چار منٹ کی اس گفتگو میں دو ایشوز پر بات کی گئی۔


 منصور اعجاز نے مصطفی رمدے کے استفسار پر وہ ٹیلی فون نمبر اور اس کا بل بھی فراہم کیا۔ سماء

کے

کو

نے

لیا

کر

child marriage

طلب

paypal

banned

role

lions

Tabool ads will show in this div