حالات خراب ہیں

SHARIF FAMILY PKG 04-04 IRSHAD

اس ميں کوئی شک نہيں کہ جمہوريت اور جمہوري حکومتوں کےخلاف سازشيں ہوتي ہيں اور ہمارے ملک  میں اکثر جمہوري حکومتيں اسي وجہ سے اپني مدت پوري نہيں کرسکيں ۔کچھ ایسی ہی صورتحال ان دنوں بھي مسلم ليگ ن کي حکومت کےساتھ بھي ہے۔

ن لیگ کي قيادت اپني حکومت سے متعلق سازشوں کا اکثر ذکر کرتی ہے۔چاہے وہ تحريک انصاف اور عوامي تحريک کے ڈي چوک اسلام آباد ميں دھرنے کي صورت ميں ہویا پھر نيب کےکيسز کي شکل ميں، جن سے بچنے میں حکومت تاحال کامیاب رہی۔ اب پانامہ ليکس اور اسکےساتھ ساتھ ملکی امن وامان کي صورتحال پر حکومت پہلے سے کہيں زيادہ مشکل اور دباؤ ميں ہے۔

Lahore-blast

سانحہ گلشن اقبال پارک کےبعد آرمي چيف کےبراہ راست حکم پر پنجاب ميں آپريشن کےشروع ہونے اور پھر ڈي جي آئي ايس پي آر کي وفاقي وزيراطلاعات پرويز رشيد کےہمراہ پريس کانفرنس سے يہ بات واضح ہوگئي تھي کہ مسلم ليگ ن کي حکومت کےليے سب اچھا نہيں ہے مگر اب پانامہ ليکس کے بعد وزيراعظم نوازشريف کے بيٹوں اور بيٹي کےنام آف شور کمپنيوں کي ملکيت کے انکشاف نے’’ سب اچھا نہيں ہے‘‘ کي جگہ ’’بہت کچھ خراب ہے‘‘ نے لے لي ہے۔

وزيرقانون پنجاب راناثناء اللہ کہتےہيں کہ ماضي ميں کسي اشارے پر دھرنا ديکرامپائر کي انگلي کي طرف ديکھنے والے عناصراب پانامہ شيطاني ليکس پر بھی کسي کے اشارے پر احتجاج کررہے ہیں۔

ڈي چوک پردھرنا تو پي ٹي آئي اورعوامي تحريک نے ديا تھا جنہیں ق لیگ اورعوامي مسلم ليگ جيسي چھوٹي جماعتوں کا ساتھ حاصل تھا۔ دوسری جانب حکومت  کو پيپلزپارٹي، جمعيت علماء اسلام،اے اين پي، کسي حد تک جماعت اسلامي اور ايم کيو ايم  کي حمايت حاصل ہونے کے باعث کئي ماہ جاري رہنےوالا دھرنا ناکام رہا۔ ليکن پانامہ ليکس پر صورتحال مختلف ہے،اب ن ليگ کو کسی دوسري سياسي جماعت کا ساتھ حاصل نہيں۔

Pti Imran Speech Jalsa Kakri Ground Khi 29-11

انتخابی دھاندلي پر بننے والے عدالتي کميشن اور اس کی رپورٹ کو بھی تمام جماعتوں نے تسليم کياتھا ليکن پانامہ ليکس کےمعاملے ميں کميشن بنانے پربھي حکومت تنہا ہے۔ کیونکہ دیگر جماعتوں نے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں کمیشن کو مسترد کیا ہے، اگر کمیشن بن بھی گیا تو اسکی رپورٹ کو کون تسليم کرےگا۔ اسطرح حکومت پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔

اميرجماعت سراج الحق  کا تو کہنا ہے کہ وزيراعظم کي جانب سے پاناما لیکس پر کميشن کےاعلان کے بعد شکوک و شبہات کو مزيد تقويت ملي ہے کيونکہ اگرشریف فيملي کلئير ہے توپھرکمیشن سپريم کورٹ کےچيف جسٹس کي سربراہي ميں بنائیں یا پھر نيب سے انکوائری کرائی جائے۔

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان  نے 24اپريل کو ڈي چوک ميں جلسے کا اعلان کيااورساتھ رائيونڈ ميں وزيراعظم کي رہائشگاہ کےسامنے دھرنےکا بھي کہا ہے۔ دوسری جانب حکومت کی اہم اتحادي جماعت جے یو آئی پانامہ ليکس کےمعاملے پر توغیرجانبدار دکھائي دیتی ہے ليکن حکومت کیخلاف مذہبي جماعتوں کے اتحاد کا نہ  صرف حصہ ہے بلکہ ليڈر کا کردار ادا کررہی ہے۔ امیرجےيوآئي مولانا فضل الرحمان بھی اب حکومت سے عليحدگی کےبہانے ڈھونڈ رہےہيں۔ منصورہ ميں مذہبي جماعتوں کےاجتماع سےخطاب کرتےہوئے مولانا نے جماعت اسلامي اور ديگر مذہبي جماعتوں کےليڈروں کو دوبارہ متحدہ مجلس عمل بنانے کي دعوت بھي دے ڈالي ہے۔ یوں اس ميدان ميں بھي حکومت اب مشکل ميں ہے اور حالات خراب ہي نظر آرہےہيں۔

asif-ali-zardari-e1445163541787

ہميں ياد ہے کہ ميمو اسکينڈل ہو، سوات آپريشن يا کوئي اور بڑا مسئلہ، پيپلزپارٹي نے ہميشہ پارليمنٹ کو اپنے ليے ڈھال بنايا اورسابق وزيراعظم يوسف رضاگيلاني نے قومي اسمبلي اورسينيٹ ميں آکر ہر دباؤ اور مشکل گھڑي کو ٹالنے ميں کاميابي حاصل کي ليکن ن ليگ کي حکومت کےساتھ معاملہ مختلف ہے۔ مياں صاحب جب بھي مشکل ميں ہوں تو پہلے اپني کچن کيبنٹ کو طلب کرتےہيں جن کےساتھ من پسند بيوروکريٹس بھي ہوتے ہيں۔ پھر فیصلہ سنایا جاتا ہے یا قوم سےخطاب کياجاتاہےجس میں انہیں فائدے کي بجائے مزيد تنقيد کا سامنہ کرنا پڑتاہے۔

يہ حقيقت سب کے علم میں ہے کہ تحريک انصاف کےدھرنے کےدنوں ميں مياں صاحب کےمن پسند وزراء اور افسران کےمشورے بےسود ثابت ہوئے تو پيپلزپارٹي کےشريک چيئرمين آصف  زرداري ہي تھے جو رائےونڈ ميں مياں صاحب کےگھر گئے اور انہيں پارليمنٹ کامشترکہ اجلاس بلانے کا مفيد مشورہ ديا۔ اس مشترکہ اجلاس میں مختلف سیاسی رہنماؤں کي تقارير نے جہاں حکومت کے موقف کو تقويت دي وہيں پي ٹي آئي کےدھرنے کو کمزور کيا۔

Parliment Joint Session Isb Pkg  22-03

لیکن پارليمنٹ کے اس مشترکہ اجلاس ميں پی ٹی آئی کے مستعفي ہونيوالے جاويد ہاشمي سميت ہر رہنما نے وزيراعظم نوازشريف پر يہي تنقيد کي کہ وہ پارليمنٹ کيوں نہيں آتے اور انہوں نے مشکل وقت ميں جمہوري اداروں کو اعتماد ميں کيوں نہيں ليا جس پر وزیراعظم  نے وعدہ کيا  تھا کہ وہ اب ہر معاملے ميں پارليمنٹ کو ہی اعتماد ميں ليں گے ليکن جب مشکل وقت گزرگيا تو پھروہي غرور، وہي کچن کابینہ اور وہی مشاورتی ہں۔

شايد اب جمہوريت کو خطرہ نہيں ليکن بہرحال حکومت ضرور مشکل ميں ہے اور آنے والے دنوں ميں ان مشکلات ميں کمي کي بجائے اضافے کا ہي امکان ہے جو کسي بھي جمہوري حکومت کے ليے خطرہ ہوتا ہے۔

JUDICIAL COMMISSION

PTI

IMRAN KHAN

jui

ASIF ZARDARI

PM Nawaz Sharif

Panama leaks

Tabool ads will show in this div