اصغرخان پٹیشن،عدالت نےوزارت دفاع سےحساس اداروں کی رپورٹ طلب کرلی

Nov 30, -0001

اسٹاف رپورٹ
اسلام آباد : اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ نے وزارت دفاع سے حساس اداروں کی رپورٹ طلب کرلی۔


چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ ملکی مفاد میں رپورٹ کو خفیہ رکھا جائے گا۔ مہران بینک کے سابق سربراہ نے عدالت کے روبرو چونکا دینے والے انکشافات کردیئے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے اصغر خان کیس کی سماعت کی۔ سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ اسلم بیگ، آئی ایس آئی کے


سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی، مہران بینک کے سابق سربراہ یونس حبیب اور وزارت دفاع کی جانب سے کمانڈر شہباز عدالت میں پیش ہوئے۔

کیس سے متعلق سیل شدہ خفیہ ریکارڈ عدالت میں کھولا گیا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیس کا کچھ ریکارڈ مل گیا ہے کچھ باقی ہے۔


عدالت نے وزارت دفاع سے حساس اداروں کی رپورٹ طلب کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ  ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں وزارت دفاع کی رپورٹ کو خفیہ رکھا جائے گا۔

سابق وزیرداخلہ نصیر اللہ بابر اور اسد درانی پر جرح کا ریکارڈ مل گیا۔ ریکارڈ میں دو آڈیو کیسٹس بھی شامل ہیں۔ چیف جسٹس نے اصغر خان کیس کا ریکارڈ دوبارہ سیل کرنے کا حکم دے دیا۔

یونس حبیب نے تین صفحات پر مشتمل بیان عدالت میں جمع کرادیا۔ یونس حبیب نے کہا کہ انہوں نے اپنی یادداشت کے مطابق بیان میں سب کچھ لکھ دیا ہے۔


یونس حبیب نے عدالت میں اپنا بیان پڑھ کر سنایا اور سنسنی خیز انکشافات کئے۔ یونس حبیب نے کہا کہ اسلم بیگ نے اُن سے کہا


کہ صدرغلام اسحاق خان 35 کروڑ روپے کا بندوبست چاہتے ہیں۔ اسلم بیگ نے  اس وقت کے صدرغلام اسحاق خان سے ان کی ملاقات اسلام آباد کے بلوچستان ہاؤس میں کرائی۔

غلام اسحاق خان نے کہا کہ رقم کا بندوبست کرو، انکار کیا تو ان پر دباؤ ڈالا گیا اور ایف آئی اے کی حراست میں رکھا گیا۔


یونس حبیب نے کہا کہ ان کے پاس صدر اور آرمی چیف کے احکامات ماننے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔

انہوں نے بتایا کہ148کروڑ روپے کا بندوبست کیا گیا، سیاست دانوں میں 34 کروڑ روپے سے زائد رقم تقسیم کی گئی۔


باقی رقم سے حساس اداروں نے سرمایہ کاری کی۔ ان تمام گھپلوں کو مہران گیٹ اسکینڈل کا نام دیا گیا تھا۔


اگر عدالت کہے تو دستاویزات پیش کی جاسکتی ہیں۔ یونس حبیب نے اصغر خان کیس میں عدالت سے معافی مانگ لی۔ سماء

کی

protests

Army Public School

طلب

رپورٹ

cbs

Tabool ads will show in this div