آپریشن راہ نجات،ٹی ڈی پیزکی واپسی کا تیسرا مرحلہ شروع

HDL 2100 p1 11-04 وانا / ٹانک : جنوبی وزیرستان میں محسود متاثرہ خاندانوں کی اپنے آبائی علاقوں کو واپسی کا تیسرا مرحلہ شروع، متاثرین جنوبی وزیرستان کا 1200 افراد پر مشتمل 160 خاندانوں کا پہلا قافلہ فوج اور انتظامیہ کی نگرانی میں روانہ، رواں سال 71 ہزار رجسٹرڈ متاثرین کی اپنے آبائی علاقوں کو واپسی مکمل ہوگی۔ پی اے جنوبی وزیرستان ظفر الاسلام خٹک نے میڈیا سے گفت گو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک فوج کی جنوبی وزیرستان میں آپریشن راہ نجات کی کامیابی کے بعد محسود متاثرہ خاندانوں کی اپنے آبائی علاقوں کو واپسی کا تیسرامرحلہ شروع ہوگیا ہے، متاثرین جنوبی وزیرستان کا 1200 افراد پر مشتمل 160 خاندانوں کا پہلا قافلہ پاک افواج اور پولیٹیکل انتظامیہ کی نگرانی خرگی ٹرانزٹ کیمپ سے روانہ ہوگیا۔ خرگی ٹرانزٹ کیمپ پر پولیٹیکل ایجنٹ جنوبی وزیرستان ظفر الاسلام خٹک،اسسٹنٹ پولیٹکل آفیسر محمد شعیب ،اے پی اے لدھا نجیب اللہ سمیت سول و فوجی افسران نے واپس جانے والے متاثرین کوالوداع کہا۔ پولیٹیکل ایجنٹ جنوبی وزیرستان ظفر الاسلا م خٹک نے خرگی کیمپ میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ رواں مرحلے میں جنوبی وزیرستان کے 143 گاﺅں کے متاثرین کو ان کے آبائی علاقوں پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال 71 ہزار رجسٹرڈ جنوبی وزیرستان کی اپنے آبائی علاقوں کو واپسی مکمل ہوگی، جنوبی وزیرستان میں پاک فوج اور قبائلی عمائدین کی کوششوں سے امن و امان قائم ہوا واپس جانے والے متاثرین کو فری ٹرانسپورٹ ،25 ہزار نقدی سمیت دیگر ضروری سامان بھی فراہم کیا جارہا ہے۔ جنوبی وزیرستان میں تعلیم ،صحت ،آب نوشی اور پختہ سڑکوں کی تعمیر اور متاثرین کی معاشی حالت بہتر کرنے کے لیے اربوں روپے کی خطیر رقم کے منصوبوں پر کام جاری ہے، جنوبی وزیرستان میں قبائلیوں کی معاشی حالت بہتر کرنے اور انھیں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے مختلف انڈسٹریاں قائم کی جائیں گی تاکہ واپس جانے والے متاثرین اپنے پاﺅں پر کھڑا ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کے مکانات کے نقصانات کے ازالہ کہ لیے مکمل تباہ مکان کے متاثرین کو چار لاکھ جبکہ جزوی نقصان والے مکان مالکان کو ایک لاکھ ساٹھ ہزار کے چیک دئیے جا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ متاثرین کی واپسی ،بحالی کے لیے پاک فوج اور وفاقی حکومت تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ خرگی ٹرانزٹ کیمپ میں جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے طالبعلم نسیم خان نے بتایا کہ اس کا تعلق جنوبی وزیرستان کے علاقہ سپلاتوئی سے ہے، جب جنوبی وزیرستان میںشدت پسندوں کے خلاف آپریشن راہ نجات شروع ہوا تو اس وقت میں پانچویں جماعت میں پڑھ رہا تھا۔ مجھے اپنا علاقہ بہت یاد آتا تھا ب گاﺅں جا کر اپنی تعلیم جاری رکھوں گا ان کا کہنا تھا کہ آج میں بہت خوش ہوں کہ اپنے آبائی علاقہ سپلاتوئی آٹھ سال بعد واپس جا رہا ہوں انھوں نے پولیٹیکل انتظامیہ اور پاک فوج کا شکریہ ادا کیا۔ سماء

ZARB E AZB

wana

south Waziristan

coach-oil tanker collision

Tabool ads will show in this div