پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری اورپانامہ لیکس

FILE-PANAMA-ASSETS-REVELATIONS کسی بھی ملک میں بیرونی سرمایہ کاری اس ملک کی معیشت میں اہم حیثیت رکھتی ہے ، جس میں میں بیرونی ملکوں کے لوگ آ کر سرمایہ کاری کرتے ہیں، اس ملک میں خوشحالی بھی آتی ہے اور اگر کسی ملک میں بیرونی سرمایہ کاری نہ ہو وہاں خوشحالی کو آنے میں مشکلات پیش آتی ہیں ۔ پاکستان میں گزشتہ کئی سالوں سے بیرونی سرمایہ کار اپنا سرمایہ لگانے سے گریز کر رہے ہیں، کئی دہشت گردوں نے ان کو ڈرایا ہوا ہے، تو کہیں بیرونی سازشی عناصر بھی غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری سے روکے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں حالیہ دنوں ایک بڑی داستاں سامنے آئی ہے، وہ یہ ہے کہ جو لوگ بڑے بڑے دعویٰ کیا کرتے تھے کہ وہ ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں گے ، پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاروں کے لیے ساز گار ماحول بنائیں گے وغیرہ وغیرہ ، ان سب لوگوں کو اپنی دولت بیرونی ملکوں میں ہے ، یہ بات پانامہ لیکس نے اپنی دستاویزات میں سامنے لائی ہے۔ l_110475_035607_updates پانامہ دستاویزات میں جن ملکوں کے نام آئے ہیں ، ان میں پاکستان ، بھارت ، فرانس ، سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، اسپین ، یوکرائن ، سویڈن ، آئس لینڈ اور برطانیہ شامل ہیں ، آںے والے دنوں میں مزید ملکوں کا نام بھی سامنے آ سکتا ہے ۔ پاکستان کی سب سے مشہور فیملی اور موجودہ حکمران شریف فیملی اس فہرست میں شامل ہے ، وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کا نام براہ راست تو پاناما لیکس دستاویزات میں شامل نہیں ہے لیکن وزیر اعظم نواز شریف کے صاحبزادوں کی آف شوز کمپنیاں سامنے آگئیں ہیں ۔ pm2 اب سوال یہ ہے کہ وزیر اعظم کے صاحبزادے اور صاحبزادی نے یہ کمپنیاں کیسے حاصل کی اور ان کی مدد کس کس نے کی ہے ، وزیر اعظم نواز شریف اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ انہوں نے اپنی اولاد کی آف شوز کمپنیاں حاصل کرنے میں مدد نہیں کی اور یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ وزیر اعظم کے علم میں یہ بات نہ ہو کہ ان کی اولاد کی آف شوز کمپنیاں ہیں ، اگر وزیر اعظم کو اس سب کا پتہ تھا انہوں نے اپنی اولاد کو روکا کیوں نہیں۔ ؟ خاص بات یہ ہے کہ وزیر اعظم نے تیسری بار وزیراعظم کا منصب پانے سے پہلے قوم سے بڑے بڑے وعدے کیے تھے کہ وہ پاکستان سے لوٹی دولت پاکستان کو واپس دلوائیں گے ، سابق صدر آصف علی زرداری کے سوئس اکائونٹ سے پاکستانی قوم کی دولت واپس لائیں گے لیکن وزیر اعظم کا منصب سنبھالنے کے بعد وہ یہ وعدہ بھول گئے ، شاہد اسی لیے کہ ان کی اپنے صاحبزادوں کی دولت بیرون ملک ہے جو ظاہر ہی نہیں کی گئی تھی ۔ مختصر یہ جس ملک کے وزیر اعظم کی دولت بیرون ملک ہو اس ملک میں بیرونی سرمایہ کار آ کر کیسے سرمایہ کاری کریں گے ، بیرونی سرمایہ کاروں کے ذہن میں یہ بات تو ہو گی کہ جب پاکستان کے حکمران خود اپنے ملک میں سرمایہ کاری نہیں کر رہے اور بیرون ملک پیسا لگا رہے ہیں تو وہ پاکستان میں پیسا کیوں لگائیں ۔ Panama-Papersجب تک پاکستان کے حکمران خود پاکستان میں سرمایہ کاری نہیں کریں گے بیرونی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ لگانے پر خلوص دل سے تیار نہیں ہوں گے ، اگر بیرونی سرمایہ کاری پاکستان نہیں آئے گی تو پاکستان کی ترقی میں مشکلات بھی جوں کی توں رہے گی، وزیر اعظم کو اپنی قوم سے کیے وعدے پورے کرنے ہوں گے ، اپنے صاحبزادوں کی دولت پاکستان واپس لانا ہو گی ، اگر وزیر اعظم نے ایسا کیا تو یہ ایک بڑی اچھی مثال ہو گی ، اگر وزیر اعظم نے ایسا نہ کیا تو پھر پاکستانی قوم کو بھی فیصلہ کرنا ہو گا کہ انہوں نے کس کے وعدوں پر یقین کرنا ہے اور بیلٹ کی طاقت سے عوام اپنا فیصلہ سنا دیں گے۔ پاناما لیکس نے آف شوز کمپنیوں کی تفصیلات سامنے لا کر پاکستانی قوم پر احسان کیا ہے ، ان تفصیلات کو سامنے رکھ کر پاکستانی عوام فیصلہ کریں کہ کون کس پانی میں ہے اور کس کو عوام کی قسمت سنوارنے کا حق ملنا چاہئیے۔ سماء

SAMAA Blog

Panama leaks

Offshore Companies

foreign investment

Tabool ads will show in this div