رقم تقسیم کیس: سابق آرمی چیف اسلم بیگ نے یونس حبیبب کےبیان پرجواب حلفی جمع کرادیا

اسٹاف رپورٹ
اسلام آباد : سپریم کورٹ میں ایجنسیز کی جانب سے سیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم کے حوالے سے اصغر خان پٹیشن کیس کی سماعت جاری ہے۔


آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی اور یونس حبیب بھی کمرہ عدالت میں ‌موجود ہیں۔ اسلم بیگ نے یونس حبیبب کے بیان پرجواب جمع کرادیا۔

کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کررہا ہے۔ اسلم بیگ نے یونس حبیب کے بیان پر اپنا بیان حلفی داخل کرایا.


انہوں‌ نے اپنے بیان میں یونس حبیب کے بیان کو یکسر مسترد کردیا۔ چیف جسٹس نے اسلم بیگ سے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان آپ کو دفتر میں جمع کرانا چاہیئے تھا۔


جس پر اسلم بیگ نے کہا کہ بیان صبح موصول ہوا اس لیے براہ راست عدالت میں جمع کرا دیا۔ اسلم بیگ کے وکیل اکرم شیخ نے بیان جمع کرایا


تو ایک پیرا گراف پر سپریم کورٹ نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس سے لگتا ہے کہ آپ عدالت کی عزت نہیں کرتے۔

چیف جسٹس نے اکرم شیخ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو یہ بیان نہیں‌ لانا چاہیئے تھا۔ چیف جسٹس نے اسلم بیگ کو کہا کہ یا تو معافی مانگے


ورنہ عدالت کارروائی کرے گی۔ اس پر اسلم بيگ روسٹرم پر آگئے اور عدالت سے معافی مانگتے ہوئے پيرا گراف نمبر 14حذف کرنے کی استدعا کی


جس پر اسلم بیگ نے تحریری معافی مانگ لی۔ اصغر خان کے وکيل سلمان اکرم راجہ نے اس موقع پر کہا کہ يہ پيراگراف عدليہ کو بدنام کرنے کی کوشش ہے۔

اسلم بیگ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ یونس حبیب نے کل جو سیاستدانوں‌ میں‌ رقم دینے کے حوالے سے عدالت میں بیان حلفی جمع کرایا ہے وہ جھوٹ کا پلندا ہے


اور یہ پاک افواج کی توہین ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتوں کے بارے میں ایسی زبان استعمال نہیں کی جانی چاہیے۔ جسٹس عارف خلجی نے کہا کہ


یہاں یہ کلچر بن چکا ہے ہر کوئی خود کو پارسا اور دوسروں‌ کو غلط سمجھتا ہے۔ چيف جسٹس نے ريمارکس ديئے کہ آپ يہاں گولف کھيلنے آئے ہيں، عدالتوں کو مذاق بنا ليا ہے۔  سماء

چیف

نے

آرمی

military

کیس

reforms

european

assad

ISPR

fateh

Tabool ads will show in this div