مالک؛ پاکستانی معاشرے کے کڑوے پہلو

pak

پاکستان ٹیلی ویژن پر 90ء کی دہائی میں دھواں ڈرامے سے شہرت پانیوالے عاشر عظیم تقریباً 20 برس بعد دوبارہ جلوہ گر ہورہے ہیں، مگر اس بار وہ چھوٹی نہیں بڑی اسکرین پر فلم ’’مالک‘‘ میں اپنی اداکاری اور ہدایت کاری کے جوہر دکھاتے نظر آئیں گے۔

مالک کی کہانی ملک کو درپیش سیاسی مسائل، معاشرے میں پیوست کرپشن اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے گرد گھومتی ہے، عاشر عظیم نے پاک فوج کے سابق کمانڈو کا کردار ادا کیا ہے، میجر اسد کے نام سے عاشر نے اپنے کردار سے بھرپور انصاف کیا اور اپنی جاندار اداکاری کے باعث وہ فلم کے ہر حصے میں چھائے رہے ہیں۔

1

فلم مالک کی کہانی ایک اہم عسکری آپریشن کے گرد گھومتی ہے، میجر اسد (عاشر عظیم) فرائض کی ادائیگی کیلئے اپنے مشن پر جاتے ہیں اور اس دوران گھر پر موجود ان کی اہلیہ ایک ناگہانی حادثے میں زخمی ہوکر بیٹی کی ولادت کے دوران آرمی اسپتال میں انتقال کرجاتی ہیں، میجر اسد کو واپسی پر ان کے افسر اس حادثے کی اطلاع دیتے ہیں جس کے بعد وہ اسپتال پہنچتے ہیں، ان مناظر میں عاشر کے جذباتی انداز اور چہرے کے تاثرات انہیں بلاشبہ ممتاز کرتے ہیں، بچی کی اچھی تربیت کیلئے میجر اسد فوج کی نوکری چھوڑ کر اپنے  فوجی والد کی رہنمائی میں پرائیوٹ گارڈز کی کمپنی کھول لیتے ہیں، اس دوران ان کے فوج کے کچھ ساتھی بھی ان کی کمپنی میں شمولیت اختیار کرلیتے ہیں۔

حسن نیازی نے فلم میں وڈیرے اور سندھ کے وزیراعلیٰ کا کردار ادا کیا ہے، نوجوان حسن نے اپنے مکالمات اور تاثرات سے ولن کے کردار کو بھرپور روپ دیا ہے، انہوں نے بڑے کردار کو باخوبی نبھایا۔ عدنان شاہ ٹیپو بھی حسن کے دست راست کے کردار میں بہترین نظر آئے ہیں، ٹیپو نے اپنے ٹیلی ویژن کے پچھلے تجربے کو بہتر انداز سے استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو بہت متاثر کیا۔

1a

اس فلم میں فرحان علی آغا، عاشر عظیم کے دوست اور فوج کے کمانڈو میجر حیدر کے روپ میں نظر آئیں گے، ساجد حسن نے عاشر کے والد کا کردار ادا کیا ہے، ساجد کو فوج کا جنرل دکھایا گیا ہے۔

محمد احتشام الدین نے اصول پسند ماسٹر محسن کا کردار ادا کیا ہے، انہیں کراچی کے پسماندہ علاقے سے بااثر وڈیرے کیخلاف الیکشن لڑنے کی پاداش میں ذاتی زندگی میں شدید نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

فلم میں ایک افغان خاندان کو سویت دور میں جنگ کے باعث کراچی منتقل ہوتے دکھایا گیا ہے، اس خاندان کا سربراہ کراچی میں محنت مزدوری کرتا ہے جبکہ اس کی بیوی گھروں میں کام کرتی ہے، افغان شخص کی 2 بیٹیاں اور ایک بیٹا بھی ہے۔ اس کی بیٹیاں گھر پر ہی رہتی ہیں جبکہ بیٹا افغانستان میں موجود ہے جہاں وہ شدت پسندوں کے ساتھ عسکری تربیت حاصل کرتا ہے۔

1b

فلم مالک میں حسن نیازی اپنے مخالفین کو اوچھے ہتھکنڈوں سے مات دے کر وزیراعلیٰ سندھ بن جاتا ہے اور لوگوں پر مزید ظلم کرتا ہے، فلم میں حسن کو بطور وزیراعلیٰ غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث بھی دکھایا گیا ہے، علاقے کی پولیس بھی وزیراعلیٰ سے ملی ہوئی ہے اور وہ اس کے ہر جرم سے چشم  پوشی کرتی دکھائی گئی ہے، قاتلانہ حملے میں بچ جانے کے بعد حسن کو اپنی جان کی فکر ہوجاتی ہے اور وہ میجر اسد (عاشر عظیم) کی سیکیورٹی کمپنی کی خدمات حاصل کرلیتا ہے۔

فلم میں بھرپور ایکشن بھی ہے، جدید ہتھیاروں، ہیلی کاپٹروں اور جدت آمیز ٹیکنالوجی کا استعمال اس فلم کی شہرت کیلئے اہم سمجھا جارہا ہے، تاہم فلم کے کچھ حصوں کو غیر ضروری انداز میں طویل کیا گیا ہے، اس طوالت سے فلم کا دورانیہ بھی بڑھا ہے اور لوگوں نے ناگواری کا اظہار بھی کیا ہے، فلم میں شامل کئے گئے بولڈ مناظر بھی اگرچہ مصالحہ کہلائیں گے مگر معاشرے کی اصل صورت کو اس انداز میں اجاگر کرنا بھی اہم تھا۔

فلم کے تمام مناظر حقیقی مقامات پر فلم بند کئے گئے ہیں، بہترین لوکیشن، شاندار کیمرہ ورک اور ساؤنڈ افیکٹس کے بر محل استعمال نے اس فلم کو جاندار بنایا ہے۔

فلم کے گانے  راحت فتح علی خان نے اپنی خوبصورت آواز میں گائے ہیں جبکہ عمران رضا نے گانوں کے بول تحریر کئے ہیں، ساحر علی باگا کی کمپوزیشن نے گانوں میں بلاشبہ جان ڈال دی ہے۔

فلم بینوں کو اُمید ہے کہ مالک کی ریلیز سے پاکستانی سنیما گھروں کی رونق لوٹ آئے گی، عاشر عظیم سے لوگوں نے بہت توقعات وابستہ کرتے ہوئے اُمید کی ہے کہ وہ آئندہ بھی اس نوعیت کی ایکشن اور تھرل سے بھرپور فلم بنائیں گے جس میں معاشر ے کے کڑوے پہلوؤں کو سنیما اسکرین پر لایا جائے گا۔ مالک جمعہ 8 اپریل سے پاکستان کے سنیما گھروں میں نمائش کیلئے پیش کی جارہی ہے۔

انٹرٹینمنٹ

Ali Hassan

Aashir Azeem

Adnan Shah Tipu

Tabool ads will show in this div