غیرشفاف رینٹل پاورمنصوبےمنسوخ کرسکتے ہیں۔ سپریم کورٹ

اسٹاف رپورٹر


 اسلام آباد: چيف جسٹس نے کہا ہے کہ کابینہ کی منظوری پیپرا قواعد کے منافی معاہدوں کو قانونی نہیں بنا سکتی ہے ۔ رینٹل پاورمنصوبوں میں شفافیت نظرنہ آئی تو انہیں منسوخ بھی کیاجا سکتا ہے۔


 رینٹل پاور پروجیکٹس کیس کی سماعت کے دوران چيف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پرانی مشينري سے پوری کارکردگي ممکن ہی نہيں رہتی نیز يہ بھی ديکھنا ہو گا کہ پراني مشينری قبول کرنے کيلئے کيا معياراپنايا جاتا ہےاور سمجھ نہيں آتي کہ لوگ چوردروازے سے کيوں آنا چاہتے ہيں۔


 اس موقع پرجسٹس طارق خلجي  کا کہنا تھا کہ حکومت نے خود چور دروازے کھول رکھے ہيں سيدھا راستہ مشکل بنا ديا جائے توچوردروازہ ترجيح بن جاتا ہے۔


 سماعت کے دوران والٹر پاور کے وکیل شاہد حامد نے بھی اپنا موقف پیش کیا اور بتایا کہ گرڈ کی خرابی کے باعث نو ڈیرو ون کا ایک یونٹ بیٹھ گیا تھا۔


چیف جسٹس نے کہا کہ اشتہار کے بغیر دیئے گئے ٹھیکے شفاف نہیں ہوسکتے ۔ رینٹل پاورمنصوبوں میں شفافیت نظر نہ آئی تو انہیں منسوخ بھی کیا جا سکتا ہے۔ شاہد حامد نے واضح کیا کہ نو ڈیرو ون اورٹو منصوبوں کی منظوری کابینہ نے دی تھی۔


 کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی ہے۔ سماٴ

fans

peru

Tabool ads will show in this div