اسٹیل ملزکیس،26ارب روپےنقصان کی نشاندہی،کارروائی میں تاخیرپرجواب طلب

Nov 30, -0001

اسٹاف رپورٹ
اسلام آباد : پاکستان اسٹیل مل کی فرانزک آڈٹ رپورٹ میں مجموعی طور پر ساڑھے 26 ارب روپے کے نقصان کا انکشاف، سپریم کورٹ نے چھ ماہ کارروائی نہ کرنے پر وزارت پیداوار سے 15 مارچ کو رپورٹ طلب کر لی۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ پاکستان اسٹیل مل کے وکیل فخر الدین جی ابراہیم نے ادارہ کی فرانزک آڈٹ رپورٹ پیش کی۔


ان کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر ساڑھے 26 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ گیارہ ارب 84 کروڑ بدنظمی، چار ارب، 68 کروڑ آپریشنل اور نو ارب 99 کروڑ روپے کا نقصان کرپشن کی وجہ سے ہوا۔

فخر الدین جی ابراہیم نے کہا کہ ذمہ داروں کے خلاف پانچ مقدمات درج کروائے گئے۔ جن کے خلاف مقدمات ہیں، وہ ضمانت کروا لیتے ہیں اور مقدمہ آگے نہیں بڑھتا۔


جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اربوں روپے کا نقصان پہنچا کر پاکستان اسٹیل کو لوٹ لیا گیا ہے، کیوں نہ یہ معاملہ نیب کے سپرد کر دیا جائے۔

پاکستان اسٹیل کے وکیل فخر الدین جی ابراہیم اور وزارت پیداوار نے کیس نیب کے سپرد کرنے کی تائید کی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پہلے اسٹیل مل کو نجکاری سے بچایا لیکن اب کرپشن اسے کھا رہی ہے،


فرانزک آڈٹ رپورٹ اگست 2011 میں سامنے آئی، کسی نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ وزارت پیداوار بتائے چھ ماہ کیوں سوئی رہی۔ سیکرٹری پیداوار گل محمد رند نے بتایا کہ معاملہ ایف آئی اے کو بھجوا دیا ہے۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایف آئی اے کا جو حال ہے وہ سب کے سامنے ہے، جس شخص کو ڈی جی لگایا جاتا ہے اس کے اپنے مفاد ہوتے ہیں۔


پاکستان اسٹیل میں کرپشن کا دنیا بھر کو علم ہے صرف نیب بے خبر ہے، نیب کے پاس عدالتیں ہیں نہ انفراسٹرکچر، نہ ان کی طرف سے کوئی عدالتوں میں پیش ہوتا ہے، صرف زبانی جمع خرچ کیا جاتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پی آئی اے، ریلوے اور پاکستان اسٹیل تمام ادارے تباہ ہو رہے ہیں،ہر جگہ بیڈ گورننس اور کرپشن کی داستانیں عام ہیں۔ ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ ابھی مقدمات درج نہیں ہوئے،


معاملہ ابھی انکوائری سطح پر ہے۔ عدالت نے سیکرٹری پیداوار سے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی میں تاخیر پر رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 15 مارچ تک ملتوی کر دی۔ سماء

میں

کی

طلب

Tabool ads will show in this div