صدرزرداری سے واشنگٹن میں پنتالیس منٹ تک ملاقات ہوئی، منصوراعجاز

Nov 30, -0001

اسٹاف رپورٹر
اسلام آباد: منصور اعجاز نے کہا ہے کہ انہوں نے پانچ مئی دو ہزار نو کو صدر زرداری سے واشنگٹن میں پینتالیس منٹ تک ملاقات کی۔وہ ملاقات کیلئے جہاز کے ٹکٹ اور ایس ایم ایس رابطے کا ریکارڈ دے سکتے ہیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربرہی میں میمو کمیشن کا اجلاس اسلام آباد ہائیکورٹ میں جاری ہے ۔ کشمیری رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعل ملک بھی اجلاس میں پہنچ گئیں،اجلاس شروع ہوا تو اکرم شیخ نے کہا کہ اٹارنی جنرل اپنی پوزیشن واضح کریں کہ وہ کس کی جانب سے منصور اعجاز پر جرح کر رہے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں کمیشن کی مدد اور حکومت پاکستان کی جانب سے پیش ہوئے ۔ اس پر کمیشن نے اکرم شیخ کا اعتراض مسترد کر کے اٹارنی جنرل کو جرح کی اجازت دی۔ اٹارنی جنرل نے منصور اعجاز سے سوال کیا کہ کیا سال دوہزار سے لے کر اب تک ان کے لکھے گئے آرٹیکلز لیپ ٹاپ میں موجود ہیں تو منصور اعجاز نے کہا کہ تمام آرٹیکلز لیپ ٹاپ میں موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے دو مرتبہ سی این این کیلئے آرٹیکلز لکھے تاہم انہوں نے کہا کہ وہ سی این این کے رائٹر ڈیوڈ فرم کو ذاتی طور پر نہیں جانتے، لیکن وہ ہمیشہ ان کے خلاف لکھتا ہے، اٹارنی جنرل نے سوال کیا کہ کیا آپ نےآٹھ دسمبر دو ہزار گیارہ کو ڈیوڈ فرم کا شائع ہونے والا آرٹیکل پڑھا ہے اس پر منصور اعجاز نے کہا کہ انہوں نے نہیں پڑھا لیکن ان کے خلاف ہی ہو گا۔ اس دوران فنی خرابی کے باعث رابطے میں خلل پڑا جو تھوڑی دیر میں  دور ہو گیا ۔ پھر اٹارنی جنرل نے منصور سے سوال کیا کہ کیا ان کی پانچ مئی دوہزار نو کو نیویارک میں صدر زرداری سے پینتالیس منٹ ملاقات ہوئی تو منصور اعجاز کا جواب تھا کہ ملاقات نیویارک نہیں واشنگٹن میں ہوئی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ وہ جہاز کے ٹکٹ، ایس ایم ایس رابطے کا ریکارڈ دے سکتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ اس ملاقات میں بلاول بھٹو زرداری اور حسین حقانی بھی موجود تھے۔
اٹارنی جنرل کی منصور اعجاز پر جرح مکمل ہوئی تو حسین حقانی نے بھی بیان اور جرح ویڈیو لنک کے ذریعے  ریکارڈ کرانے کی استدعا کر دی ان کے وکیل زاہد بخاری نے کہا کہ بات یہ نہیں کہ حقانی پاکستان آئیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ کمیشن کے سامنے پیش ہوں، حقانی اس وقت لندن سے میمو کمیشن کے اجلاس میں  شریک ہیں تاہم جسٹس قاضی فائز عیسی  نے کہا کہ حسین حقانی نے چار دن کے نوٹس پر پاکستان آنے کی یقین دہانی کروائی تھی، ہم نے پندرہ روز قبل انہیں نوٹس دیا تھا مگر وہ ابھی تک پاکستان نہیں آئے۔

میں

سے

puppet

drops

marred

reference

Tabool ads will show in this div