تاخیر کریں گے تو پھر کوئی اور کرے گا

three window army chife & nawaz & rangers

دو ماہ قبل جنوری ميں پنجاب حکومت نے صوبے کے قبائلی اور جنوبی علاقوں ميں آپريشن کا فيصلہ کيا، جس کی تصديق 22 جنوری کو وزير قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے سماء سے بات کرتے ہوئے کی اور اس آپريشن کی منظوری رائيونڈ ميں وزيراعظم نواز شريف نے امن و امان پر ہونيوالے اجلاس ميں دی، ليکن يہ آپريشن نہيں کيا گيا، کيوں نہيں کيا گيا اس کی وجوہات تو وزيراعلیٰ شہباز شريف يا پھر کم از کم رانا ثناء اللہ بتاسکتے ہيں تاہم ميڈيا کے بارہا استفسار کے باوجود يہ وجوہات نہيں بتائی گئيں۔

RANA SANA SOT 31-03

دو ماہ بعد لاہور کے گلشن اقبال پارک ميں بدترين دہشت گردی کا واقعہ خودکش حملہ ہوتا ہے، جس ميں 70 سے زائد قيمتی جانيں بچوں اور عورتوں سميت ضائع ہوجاتی ہيں اور 300 سے زائد افراد زخمی ہوتے ہيں اور پھر ماڈل ٹاؤن لاہور ميں وزيراعظم نواز شريف کی زير صدارت ايک اور امن و امان کے حوالے سے اجلاس ہوتا ہے، جس ميں وفاقی وزير داخلہ چوہدری نثار، وزيراعلیٰ پنجاب شہباز شريف، رانا ثناء اللہ اور افسران شرکت کرتے ہيں اور پھر وزيراعظم دوبارہ ہدايت ديتے ہيں کہ اب صرف قبائلی علاقوں ميں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں ميں ہی نہيں بلکہ پورے صوبے ميں آپريشن کيا جائے۔

بڑے مياں صاحب کی اس ہدايت کی خبر نشر ہونے کے ٹھيک 2 گھنٹوں کے بعد ایک اور خبر يہ آجاتی ہے کہ آرمی چيف کے حکم پر فوج نے آپريشن کا اغاز کرديا اور 5 مقامات پر لاہور، فيصل آباد اور ملتان سميت آپريشن ميں گرفتارياں کی گئی ہيں۔ بس اس کے بعد پنجاب اور وفاقی حکومت بلکہ نون ليگ کی حکومت کی چند گھنٹے کی خاموشی کے بعد وزير قانون پنجاب رانا ثناء اللہ ميدان ميں اترتے ہيں اور کہتے ہيں کہ کوئی نيا آپريشن شروع نہيں کيا گيا ہے بلکہ وزيراعظم کی ہدايت پر پہلے سے جاری آپريشن کو مزيد تيز کيا جائے گا، جس کو سی ٹی ڈی اور پوليس کرے گی، جہاں رينجرز اور فوج کی ضرورت ہوگی، مدد لی جائے گی۔

Lahore-blast-4

رانا ثناء اللہ کے اس بيان کے بعد يہ کنفيوژن پيدا ہوگئی کہ آپريشن کون کون کررہا ہے اور اس کو وزيراعظم ليڈ کررہے ہيں يا پھر براہ راست آرمی چيف جنرل راحيل شريف ہی اس کے نگران کے فرائض انجام دے رہے ہيں، تاہم اس رات فوج کے ساتھ ساتھ پوليس اور سی ٹی ڈی بھی کارروائيوں کا آغاز کرتی ہے اور رانا ثناء اللہ کے مطابق 25 گھنٹوں ميں 5 ہزار سے زائد فورتھ شيڈولرز کو حراست ميں لے ليتي ہے جس ميں سے صرف 216 کو حراست ہی ميں رکھا جاتا ہے جبکہ باقی تقریباً 5 ہزار افراد کو چھوڑ ديا جاتا ہے۔

BLAST SPOT LHR 27-03003

يہاں تک تو يہ سمجھ آگئی کہ آپريشن سب کررہے ہيں اور دہشت گردی کیخلاف جنگ ميں پوری قوم اور قانون نافذ کرنيوالے ادارے متحد ہيں، ليکن وفاقی وزير اطلاعات و نشريات اور ڈی جی آئی ایس پی آر ليفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کی مشترکہ پريس کانفرنس ميں يہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ آرمی چيف ہی آپريشن کو ليڈ کررہے ہيں اور انہوں نے ہی اس آپريشن کے شروع ہونے کے احکامات دیئے اور ترجمان پاک فوج نے بتايا کہ ملک بھر ميں جہاں بھی دہشت گردوں کی کمين گاہوں کے بارے ميں انٹیلی جنس ملے گی آپريشن کيا جائے گا اور اس وقت بھی پنڈی اور ملتان کے علاقوں ميں مسلح افواج آپريشن کررہی ہے۔

PAKISTAN-UNREST-EXPLOSION

یہ بات اس وقت مزيد واضح ہوگئی جب ساتھ بيٹھے پرويز رشيد نے اس سے اختلاف نہيں کيا، اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ جب وزيراعظم صاحب يا سويلين حکومت ايکشن کا فيصلہ کرنے کے باوجود اس ميں تاخير کرے گی تو پھر آرمی چيف کو ہی براہ راست حکم ديکر آپريشن شروع کرنا پڑتا ہے۔ پنجاب حکومت اپنی رہی سہی عزت کو بچانے کیلئے اب آپريشن کررہی ہے ليکن بلا شبہ اس کی قيادت عسکری حکام ہی کررہے ہيں۔

PM

RAHEEL SHARIF

PUNJAB

کالمز / بلاگ

War on Terror

Tabool ads will show in this div