جسقم کارکنوں کی فائرنگ،تیرہ سالہ بچہ قتل،وزیرداخلہ کا تحقیقات کا حکم

Nov 30, -0001

اسٹاف رپورٹ
کراچی :گلستان جوہر کے علاقے میں فریڈم مارچ کے دوران دکان کھلی رکھنا جرم بن گیا۔ پنکچر کی دکان پر بیٹھے تیرہ سالہ بچے کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔


وزیر داخلہ سندھ نے واقعے کی عدالتی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور آئی جی سندھ سے اڑتالیس گھنٹوں میں رپورٹ طلب کرلی۔

مقتول ندیم احمد کی ماں بیٹے کی موت کی خبرسن کر نیم دیوانی ہوگئی۔ مقتول ندیم کی جھونپڑی میں ہرطرف غربت کا راج دکھائی دیتا ہے۔ مقتول ندیم نے وطن کی محبت میں جھونپڑی پر قومی پرچم لگا رکھا تھا۔


جو اب بھی لہراہا رہا ہے۔لیکن ندیم اب اس دنیا میں نہیں رہا۔  ندیم کو سیاسی جماعت کی ریلی کے موقع  گلستان جوہر کامران چورنگی پر گولویں کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ اس نے اپنی پنکچر کی دکان بند کرنے سے انکار کردیا تھا۔

ندیم کی لاش گھر پہنچی تو بہن اور دیگر رشتے داروں کا رو روکربراحال ہوگیا۔ علاقہ مکینوں نے  کامران چورنگی پرٹائرجلائےاور روڈ کو بلاک کردیا۔ مظاہرین قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کررہے تھے۔ مقتول ندیم کی تدفین رحيم يارخان کے آبائی گاؤں میں کی جائے گی۔ 
 
مقتول نديم احمد کا کسی سياسی جماعت سے کوئي تعلق نہيں تھا مگر پھر بھي وہ جسقم کی فائرنگ کا نشانہ بن گيا۔ نديم کي والدہ کا کہنا ہے کہ جب تک اس کے قاتلوں کو گرفتار نہيں کيا جائے گا اس کو چين نہيں ملا گا۔ سماء

کی

کا

Edhi

تحقیقات

Tabool ads will show in this div