کیا ڈولفنز فورس بھی ۔۔۔۔؟

اداسد تحریر : محمد قربان ليجئے لاہور ميں اسٹريٹ کرائم کے خاتمے کے لئے ڈولفن کے نام سے نئي فورس وجود ميں آ گئي ہے، شہر ميں چورياں ڈاکے قتل وغارت راہزني جيسي وارداتيں روکنے کے لئے اس فورس ميں کل دو ہزار چودہ اہلکار بھرتي کرنے کا منصوبہ ہے جس ميں سے چھ سو اٹھاسي اہل کاروں کا پہلا چاک و چوبند دستہ پاس آوٹ ہوکر ميدان ميں نکل آيا ہے۔ بريٹا جيسے جديد اور مہنگے پستول کے ساتھ  ہيوي بائيک پر مہنگے ترین ہيلمٹ پہن کر جب ڈولفنز سڑکوں پر نکلیں گے تو گويا چوروں ڈاکووں کو سانپ سونگھ جائے گا اور راوي چين ہي چين لکھے گا۔ شہر امن کا گہوارہ بن جائے گا۔ يہ ہے وہ خواب جو خادم اعلي پنجاب نے صوبائي دارالحکومت کے شہريوں کے لئے ديکھا ہے۔ فسفسدفسد اللہ کرے خادم اعليِ کا يہ خواب اب ہي سچ ہو جائے کہيں اس فورس کا حال بھي ان فورسز کي طرح نہ ہو جو اس سے پہلے اسي جوش و جذبے سے متعارف کروائي گئيں۔ اسي کي دہائي ميں شاہين فورس کے نام سے ايک فورس بنائي گئي، جس کا مقصد بھي اسٹريٹ کرائم کا خاتمہ تھا ليکن لال ٹوپياں پہن کر يہ فورس لڑکيوں کے اسکولوں کالجوں کے باہر آوارہ گردي کرنے والے لڑکوں کو تھپڑ مارنے کے سوا کوئي قابل قدر کارنامہ انجام نہ دے سکي اور آہستہ آہستہ يہ لال ٹوپياں دوبارہ نيلي ٹوپيوں ميں بدل کر پنجاب کي روايتي پوليس کا حصہ بن گئيں۔ مجاہد فورس بني تو ناکے ان کے حوالے کر ديئے گئے۔ ايک وقت وہ بھي تھا کہ شہر کے داخلي و خارجي راستوں پر لگے ناکوں پر ڈيوٹي لگوانے کے لئے اہل کار اچھي خاصي رقم خرچ کر ديتے تھے اور خرچ کي گئي رقم سے کہيں زيادہ وہ روزانہ ان ناکوں سے کما ليتے تھے، یہ فورس اب بھي ناکوں پر بغير کاغذات موٹر سائيکل چلانے والوں کو پکڑ کر ديہاڑياں لگانے کے سوا کچھ نہيں کرتي۔ گفدگفدگفد ايلييٹ فورس تشکيل دي گئي تو دعویٰ کيا گيا کہ بہترين ٹريننگ کے ساتھ سڑکوں پر نکلنے والے ان کمانڈوز کي موجودگي ميں کوئي پرندہ بھي پر نہيں مار سکے گا اور لاہور امن و آتشی کا عملي نمونہ بن جائے گا ليکن يہ خواب بھي ادھورا رہ گيا اور آج ايليٹ فورس کے يہ جوان وزيروں مشيروں سميت اہم سياستدانوں کي گاڑيوں کے ساتھ گاڑياں دوڑاتے نظر آتے ہيں، ان کي ساري ذمہ داري صرف وي وي آئي پيز کا تحفظ ہے، ان کا عوام سے کوئي لينا دينا نہيں۔ ففدفددپھر بني کوئيک رسپانس فورس، موٹر سائيکلوں پر گشت کرنے والي اس فورس کا ہدف بھي بڑے ہوٹلوں سے شراب لے جانے والوں کو پکڑ کر ديہاڑي لگانا يا موٹرسائيکل چلانے والے کم عمر بچوں کو پکڑ کر ان کے والدين سے رقم بٹورنے تک محدود ہے، يہ فورس بھي آج تک کسي چور ڈاکو کو پکڑنے ميں کامياب نہيں ہوسکي۔ حال ہي ميں پولیس ایمرجنسی رسپانس یونٹ کے نام سے لاہور ميں ايک اور فورس کا  قيام عمل ميں آیا ہے۔ دو ہزار پندرہ ماڈل کي لش پش ٹويوٹا کرولا کاروں ميں گشت کرنے والي يہ فورس بھي صرف گشت تک محدود ہے اور توقع کي جا رہي ہے کہ گاڑياں دھکا اسٹارٹ نہ ہونے کي وجہ سے جلد ہي اس فورس کو بھي وزيروں مشيروں کي گاڑيوں کا راستہ بنانے کے لئے استعمال کيا جائے گا۔ ساسا لاہور ميں ڈکيتي کي سو سے زائد وارداتوں کے روزانہ مقدمات درج ہوتے ہيں اور اس سے کہيں زيادہ وہ وارداتيں ہيں جن کے مقدمات يا تو درج نہيں کئے جاتے يا لٹنے والے اس جھنجھٹ ميں پڑنا نہيں چاہتے اور پوش علاقوں ميں وارداتوں کي يہ شرح ستر فيصد ہے اور ان کے پاس ويسے بھی لٹنے کے بعد اتنا وقت نہيں ہوتا کہ وہ ایف آئی آر درج کروانے کے لئے پوليس کے الٹے سيدھے سوالوں کا جواب ديتے پھريں۔

PUNJAB

police force

Mujahid Force

Tabool ads will show in this div