آگے گڑھا، پیچھے کھائی

shahbaz-visits-flood-hit-ar

تحریر: نعیم اشرف بٹ

خادم اعليٰ شہبازشريف کي جلد بازيوں اور شوبازيوں نے نہ صرف انہيں بلکہ انکےساتھ پنجاب اور وفاقي حکومت کر بري طرح کشمکش اور پريشاني ميں ڈال ديا ہے۔ اس پريشاني کي وجہ ہے تحفظ خواتين قانون، جسےاسمبلي ميں پيش کرنے اور پھر منظوري سےپہلے نہ تو اسلامي نظرياتي کونسل اور نہ ہی حکومتي اتحاديوں کو اعتماد ميں لياگيا۔ بلکہ ن ليگ کےاکثر مرد ارکان اسمبلي سےبھي کوئي رائےنہيں لي گئي ، بس وزيراعلیٰ کے شاہي فرمان پر پنجاب اسمبلي نےبل متفقہ طورپر منظور کرليا۔

تحفظ خواتين بل منظور ہونےکے فورا بعد اسمبلي ہي ميں حکومتي ايم پي ايز نے برملا اسکي مخالفت شروع کردي اور اسے خانداني نظام کي تباہي اور طلاق ميں اضافے کا باعث قرارديا بلکہ پنجاب حکومت کےاپنے ترجمان زعيم قادري نےبھي کھل کر اس قانون کےخلاف بيان ديتےہوئے مردحضرات کےليےبھي عليحدہ سے قانون بنانے کا مطالبہ کرديا۔ليکن ہر کوئي جانتا ہے کہ ترجمان سميت ن ليگ کےارکان اسمبلي کي خادم اعلیٰ کےسامنے کوئي اہميت نہيں ہے، اس لیے انکي تنقيد کا کوئي نوٹس نہيں لياگيا بلکہ اسے حکومت کے کريڈٹ کےطورپر پيش کياجاتارہا۔بس پھر مولانا فضل الرحمان کي انٹري ہوتي ہے۔ مولانا اس بل کو پاس کرنيوالي اسمبلي کو ہي زن مريدوں کي اسمبلي قراردےديتےہيں اور اس قانون کا کريڈٹ لينےوالے خادم اعليٰ کو مولانا نے کريڈٹ ديتےہوئےگھر کےخادم اعليٰ قراردےڈالا۔

Fazal Ur Rehman And Rehman Malik Meeting Isb 24-10

مولانا کي تنقيد کو شروع ميں تو پنجاب حکومت نےمحض ايک تنقيد يا مذاق سمجھاليکن جب جماعت اسلامي کےامير سراج الحق کي جانب سے اس قانون کي مخالفت اور پھر بغير کسي ناغے کےروزانہ مولانا کي تنقيد نے خادم اعليٰ کو احساس دلايا کہ اب پاني سر سےاوپر جانےکاخطرہ ہے۔اسليے مولانا سےرابطہ کرنے کا فيصلہ کياليکن فضل الرحمان نےشہبازشريف کو ملنےسےانکار کرديا۔ پھرقانون پر نظرثاني کےليے وزيرقانون پنجاب کي سربراہي ميں کميٹي تشکيل دي گئی جس ميں علماء کرام کو بھي شامل کياگياليکن مولانا نے اس کميٹي کو بھي ماننے سےانکار کرديا۔

مولانا کےانکار کےبعد چھوٹے میاں صاحب نے بڑے میاں صاحب سے رابطہ کیا اورپھر وزيراعظم نوازشريف نے مولانا فضل الرحمان کو ملاقات کےليےجاتي عمرہ لاہور ميں ملاقات کي دعوت دے دي۔ ملاقات ميں مولانا کےتحفظات دور کرنے کےوعدے کےساتھ وزيراعظم نے چھوٹے مياں صاحب سے ناراضي کا اظہار بھي کيا ليکن معاملہ ادھر ختم نہيں ہوا۔اس ملاقات کے اگلے ہي روز منصورہ ميں مذہبي جماعتوں کےاجتماع ميں بات قانون ميں تراميم سےآگے چلي گئي اور مشترکہ اعلاميےميں پنجاب حکومت سے تحفظ خواتين قانون واپس لينے کا مطالبہ کرديا گیا۔ اس کےليے ستائيس مارچ کي ڈيڈ لائن بھي دے دے گئی۔

WOMEN DAY PKG 08-03 IRSHAD

اب يہ تو تھي ايک انتہاليکن دوسري جانت بھي انتہا ہي ہے۔ اس قانون کو اسمبلي سےمنظور کروانے والي خواتين ارکان اسمبلي اور سول سوسائٹي بھي قانون کو واپس لينا تو درکنار،اس ميں ترميم کےليےبھي تيار نہيں ہے۔ خواتين ارکان اسمبلي کا کہناہے کہ ايک دفعہ قانون بناکر پھر اس ميں تراميم سے نہ صرف قانون کمزور ہوگا بلکہ ان بےبس اور کمزور خواتين پراس اک منفی تاثر پڑےگا جو ايک لمبے عرصے سے مردوں کا تشدد خاموشي سےبرداشت کررہي ہيں۔اور خاص طورپر آٹھ مارچ کو خواتين کےعالمي دن کےحوالے سے ايوان اقبال لاہور ميں وزيراعليٰ کي زيرصدارت تقريب ميں تو تمام حکومتي شخصيات نے قانون پر تنقيد کو مسترد کرتےہوئےاس قانون کےحق ميں بھرپور دلائل بھي دے رکھے ہیں۔

خواتين کا موقف ہے کہ اگر راہ چلتی لڑکيوں کو تنگ کرنےاور چھيڑ چھاڑ کرنيوالے مردوں کو کڑا نہ پہنايا جائے اور شديد تشددکرنےوالے مرد کو کچھ دير کےليےگھر سے باہر نہ نکالاجائے،ايسےگھر يا مقام پر پروٹيکشن افسر نہ جائےتو اس پر تنقيد کرنيوالے علماء اسکا متبادل بھي بتاديں۔محض  قانون کو بغيردليل کےغيراسلامي قرارديکر اپني سياست چمکانا درست نہيں ہے۔خواتين کےان سوالات کا في الحال نظرثاني کميٹي ميں شامل علماءکرام کےپاس کوئي جواب ہے اور نہ ہي وہ اس کا متبادل بتا سکتے ہیں ۔

PM Women Committee Isb Pkg 02-03

خواتين ارکان اسمبلي کو مولانا فضل الرحمان کي تنقيد کا جواب دينے کےليے ايک اور مضبوط دليل اس طرح ملي ہے کہ بلوچستان اسمبلي نےدوہزارچودہ ميں ڈوميسٹک تشدد سے بچاؤکےنام سے پنجاب کي طرزکا قانون منظورکياہوا ہے اور اس منظوري ميں مولانا کي جماعت جمعيت علمائےاسلام کےآٹھ ارکان کےووٹ بھي شامل ہيں۔ بلوچستان کے قانون ميں بھي متاثرہ خاتون کو زبردستي گھر سےنکالنے پر پابندي،پروٹيکشن افسرکو متعلقہ گھر ميں داخل ہونے کي اجازت اور تشدد کرنيوالے کو گھر سے باہر نکالنے کي شق بھي شامل ہے۔

اب يہ ہيں دوانتہائيں جس ميں خادم اعلیٰ کےجلد بازي کےشاہي فرمان نے حکومت کو پھنسا ديا ہے۔آگے گڑھا اور پيچھےکھائي۔ کچھ بھي ہو،موجودہ حالات ميں شہبازشريف اور انکي حکومت دونوں انتہاؤں کو راضي نہيں کرپائےگي کيونکہ ايک طرف بات صرف مولانا کي صورت ميں حکومتي اتحادی کي نہيں بلکہ تمام مذہبي جماعتوں کا مشترکہ مطالبہ ہے۔تو دوسري جانب خادم اعلیٰ پانچويں گيئر پر ايک سو بيس کي اسپيڈ سے قانون منظور کروا کردوسوچاليس کي اسپيڈ سے اسکا کريڈٹ بھي لےچکےہيں۔

cm punjab

pm nawaz

Women Protection Bill

Tabool ads will show in this div