وزیراعلیٰ کےدعوؤں پردعوے،تھرکو2سال میں میٹھاپانی فراہم کرنےکا دعویٰ

کراچی : وزیراعلیٰ قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ وہ دن اب دور نہیں جب تھر کے باسی میٹھا پانی پی سکیں گے، انہوں نے اپنی دعوؤں کی فہرست میں مزید اضافے کرتے ہوئے تھر پارکر کے لوگوں کو دو سال کی مدت میں میٹھا پانی فراہم کرنے کا دعویٰ بھی کر ڈالا۔

تھر کے قحط زدہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کا آغاز ہوگیا ہے، تاہم حکام کی توجہ صرف مٹھی تک ہی محدود ہے، حکومت سے زیادہ فلاحی تنظیمیں فعال نظر آ رہی ہیں، جب کہ سائیں کے دورے کے بعد بھی سرکاری اسپتال سے شکایات تاحال جوں کی توں ہیں۔

وزیراعلٰی سندھ نے مٹھی میں نیوز کاننفرنس کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کو گندم کی امداد دگنی کرنے کا اعلان کر ڈالا، ان کا کہنا تھا کہ ہر متاثرہ خاندان کو 25 کے بجائے 50 کلو گندم دی جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بچوں کی ہلاکتوں کی تعداد نہیں بتا سکتا۔

قحط سے ہلاک افراد پر وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کو بالا آخر ترس آہی گیا، جب ہی کئی روز گزرنے کے بعد انہوں نے لواحقین کے لئے آٹے میں نمک کے برابر 2 ، 2 لاکھ روپے امداد کا اعلان کر ڈالا، مگر جناب اسی پر بس نہیں ہوا، صوبے کے وزیراعلیٰ نے تو پریس کانفرنس میں بچوں کی اموات سے متعلق لا علمی ظاہر کرکے اپنی خیر گیری کا بھی مظاہرہ کر ڈالا۔

پریس کانفرنس سے خطاب میں وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ متاثرہ علاقوں میں پھنسے افراد تک پہنچنا چاہتے ہیں، دور دراز کے متاثرہ علاقوں میں 14 موبائل ڈسپنسریاں بھیج رہے ہیں، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری دن میں 4 مرتبہ مجھ سے تھر کی صورت حال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔

تھر کے شہر مٹھی میں اعلی سطح کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کے دوران وزیر اعلی سندھ کا کہنا تھا کہ تھر کے متاثرین ہمارے بھائی ہیں ہم ان کے دکھ بانٹنا چاہتے ہیں، ہم اپنے آپ کو عوام کے سامنے جوابدہ سمجھتے ہیں اس سلسلے میں جو بھی کوتاہیاں ہوئی ہیں اس کا ازالہ کریں گے لیکن اس کے لئے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، انہوں نے کہا کہ ضلع میں نئی انتظامیہ آئی ہے امید ہے کہ وہ جلد ہی صورت حال پر قابو پالے گی۔

قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ تھر متاثرین کی مدد کے لئے امدادی کاموں میں کچھ مشکلات ہیں جنہیں جلد ہی دور کرلیا جائے گا۔ علاقے میں موبائل ڈسپینسریاں کام کررہی ہیں جبکہ کراچی سمیت دیگرعلاقوں سے ڈاکٹروں کی ٹیمیں بھی پہنچ گئی ہیں،اس کے علاوہ مال مویشیوں کو بچانے کے لئے بھی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ  جاں بحق بچوں کے لواحقین کو فی کس 2 ، 2 لاکھ روپے دیے جائیں گے، یہ امدادی رقم اسی ہفتے فراہم کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ سندھ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری دن میں 4 بارتھرکی صورت حال کا پوچھتے ہیں، وہ مٹھی پہنچنے تک راستے میں ان کا 2 مرتبہ فون آیا اور متاثرین کے بارے میں دریافت کیا۔ سماء

ban

AML

tsunami

9/11

Asad Khattak

Sindh Government

چیئرمین

aid

battle

Tabool ads will show in this div