کڑا اورغیرت

 Women Protection Bill Lhr Zubair Pkg 29-02

پنجاب اسمبلی سے حقوق نسواں کا بل کیا منظور ہوا، مذہبی جماعتوں کی جانب سے ایک طوفان برپاکردیا گیا۔اب تو یہ دھمکی بھی دے دی گئی ہے کہ اگر 27 مارچ تک یہ قانون واپس نہ لیا گیا تو تحریک چلائیں گے ۔مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ اس قانون کے تحت مرد کو کڑا پہنا یاجائے گا جو کسی طور ان کی غیرت گوارہ نہیں کر ے گی۔مولاناصاحب کے اس بیان نے سوچ کے کئی در وا کر دیے۔

پاکستان میں ہرچیز کو اپنی مرضی کا رنگ دے کر روایت بنا لیا جاتا ہے۔نہ اس کا تعلق اسلام سے ہوتا ہے نہ ملکی قانون سے۔اور تواور غیرت بھی صرف عورت سے وابستہ ہے اس کا مرد کی کسی بات سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔عورت پسند کی شادی کرے تو مردوں کی غیرت اس کو گوارہ نہیں کرتی ۔ انہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اسلام نے عورت کو یہ حق دیا ہوا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے شادی کر سکتی ہے ۔اگرچہ طریقہ کار پر اختلاف ہوسکتا ہے لیکن جبرا شادی کی کوئی گنجائش نہیں۔ البتہ مرد کو پوری اجازت ہے کہ جتنی مرضی شادیاں کرے کیونکہ یہ بھی تو مردوں کی شان ہے اس کا غیرت سے کوئی تعلق نہیں۔

punjab-women-protection-bill-prepared-with-consultation-of-society-scholars-1456656844-6871

لڑائی جھگڑا ہوجائے۔ کسی کا قتل کر دے تو صلح صفائی کے لئے اپنی بہن کو ونی کردے، مرد کی غیرت گوارہ کر لے گی کیونکہ یہ تو مردوں کا کام ہے اور عورت کایہی کام ہے کہ ان کی غیرت پر قربان ہوتی رہے۔اس سے غیرت کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کی بہن کسی دشمن کے گھر چلی جائے اس کے ساتھ انسانیت سوز سلوک ہو، وہ آدمی اس کی عمر کا ہے یا اس سے بڑا ،بس غیرت کا پاس رہ جائے۔غیرت کو اس سے بھی فرق نہیں پڑتا جب جائیداد کو گھر رکھنے کے لئے لڑکیوں کی شادیاں قران سے یا خاندان کے کسی نیم پاگل سے کردی جاتی ہیں۔بس جائیداد بچ جائے غیرت کو بعد میں دیکھ لیں گے۔

کسی عورت کے ساتھ زیادتی ہوجائے اور وہ بےچاری انصاف کی خواہاں ہو تو ہماری غیرت کو ایک دم پھر دھچکا لگ جاتا ہے اور جس بد بخت نے یہ کیا ہوتا ہے اس کو مردانگی کے نام پر چھوٹ مل جاتی ہے۔غیرت کووہ تمام گالیاں بھی قبول ہیں جو ماں بہن اور بیٹی کے نام پر دی جائیں۔ماں جس کے قدموں تلے جنت اور بیٹی جو اللہ کی طرف سے رحمت ہے ہم اس کے نام پر گالیاں دینا فخر سمجھتے ہیں اور غیرت کہیں پرے منہ لپیٹے سو رہی ہوتی ہے ۔عورت پر تشدد کرو،تیزاب پھینکو یاکاروکاری کردو۔سب چلتا ہے لیکن  جہاں کسی مرد کی زیادتی پر اسے موردالزام ٹھہرا کر کڑا پہناؤ،وہاں غیرت آڑے آ جاتی ہے۔

band

جہالت کے باعث ہم اپنی بچیوں کو پڑھاتے تک نہیں۔مرد کو عورت کا محافظ بنایا گیا ہے لیکن جب ہم ان کو سرعام رسوا کرتے ہیں تب غیرت نہیں آتی۔ملک میں بڑھتے ہوئی جرائم کی شرح پر غیرت دم دبا کر بھاگ جاتی ہے۔ہم جہالت،تعصب،فرقہ واریت،جرائم، تشدد،عصمت دری،اغواء برائے تاوان،کاروکاری کسی پر غیرت نہیں کھاتے بس ہماری غیرت عورت سے منسوب ہے۔ایک کڑا پہننے سے ہماری غیرت کو کاری ضرب لگتی ہے لیکن کسی عورت پر اٹھتے  ہوئے یہ ہاتھ نہیں کاپنتے۔

عورت صرف ایک فرد واحد نہیں بلکہ ایک نسل کی امین ہے۔اگرآپ اس کی حفاظت کرتے ہیں تو آپ ایک نسل کو بچا لیتے ہیں۔کیا مار کھانے اور روز گالیاں سننے والی ایک صحتمند نسل کی پروش کرسکتی ہے؟۔وہ خود بھی بیمار ذہن رہے گی اور ایک بیمار ذہن نسل پیدا کرے گی۔اگرآپ ایک صحتمند معاشرہ چاہتے ہیں جہاں آپ کی آنے والی نسل پروان چڑھ سکے تو آپ کوایک صحتمند ماں دینی ہوگی۔

PUNJAB ASSEMBLY

Women Protection Bill

Tabool ads will show in this div