ماضی سے سبق سیکھنا چاہئے، شام سمیت کسی ملک میں مداخلت سے گریز کیا جائے، سیاستدان

Nov 30, -0001

ویب ڈیسک

اسلام آباد : سیاستدانوں نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے شام سمیت کسی بھی ملک کے معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہئے۔ خورشید شاہ کہتے ہیں کہ سعودی عرب سے ملنے والی رقم کے مندرجات پارلیمنٹ کے سامنے لائیں جائیں، صرف پرویز مشرف کو چارج شیٹ کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، ملک میں قیام امن سب کی خواہش ہے۔ مسعود شریف خٹک نے کہا ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں سیاسی طاقت کے کھیل میں فریق بننے کا احمقانہ فیصلہ نہیں کرسکتا، مذاکرات ایک کوشش ہے جسے اپنے انجام تک پہنچانا چاہئے۔ عرفان اللہ مروت کا کہنا ہے کہ ہمارے اپنے مسائل بہت ہیں، کسی ملک سے رقم لینے کا یہ مطلب نہیں کہ اپنی پالیسیوں میں یکسر تبدیلی لے آئیں۔ مصطفیٰ عزیز آبادی کہتے ہیں کہ ماضی میں جو کچھ کیا اس کا خمیازہ آج تک بھگت رہے ہیں، پاکستان کو ایک بار پھر دوسروں کی جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش ہورہی ہے، دوسروں ملکوں سے پیسے لینا ہماری عادت بن گئی، انہیں کے مفادات کے تحت فیصلے بھی کئے جاتے ہیں۔

سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا کہ سعودی عرب سے ڈیڑھ ارب ڈالر لینے کیلئے کیا جو معاہد ہوا اسے سامنے لایا جائے، حکومت ڈیڑھ ارب ڈالر کو کبھی تحفہ، کبھی قرضہ اور کبھی نواز شریف کی ذاتی گارنٹی کے تحت ملنے والی رقم کہتی ہے، ہمیں ماضی سے سبق سیکھنا اور شام سمیت کسی بھی ملک کے معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہئے۔

ان کا کہنا ہے کہ تین نومبر کے اقدام پر پرویز مشرف کے خلاف کارروائی کا فیصلہ فیصلہ ہے، حکومت کو 12 اکتوبر کے اقدامات کو عدالت میں لے کر جائے جب آئین توڑا گیا، صرف پرویز کو چارج شیٹ کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، ان اقدامات میں ساتھ دینے اور حمایت کرنیوالوں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہئے۔

طالبان سے مذاکرات کے سوال پر خورشید شاہ کہتے ہیں کہ ابھی تک صرف بیورو کریٹس پر مشتمل کمیٹیاں بنائی گئیں، دیکھنا ہوگا طالبان کے مطالبات پر حکومت کیا کرتی ہے، پیپلزپارٹی سمیت سمام سیاسی جماعتوں کو امن کی خواہش ہے، مذاکرات اور دیگر آپشن سے متعلق فیصلہ حکومت کو کرنا ہے، فوج کی رضا مندی کے بغیر حکومت مذاکرات نہیں کرسکتی تھی۔

سابق سربراہ انٹیلی جنس بیورو مسعود شریف خٹک کا کہنا ہے کہ 12 اکتوبر کے اقدامات غیر قانونی تھے تو پیپلزپارٹی کو اپنے دور حکومت میں کارروائی کرنی چاہئے تھے، پرویز مشرف کیخلاف 3 نومبر کے اقدامات پر کارروائی کے دوران 12 اکتوبر اور دیگر معاملات بھی نکلیں گے۔

انہوں نے کہا کہ شام کے معاملات میں پالیسی کسی ایک فریق کی طرف منتقل نہیں ہوسکتی، پاکستان ایسا احمقانہ فیصلہ نہیں کرسکتا کہ مشرق وسطیٰ میں سیاسی طاقت کے کھیل میں فریق بنے، ہم کسی طاقت کے کھیل میں شمولیت  کے متحمل نہیں کرسکتے، ہمیں شام کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔

مسعود شریف کہتے ہیں کہ پرویز مشرف کے دور میں فوج اور سیاسی اسٹرکچر خراب ہوا، اس نظریے سے اتفاق نہیں کرتا کہ طالبان وقت حاصل کرنے کیلئے مذاکرات کررہے ہیں، 10 سال سے زائد عرصے سے جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ ختم کرنے کیلئے مذاکرات ایک کوشش ہے جسے اپنے انجام تک پہنچانا چاہئے۔

مسلم لیگ ن کے رہنماء عرفان اللہ مروت نے کہا کہ سعودی عرب سے رقم کے معاملے پر خورشید شاہ نے خود شبہات پیدا کئے اور اب اس کا جواب مانگ رہے ہیں،  پاکستان کو پہلی بار کسی ملک نے پیسے نہیں دیئے، ماضی میں بھی بجٹ کیلئے رقم لی جاتی رہی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ہمارے اپنے بہت مسائل ہیں کسی دوسرے ملک میں مداخلت کا اس وقت سوچا بھی نہیں جاسکتا، کسی سے رقم لینے کا یہ مطلب نہیں کہ اپنی پالیسیوں میں یکسر تبدیلی لے آئیں، نواز شریف کی ذاتی ضمانت پر رقم ملنے کی باتیں بھی مضحکہ خیز ہیں۔

انہوں نے کہا کہ الطاف حسین کے بیانات کو سنجیدگی سے نہیں لیتا، وہ ایک دن بیان دیتے ہیں دوسرے دن بدل لیتے ہیں، الطاف حسین کے بیانات پر بات کرنا وقت کا ضیاع ہے، لندن میں بیٹھ کر حب الوطنی کی باتیں کی جارہی ہے، برطانیہ نے لیبیا، مصر اور شام میں مداخلت کی الطاف حسین کو ان پر تنقید کرنی چاہئے۔

عرفان اللہ مروت کا کہنا ہے کہ امریکا 13 سال سے جاری جنگ آج تک جیت نہیں سکا، ہمارے حکمرانوں نے اپنی کرسیاں بچانے اور ذاتی مفادات کیلئے پاکستان کو اس جنگ میں جھونک دیا، امریکا طالبان سے مذاکرات کیلئے قطر میں دفتر کھلواسکتا ہے تو ہم بات کیوں نہیں کرسکتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی میں ملوث افراد کو کسی صورت چھوڑا نہیں جائے گا، ضروری نہیں کہ طالبان کے تمام مطالبات کو تسلیم کرلیا جائے، ریاست پاکستان اور آئین پاکستان کو تسلیم کرنے والوں سے مذاکرات ہوں گے، مذاکرات کیلئے ٹائم فریم طلب کرنا غیر منصفانہ ہوگا۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماء مصطفیٰ عزیز آبادی کا کہنا ہے کہ ہم نے پہلے بھی افغانستان اور روس جنگ میں اپنے لوگوں کو جھونکا، نام نہاد جہاد کے نام پر ماضی میں جو کچھ کیا اس کا خمیازہ آج تک بھگت رہے ہیں، پاکستان کو ایک مرتبہ پھر دوسروں کی جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی کی طرح حکمران پھر غلطی دہرارہے ہیں، سب کچھ سامنے آگیا کہ ڈیڑھ ارب ڈالر کی بخشش کیوں دی گئی، پاکستان کے نہیں دوسروں کے مفادات کا خیال رکھا جارہا ہے، دوسروں ملکوں سے پیسے لینا ہماری عادت بن گئی، اس لئے ہم ان کے مفادات کے تحت فیصلے کرتے ہیں۔

مصطفیٰ عزیز آباد کہتے ہیں کہ ملک میں بیٹھے حکمرانوں سے الطاف حسین بہتر ہے جس کا دل پاکستان کیلئے دکھتا ہے، گزشتہ ادوار میں ملکی مفاد کے خلاف پالیسیوں پر ایم کیو ایم نے ہمیشہ آواز اٹھائی، ہزاروں شہریوں کو شہید کرنے والے لشکروں سے مذاکرات کئے جارہے ہیں، طالبان کو ریاست کا درجہ دیا جارہا ہے۔ سماء

mistake

Tabool ads will show in this div