اسامہ اور آئی ایس آئی سے متعلق خبر پاکستان کیخلاف پروپیگنڈا قرار، سیاسی و عسکری ماہرین

ویب ڈیسک

اسلام آباد : عسکری ماہرین اور سیاستدانوں نے نیویارک ٹائمز کی خبر کو من گھڑت اور بے بنیاد اور پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کردیا۔ خورشید محمود قصوری کہتے ہیں کہ خبر تضادات کا مجموعہ ہے، آئی ایس آئی کے آدھے لوگ اسامہ کو پکڑنے اور آدھے بچانے پر لگے ہوئے ہیں، ہمیں افغانستان اور شام کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے، جن لوگوں کو شام بھیجا جائے گا وہ آئندہ ہمارے اپنے خلاف بھی استعمال ہوسکتے ہیں۔ ضیاء الدین بٹ کا کہنا ہے کہ نیویارک ٹائمز کی خبر میں آئی ایس آئی کو ہدف بنایا گیا، اس میں قیاس آرائیوں کے سوا کچھ نہیں۔ واسع جلیل نے کہا کہ پاکستان کی فوج مشنری نہیں جسے کسی بھی جگہ بھیج کر استعمال کیا جائے، اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کے معاملے پر آئی ایس آئی کو ملوث کرنا ٹیبل اسٹوری ہے۔ جنرل (ر) امجد شعیب کہتے ہیں کہ کارگل، ایبٹ آباد، مہران بیس اور دیگر فوجی تنصیبات پر حملوں کی روک تھام سے متعلق کوتاہی کرنیوالوں کا احتساب ہونا چاہئے۔ جنرل (ر) راشد قریشی نے کہا کہ امریکا اور وہاں کا میڈیا پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگا رہا ہے۔

سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے کہا کہ نیویارک ٹائمز کی خبر من گھڑت اور بے بنیاد ہے، اس میں کئی تضادات ہیں، آئی ایس آئی کے آدھے لوگ اسامہ کو پکڑنے اور آدھے بچانے پر لگے ہوئے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ ادوار میں ہم سے بہت غلطیاں ہوئیں جس کا خمیازہ آج بھی بھگت رہے ہیں، ہمیں ہمیشہ ابہام پر مبنی تاریخ پڑھائی گئی، پرویز مشرف دور میں امن و امان کیلئے طالبان سے 4 معاہدے ہوئے۔

خورشید محمود قریشی کہتے ہیں کہ اپنی برداشت کے مطابق وزن اٹھانا چاہئے، ہمیں افغانستان اور شام کے معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا ہوگا، امید کرتا ہوں کہ شام میں مداخلت سے متعلق خبریں غلط ہوں، دفتر خارجہ بھی ایسی باتیں مسترد کرچکا ہے، اگر لوگوں کو شام بھیجا گیا تو وہ آئندہ ہمارے خلاف بھی استعمال ہوسکتے ہیں۔

جنرل (ر) ضیاء الدین بٹ نے بھی نیویارک ٹائمز کی خبر کو قیاس آرائیوں پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں آئی ایس آئی کو ہدف بنایا گیا ہے، اخبار کا مقصد آئی ایس آئی کی کارکردگی اور سمت کو غلط ثابت کرنا ہے، آئی ایس آئی حکومت کی دی گئی گائیڈ لائن پر چلتی ہے، انٹیلی جنس ادارے کا کردار ہمیشہ ملک و قوم کی سلامتی کیلئے رہا۔

وہ کہتے ہیں کہ پرویز مشرف دور میں طالبان اور امریکا سے متعلق معاملات میں پاکستان کا کردار دوہرا نہیں تھا، پاکستان امریکا کے ساتھ کوئی ڈبل گیم نہیں کھیل رہا تھا، یہ کہنا غلط ہے کہ آئی ایس آئی کے حکام اپنے طور پر کام کررہے تھے، امریکی صحافی نے کتاب بیچنے کیلئے اسے سنسنی خیز بنایا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ خبر میں میرے بیانات کو غلط انداز سے پیش کیا گیا، اسامہ کی پاکستان میں موجودگی کا علم انٹیلی جنس اداروں اور فوج کو تھا یا نہیں اس کا علم ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ سے چلے گا، ایبٹ آباد کمیشن نے تحقیقات کی تاہم اس کی سفارشات پر تاحال عمل نہیں ہوا، گزشتہ اور موجودہ دور میں جو بھی غلطیاں ہوں اس پر احتساب ہونا چاہئے۔

ایم کیو ایم کے رہنماء واسع جلیل کا کہنا ہے کہ پاکستان کی فوج مشنری نہیں جسے کسی بھی جگہ بھیج کر استعمال کیا جائے، سرتاج عزیز نے اپنی پریس کانفرنس میں تسلیم کیا کہ جو فنڈز ملے ان کے کچھ مقاصد تھے، الطاف حسین نے ایسی کوئی بات نہیں کی جس سے قوم گمراہ ہو، انہوں نے حقائق پر سے پردہ اٹھایا۔

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے، پاک فوج کو کسی دوسرے کی جنگ میں استعمال نہیں کرنا چاہئے، اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی میں انٹیلی جنس معلومات کا فقدان تھا اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا، اس معاملے میں کسی ادارے کو ملوث کرنا صرف ٹیبل اسٹوری ہے، امریکی اخبار کی خبر میں حقائق سے ہٹ کر بہت سی باتیں کیں گئیں، آئی ایس آئی اور اسامہ کے تعلق سے متعلق باتوں پر کوئی یقین نہیں کرے گا۔

واسع جلیل نے کہا کہ غلط پالیسیوں کی نشاندہی اور انہیں درست کرنا چاہئے، صرف پرویز مشرف کا دور نہیں پچھلے تمام ادوار کا جائزہ لے کر اپنی پالیسیوں کو درست ہوگا، نظام کی اصلاح اور غلطیوں پر احتساب نہیں کریں گے تو آئندہ بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، پاکستان کو کسی کی ڈکٹیشن لینے کی ضرورت نہیں، چند لوگوں کے غلط فیصلوں سے ملک و قوم کو نقصانا اٹھانا پڑتا ہے۔

دفاعی تجزیہ کار جنرل (ر) امجد شعیب کہتے ہیں کہ امریکا کو خوش کرنے کیلئے ہم غیر اخلاقی اقدام کرنے پر بھی تیار ہوگئے، ہم نے خالد شیخ محمد، رمزی بن الشبیہ اور طالبان رہنماؤں سمیت سیکڑوں لوگوں کو گرفتار کرکے ان کے حوالے کیا، امریکا اس خطے سے چلا جائے گا، افغانستان اور پاکستان کو مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کارگل، ایبٹ آباد، مہران بیس اور دیگر فوجی تنصیبات پر حملوں سے متعلق کوتاہی کرنے والوں کا احتساب نہ نہ کیا گیا تو آئندہ بھی ایسے واقعات ہوتے رہیں گے، پورے ملک میں ایک نظام چلے گا تو فوج بھی احتساب کرنے پر اعتراض نہیں کرے گی۔

جنرل (ر) راشد قریشی نے کہا کہ نیویارک ٹائمز کی صحافی کو پاکستان اور یہاں کے اداروں کا کوئی علم نہیں، بے بنیاد خبروں پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہئے، امریکا اور وہاں کا میڈیا پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگارہا ہے۔ سماء

 

اسامہ

Tabool ads will show in this div