کالمز / بلاگ

بلبل ہند امیرخسرو

AK

تحریر: صفا سرور خان

بارہویں صدی میں برصغیر کے رنگوں کو قلم کی روشنائی اور سازوں کی مدھر آواز دینے ولا فنکار اس دنیا کو عشق حقیقی کے ان مٹ نقوش سے ہم آہنگ کرگیا۔یہ نظام الدین اولیا کا عاشق شاعر ،مرثیہ گو ،موسیقار اور درویش صفت انسان ابولحسن یمین الدین امیر خسرو تھا۔امیر خسرو نے 1253میں پٹیالی (آگرہ) میں جنم لیا انکے والد ترک تھے جو منگولوں کے حملوں سے بچ کے ہندوستان آگئے تھے۔ کہتے ہیں کہ فنکار پیدائشی ہوتا ہے اور خسرو کے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ تھا۔ایک روایت کے مطابق سات سال کی عمر میں جب انکے والد اس وقت کے صوفی نظام الدین اولیا کے ہاتھ پر بیعت لینے کے لیے اپنے دو صاحب زادوں کو لے کر گئے تو امیر نے اندر جانے سے انکار کردیا اور انکی خانقاہ کی سیڑھیوں پر ہی بیٹھ گئے ،دل میں سوچا کہ اگر یہ واقعی میرے پیر ومرشد ہیں تو میں کیوں انکے پاس جاؤں ،وہ خود مجھے منتخب کریں گے اور اپنی سوچ کو ان لفظوں میں ڈھالا۔

اگر آپ واقعی ایک عالم ہیں ہستی ہیں تو یہ جانتے ہونگے کہ ایک ادنی ٰکبوتر ایک دن عقاب بن سکتا ہے؟ ایک سوالی آپ کے درپر آیا ہے اور اجازت چاہتا ہے کہ وہ اندر آئے یا واپس چلا جائے؟

اسکے جواب میں حضرت نظام الدین اولیا نے یہ جواب بھجوایا۔ آنے والا اگر سچ جانتا ہے تو اندر آجائے تاکہ ہم دونوں مقدس حقیقت اور راز کی باتوں کو سمجھ سکیں۔ اور اگر آنے والا اپنے اندر کی آواز کو نظر انداز کررہا ہے۔تو وہ انہی قدموں واپس لوٹ جائے جن پر چل کے وہ آیا ہے ۔

AK5

اپنے روحانی استاد یا مرشد کو چننے کے لیے جو سوال امیر نے پوچھے اور سوچے، انکے جواب نظام الدین اولیانے انکی سوچ کے مطابق دیے اور یہ تعلق ایسا بنا جس نے برصغیر کی تاریخ کو صوفیائی رنگوں میں ڈھال دیا۔امیر خسرو برصغیر میں اعضاء کی شاعری کے پہلے فنکار مانے جاتے ہیں، عشق کے ردھم پر جو رقص کرتے ایسا معلوم ہوتا کہ سازوں کے ساتھ الفاظ بھی محو جنوں ورقص ہیں۔

اکثر اس بات پر بحث بھی کی جاتی ہے کہ خسرو نے ہمیشہ شاعری عورت کی آواز بن کر کی ہے تو اسکی وجہ یہ ہے کہ اس وقت عشق کا تصور مرد اور عورت کے درمیان ہی سمجھا جاتا تھا۔یعنی عورت کو ہی عشق کرنے والی صنف سمجھا جاتا تھا۔

AK3

فن موسیقی کی بات کی جائے تو کئی مدھر ساز امیر کی ایجاد ہیں جن میں سِتار اور طبلہ سب سے اہم ہیں۔اور ایک حیران کن امر یہ بھی ہے کہ امیر کی شاعری صرف امیر کی دی گئی موسیقی سے ہی گائی اور پڑھی جاتی ہے۔جو ُ سر اس وقت استعمال کیے گئے انکے علاوہ کسی اور ردھم میں امیر خسرو کی شعاری کو گانا نا ممکن ہے۔حضرت نظام الدین اولیا کے عشق نے انکے فن کو ایک پورے شعبہ کا درجہ دیارقص،شاعری،موسیقی اور رنگ پورے فنون لطیفہ کا مرکب بن گئے۔

AK2

رنگوں کی یہ دھنک اس وقت سیاہ رنگ میں ڈھل گئی جب انکے مرشد حضرت نظام الدین اولیا کا انتقال ہوگیا.  ایک روایت کے مطابق اس کے بعد محض تین ماہ یا چھ ماہ زندہ رہے اور پھر وہیں 1350 میں انتقال ہوا اور مرشد کے ساتھ ہی آسودہ خاک ہیں۔ عشق کے دھنک رنگوں سے بنا شاعر امیر خسرو آج بھی دنیا کے لیے نا سمجھ میں آنے والی مثالیں رکھتا ہے کیفیت سے بنے سر یا جنوں میں تھرکتے اعضاء یا درد سے پکارتے لفظ ہر صاحب علم کے لیے نہیں ہیں۔امیر خسرو کو وہی سمجھ سکتا ہے جس نے عشق کیا ہو۔یا کسی سچی محبت کے رنگوں سے اسکی ذات بنی ہو۔

AK4

صوفیا کرام کے عشق حقیقی کا سلسلہ اس دنیا کو کئی حیرت انگیز کہانیوں اور قربانیوں سے آشکار کرتا ہے جو سمجھنے والوں یا بھٹکنے والوں کو فلاح تک پہنچا سکتی ہیں۔بس شرط یہ ہے کہ اندر کی روشنی کو بجھنے نا دیا جائے محبت کو ختم نا ہونے دیا جائے۔

bulbul e hind

ameer khusro

Tabool ads will show in this div