کمال کادھمال

Mustafa Kamal Flag Pkg 03-03

تحریر: جلال الدین بابر

متحدہ کے قائد الطاف حسین کے قریبی کارکن اور شہر کراچی کے سابق ناظم مصطفیٰ کمال نے دھمال کردیا۔ انھوں نے2013 سے ایم کیو ایم سے کنارہ کشی کرکے دبئی میں سکونت اختیار کررکھی تھی ۔ لیکن حیران کن طور پر پاکستان آمد اور پھر جمعرات کی شام کی دھواں دارپریس کانفرنس کرکے سیاسی ماحول کوگرمانے کے ساتھ ایم کیو ایم کی صفوں میں بھی بھونچال برپا کردیا ہے۔ اس پریس کانفرنس اور میڈیا پروگراموں پر کراچی کے سابق میئر نے کئی راز افشاء کیے ۔ جس میں پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو قیادت کی طرف سے پہنچنے والے نقصان سمیت رابطہ کمیٹی کے کئی استعفوں کی گردان بھی شامل رہی،جس سے ایک نہیں کئی پنڈورا باکس کھلنے لگے۔

Mustafa Kamal 3rd Cry Khi 03-03

مصطفی کمال نے لگے ہاتھ نئی سیاسی جماعت کا اعلان کیا  اور ساتھ صدارتی نظام کے ذریعے انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ کرکے نیا سیاسی منشور بھی پیش کرڈالا۔

طویل ترین پریس کانفرنس میں قائد تحریک کے ایک زمانے تک قصیدے پڑھنے والے مصطفی کمال نے بڑی مہارت سے میڈیا میں خود کو مظلوم اور متحدہ کی قیادت اور دیگر ورکرز کو " را " کا ایجنٹ قرار دیدیا۔ لیکن  یہاں کسی صحافی نے ان سے یہ سوال نہیں کیا کہ جناب دوہزار تیرہ تک یہ آپ ہی کی سیاسی جماعت تھی اوراس جماعت سےسرزدہونےوالےتمام جرائم میں آپ بھی برابر کے حصہ دار رہے ہیں۔

Mustafa-Kamal-Pc-New-Khi-03-03-640x480

اب جب آپ واپس آہی گئے ہیں تو ایک پریس کانفرنس آپ کی بے گناہی کا ثبوت تو پیش نہیں کرسکتی۔بقول آپ کے ایم کیوایم کا ٹارگٹ کلر ٹولہ ماں کے پیٹ سے تو یہ سیکھ کرنہیں آیا لیکن دوہزار تیرہ سے پہلے تک ٹی وی ٹاک شوز میں ایم کیوایم پر اٹھائے جانےوالے ہر سوال کے جواب میں آپ کیوں دفاع کرتے رہے۔اگر آپ اتنے ہی دودھ  کے دھلے تھے تو اس وقت اسں جماعت کو بے نقاب کیوں نہیں کیا؟  شاید اس وقت آپ کے بیوی بچے اس شہر میں رہتے تھےاوراس وقت تک آپ کو اور آپ کے بچوں کو جان کا خطرہ نہیں تھا لیکن جونہی یہ خطرہ محسوس ہوا،آپ نہ صرف ملک چھوڑکر بھاگ نکلے بلکہ پارٹی سے بھی کنارہ کشی کرلی۔ لیکن بات ابھی ختم نہیں ہوئی ۔ شریک جرم رہنے کا اعتراف پر سرکار اور مقتدر حلقوں کی جانب سے تاحال خاموشی یقننا قابل حیرت ہے۔

مصطفی کمال کی جانب سے عائد کردہ الزامات کی شفاف تحقیقات ضرورت وقت بھی ہے۔پریس کانفرنس میں ان کی  جانب سے پاکستانی پرچم دکھانا ایک سنگین غلطی تھی۔ کیونکہ آئین پاکستان کے تحت پاکستان کے پرچم کا استعمال کسی بھی جماعت اور پارٹی یا مخصوص گروہ کے لیے نہیں کیا جاسکتا۔اپنی پریس کانفرنس میں انہوں نے مضحکہ خیز انکشاف بھی کیا۔ کہ پیپلزپارٹی کے دور میں ایم کیوایم کی پریس ریلیز رحمان ملک کی ہدایات پر بھی بنتی تھیں ۔۔۔ تعجب ہوا یہ بات سن کر کہ اہل زبان کی اتنی بڑی جماعت ہونے کی دعویدار حیران کن طور پر اس شخص سے مددلیتی رہی جو خود وزیر رہنے کے لائق نہیں تھا۔

Khi Mustafa Kamal Presser Pkg 03-03

 خیر بات ہورہی ہے مصطفی کمال کی۔ دانشور حلقے ایم کیوایم کے سابق ورکر کے اس اقدام کو چائے کی پیالی میں طوفان کے سوا کچھ تصور نہیں کررہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مصطفیٰ کمال کے الزامات خودساختہ نہیں بلکہ ببانگ دہل میڈیا کے سامنے ایسے کھل کر آنے کے پیچھے نادیدہ قوتیں متحرک ہیں ۔ جنہوں نے کچھ تو گارنٹیاں بھی دی ہوں گی۔ کچھ تو مال و اسباب بھی تھمایا گیا ہوگا اور  کچھ تو تابناک سیاسی مستقبل کے سہانے خواب بھی دکھائے ہوں گے۔ مصطفی کمال لاکھ کہیں کہ انہیں لیڈر شپ کی خواہش نہیں، لیکن انسان چیز ہی ایسی ہے، شہرت اور پیسہ دونوں ہی اس کی کمزوری رہے ہیں۔

weather-to-remain-dry-in-karachi-1420628503-6702

اب دیکھنا یہ ہے کہ سیاسی شطرنج کے اس خون آلود کھیل میں غیبی طاقتوں نے مصطفیٰ کمال جیسے نئے مہرے کے ذریعے اپنی پرانی چال تو چل دی ہے ۔ جس پر ایم کیوایم نے برملا ردعمل کا بھی اظہار کردیا لیکن یہ ہانڈی ابھی کچی لگتی ہے،جسے پکنے میں کچھ تو وقت لگے گا۔ بشرطیکہ اسے ایندھن ملتا رہے۔

MUSTAFA KAMAL

anis qaim khani

تبولا

Tabool ads will show in this div

تبولا

Tabool ads will show in this div