تحفظ خواتین کا بل قانون بن گیا

Women Protection Bill Lhr Zubair Pkg 29-02

لاہور: گورنرپنجاب رفيق رجوانہ نے تحفظ خواتين بل کي توثيق کردي ۔ بل کے تحت ویمن پروٹيکشن آفيسرز اور حفاظتي سينٹرز بنائے جائيں گے ۔ پنجاب اسمبلی میں منظور کیا جانے والا خواتين کے تحفظ کا بل قانون بن گيا۔ گورنرپنجاب کي منظوري کے بعد ویمن پروٹیکشن ایکٹ پرعمل درآمد کي تيارياں شروع کر دی گئیں۔

اس قانون کے مطابق تشدد کے شبے پر مرد گھر ميں قدم نہيں رکھ سکے گا اور خاتون کو اس کي مرضي کے بغير گھر سے نہيں نکالا جاسکے گا

اس قانون کی رو سے عدالتي کارروائي ميں  فاضل جج کي ہدايت پر ٹریکر کے ذریعے مرد  کی نگرانی بھی کی جا سکے گی۔

خواتين کے تحفظ کےلئے ضلعي سطح پر پروٹيکشن سینٹرز قائم کیے جائیں گے جن میں پروٹيکشن آفيسرز کو تعینات کیا جائے گا۔

تشدد میں ملوث شخص کےلیے قید کی سزا کے ساتھ ساتھ سرکاری کارروائي ميں مداخلت پر مزيد چھ ماہ قيد  اور پانچ لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا۔

جبکہ غلط شکايت کرنے پر خاتون کو تين ماہ قيد اور پچاس ہزار روپے جرمانے کي سزا ہوگي ۔ سماء

PUNJAB ASSEMBLY

Governor Punjab

Women Protection Bill

Tabool ads will show in this div