پروٹیکشن بل، تشدد سے تحفظ تک

violence-against-women-and-girls-1418551478-7164 لاہور : خواتین پر تشدد سے تحفظ کا بل پنجاب اسمبلی میں پیش کیا گیا،  جس دن یہ بل اسمبلی میں لایا گیا، اس دن 371 کے ایوان میں صرف 193 ممبران موجود تھے، اس بل کے پیش ہونے کے بعد حکومتی جماعت کے ممبر زعیم قادری نے جہاں بل کی تعریف کی وہاں یہ بھی کہا کہ لگتا ہے اب مردوں کے تحفظ کا بل بھی لایا جائے گا۔ بل کی اہم خصوصیات یہ ہیں ’ خواتین کو ہراساں کرنے والوں یا پھر تشدد کرنے والوں کے خلاف عدالت سے پروٹیکشن آرڈر لیا جا سکے گا، عدالت ان افراد کو پابند کرے گی، کہ خواتین سے ایک خاص فاصلے پر رہیں، اس کے علاوہ تشدد کرنے والوں کو ٹریکنگ بریسلٹ بھی پہنایا جا سکے گا اور ایسے فرد کو گھر سے بھی نکالا جا سکتا ہے۔ 899179-sexuallassaultt-1433625090-237-640x480 رہائش کے حکم کے تحت خاتون کو اس کی مرضی کے بغیر بے دخل نہیں کیا جا سکے گا، خاتون کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے شیلٹر ہوم میں بھی منتقل کیا جا سکے گا اور مانیٹری آرڈر کے تحت تشدد کرنے والے کے خلاف کی گئی، قانونی چارہ جوئی پر ہونے والے اخراجات تشدد کرنے والے شخص سے حاصل کیئے جا سکیں گے۔ ہمارے ملک میں جہاں خواتین کو ہراساں کرنے اور گھریلو تشدد کی شرح بہت زیادہ ہے، وہاں ایسا بل کافی اہمیت رکھتا ہے، علماء اکرام کا خیال ہے کہ ایسا بل لانے سے طلاق کی شرح میں اضافہ ہوگا، اگر خاتون کو فرد سے دور رکھنے اور ٹریکنگ بریسلٹ والی شق کو دیکھا جائے تو علماء کا خدشہ درست بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر بلفرض میاں بیوی میں معمولی گھریلو ناچاقی ہو جاتی ہے اور ان کو فاصلے پر رکھا جائے تو پھر ایسا کرنا دوبارہ صلح کا راستہ بند کرنے کے مترادف ہے، کیونکہ بات چیت کرنے سے اکثر رنجشیں دور ہو جاتی ہیں اور پھر ہمارے ہاں 2 افراد کے درمیان جھگڑے کا باعث اکثر رشتہ داروں و عزیزواقارب کی طرف سے لگائی بھجائی ہوتی ہے تو اس قسم کی شق کے بعد کہیں معمولی چپقلش بھی طلاق کی وجہ نہ بن جائے، اس کے علاوہ کسی مرد کو ٹریکنگ بریسلٹ پہنانے سے بھی معاملہ خراب ہونے کی توقع ہے اور اس شق پر تنقید نہ صرف علماء کر رہے ہیں، بلکہ خواتین سیاست دان بھی کر رہی ہیں۔ M375/0009 مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ان 2 شقوں کے علاوہ یہ ایک اچھا قدم ہے، کیونکہ ہمارے ہاں خواتین جس ظلم اور تشدد کا شکار ہوتی ہیں، ان کا تذکرہ کرنے کے لیے شائد مناسب الفاظ کم پڑجائیں، مگر یہاں پر بھی ایک سوال ہے کہ اس بل پر عمل درآمد کون کروائے گا؟؟؟ کیا پولیس عمل درآمد کروائے گی جو دونوں طرف کے فریقوں سے رشوت لیکر انصاف کا ہی قلع قمع کر دیتی ہے،اس سے پہلے چائیلڈ لیبر سے لیکر مزدوروں کے تحفظ سمیت نہ جانے کتنے قوانین موجود ہیں، مگر عمل درآمد کہیں نظر نہیں آتا۔ سندھ اور بلوچستان میں خواتین کے تحفظ کے بل پہلے سے موجود ہیں، وہ کتنے لاگو ہوئے یہ سب کے سامنے ہے، عمل درآمد کے ساتھ ساتھ خواتین کے تحفظ کے لیے قانون سازی کو مزید بہتر بنانے کی بھی ضرورت ہے، کیونکہ یہ بل تو خواتین کو گھریلو یا ہراساں کیے جانے کے خلاف ہے، جو شوہر باپ یا بھائی پر لاگو ہوگا، جس سے بیوی بیٹی یا بہن کو تو تحفظ ملے گا، مگر جو خواتین اغوا ہو جاتی ہیں، جن کا ریپ ہوتا ہے، پھر قتل کر دیا جاتا ہے، ان کا کیا بنے گا۔ صرف پنجاب کے اعدادوشمار دیکھ لیں، ہر روز 6 خواتین کو اغوا کیا جاتا ہے، 4 کا ریپ ہوتا ہے 3 خود کشی کرتی ہیں، 6 خواتین کو روزانہ قتل کیا جاتا ہے، گزشتہ برس 1700 خواتین صرف پنجاب میں اغوا ہوئیں، مگر کتنے ہی مجرموں کو گرفتار کیا گیا اور کتنوں کو سزا دلوائی گئی؟؟ img کیا صرف قتل یا ریپ ہونیوالی خواتین کے گھر جا کر اظہار ہمدردی کرنا اور تصویر بنوا کر میڈیا پر چلوانے سے مظلوم خواتین کو انصاف مل جاتا ہے؟؟تو ہر نئے بنائے جانے والے قانون پر عمل درآمد بھی کروایا جائے، تو ہی فائدہ ہے اور ویسے بھی ہیتھلی پر سرسوں کبھی نہیں جمتی، بل لا کر اگر یہ سمجھا جائے کہ دنوں میں سب ٹھیک ہو جائے گا تو یہ احمقوں کی جنت میں رہنے والی بات ہے، اگر دین اسلام کی روح کو ہی سمجھایا جائے، تو اسلام سے زیادہ خواتین کو تحفظ کوئی نہیں دیتا اور پھر اسکولوں، کالجوں اور سب سے بڑھ کر گھروں میں یہ بتایا جائے خواتین کا کیا مقام ہے، ان کا ادب و احترام کتنا ضروری ہے۔ ایک بچے کے سامنے اگر بڑے خواتین کو عزت دیں گے، تو بڑے ہو کر بچے بھی عزت و حترام دیں گے، مثبت نتائج حاصل کرنے کے لیے اخلاقی اقدار کا پروان چڑھنا بہت اہم ہے، اگر اچھا معاشرہ پروان چڑھ جائے تو ایسے قوانین لانے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ سماء

PUNJAB ASSEMBLY

ABUSE

Women Protection Bill

Assualt

Sexually

Tabool ads will show in this div