مذاکراتی عمل سے جلد پاکستان میں امن قائم اور خون خرابہ ختم ہوجائیگا، مولانا یوسف شاہ

ویب ڈیسک

اسلام آباد : امن مذاکرات کی کامیابی سے متعلق تاحال شکوک و شبہات کا کا اظہار کیا جارہا ہے، مولانا یوسف شاہ کا کہنا ہے کہ مذاکرات پاکستان میں امن قائم کرنے کیلئے شروع کئے گئے، انشاء اللہ جلد ملک میں خون خرابہ مکمل طور پر ختم ہوجائے گا، رہا کئے گئے 16 افراد طالبان کی فہرست میں شامل نہیں تھے۔ رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ امن مذاکرات ایک آپشن ہے جسے استعمال کیا جارہا ہے، مذاکراتی عمل میں کچھ پیشرفت ہوتی نظر آرہی ہے، طالبان قیدیوں کی رہائی اور ان کی صحیح تعداد سے متعلق علم نہیں، پاکستان شام سے متعلق کسی بھی بلاک کا حصہ نہیں بن رہا۔ پلوشہ خان کہتی ہیں کہ حکومت کو چاہئے کہ امن و امان اور خارجہ امور سے متعلق اقدامات سے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے، قومی سلامتی کا کوئی بھی معاملہ مائیکرو نہیں ہوتا، حکومتی اقدامات کی ذمہ داری کوئی بھی سیاسی جماعت لینے کو تیار نہیں، کیا ن لیگ اکیلے تمام معاملات کی ذمہ داری لے سکتی ہے؟۔

سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے طالبان کمیٹی کے رکن مولانا یوسف شاہ کا کہنا ہے کہ پولیٹیکل ایجنٹ جنوبی وزیرستان نے جن لوگوں کو رہا کیا وہ طالبان قیدی نہیں، عام شہری ہیں، جنہیں رہا کیا وہ طالبان کی فہرست میں بھی شامل نہیں تھے، طالبان نے 700 کے قریب غیر عسکری قیدیوں کی فہرست دی ہے، ان لوگوں کی رہائی کا مطالبہ مذاکراتی عمل کو پائیدار بنانے کیلئے کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پولیٹیکل ایجنٹ روزانہ لوگوں کو پکڑتے اور چھوڑتے ہیں، مولوی فضل اللہ طالبان شوریٰ سے مسلسل رابطے میں ہیں، طالبان کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی کہ پاکستان میں امن دیکھنا چاہتے ہیں، خالد عمر خراسانی نے کوئی بیان نہیں دیا، انہوں نے ٹویٹر پر مضمون لکھا، میڈیا نے اپنی پسند کے مطابق چند جملے لے لئے، میڈیا کو چاہئے کہ اچھی باتوں کو ہائی لائٹ کرے۔

مولانا یوسف مزید کہتے ہیں کہ قوم اس وقت مشکل صورتحال میں ہے، مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں، بات چیت کی کامیابی سے پاکستان میں خون خرابہ ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائیگا، خالد عمر خراسانی نے یقین دلایا کہ وہ تحریک طالبان کے فیصلوں کے پابند ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ قیدیوں سے متعلق کمیٹیوں کے درمیان تبادلہ خیال ہورہا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ دونوں جانب سے قیدیوں کو رہا کردیا جائے، ہماری کوشش ہے کہ سیکیورٹی اہلکاروں کے گلے کاٹنے جیسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں۔

وفاقی وزیر رانا  تنویر حسین نے کہا کہ میرے پاس کوئی فہرست نہیں، کون پکڑا گیا اور کسے رہا کیا گیا، دہشت گردی کا اعتراف کرنیوالوں سے بات چیت ہی نہیں کرنی چاہئے، امن مذاکرات ایک آپشن ہے جسے استعمال کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں نے حکومت کو امن مذاکرات کا مینڈیٹ دیا ہے، مذاکراتی عمل میں آج کچھ پیشرفت ہوتی نظر آرہی ہے، امن مذاکرات اور خارجہ پالیسی سمیت تمام معاملات پر پارلیمنٹ اور عوام کو اعتماد میں لیا۔

وفاقی وزیر پیداوار کہتے ہین کہ پاکستان شام سے متعلق کسی بھی بلاک کا حصہ نہیں بن رہا، سعودی عرب کو اپنے ہتھیار، ٹینک اور طیارے فروخت کرنا چاہتا ہے، ہماری کوشش ہے کہ ٹینک اور طیاروں کی برآمدات شروع ہوجائے۔

تجزیہ کار امتیاز گل نے کہا کہ حکومت اور طالبان کمیٹی کی ذمہ داری ہے کہ اس بات کی یقین دہانی کریں کہ تمام طالبان دھڑے مذاکراتی عمل میں شامل ہیں یا نہیں، قبائلی علاقوں میں نافذ ایف سی آر کا قانون ظالمانہ ہے، اس کے تحت پولیٹیکل ایجنٹ ایجنسی کا بادشاہ ہوتا ہے، پولیٹیکل ایجنٹ چھوٹے چھوٹے جرائم اور شک کی بنیاد پر لوگوں کو پکڑ کر کئی کئی سالوں کیلئے جیلوں میں ڈال دیتے ہیں۔

پیپلزپارٹی کی رہنما پلوشہ خان کا کہنا ہے کہ مذاکراتی عمل چند لوگوں کے درمیان ہورہا ہے، اس میں پارلیمنٹ یا عوام شامل نہیں، جس کی وجہ سے کنفیوژن پیدا ہورہا ہے، مذاکراتی عمل کے ذریعے چھوڑے گئے قیدیوں سے متعلق بھی عوام اور پارلیمنٹ کو آگاہ کرنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ جنہیں اپنے ہتھیار، ٹینک اور طیارے فروخت کئے جائیں ان ممالک سے استعمال کی ضمانت بھی لینی چاہئے، دنیا کی نظریں ہم پر ہیں، ہمیں ایک ذمہ دار ریاست بننا ہوگا، قومی سلامتی کا کوئی بھی معاملہ مائیکرو نہیں ہوتا۔ سماء

mystery

Benazir

Tabool ads will show in this div