سبزی منڈی دھماکا، کسی کو بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا، چوہدری نثار

اسٹاف رپورٹ

اسلام آباد : وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کو کٹہرے میں لائیں گے، دھماکے میں کسی کو بھی بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا، گزشتہ دور میں خریدے گئے اسکینرز ناکارہ ہیں، ٹیکنالوجی کے بغیر دہشت گردی پر قابو نہیں پایا جاسکتا، غریبوں کو نشانہ بنانیوالے اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکتے۔

اسلام آباد میں سبزی منڈی دھماکے کے مقام کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے بتایا کہ  واقعے ميں 21 افراد جاں بحق ہوئے، بارودی مواد پھلوں کے کريٹ ميں چھپايا گیا تھا، وزيراعظم کی جانب سے لواحقين سے دلی تعزيت کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی میں کسی فرقے يا گروپ کے ملوث ہونے کی نشاندہی کرنا قبل از وقت ہوگا، تحقيقات کرکے اصل تہہ تک پہنچيں گے، دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے، واقعے میں غریب اور مزدور طبقے کو نشانہ بنايا گیا، دہشت گرد اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکے، جانی نقصانات کا ازالہ نہیں کیا جاسکتا۔

چوہدری نثار کا کہنا ہے ک سبزی منڈی میں روزانہ 200 سے 300 گاڑیاں آتی ہیں، مؤثر تحقیقات کیلئے ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے، 2 اسکینرز پاکستان لائے گئے، 2 تاحال نہیں پہنچے، گزشتہ دور میں منگوائے گئے اسکینرز ناکارہ ہیں جو دھماکا خیز مواد کی نشاندہی نہیں کر سکتے، 11 ہزار پولیس اہلکار ڈیوٹی پر موجود ہیں، ٹیکنالوجی کے بغیر دہشتگردی پر قابو نہیں پایا جاسکتا، کسی صوبے کے پاس دہشتگردی روکنے کیلئے ٹیکنالوجی نہیں۔

دوسری جانب وزیر داخلہ چوہدری نثار نے پولیس سے شام تک واقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سبزی منڈی میں سیکیورٹی مزید سخت کرنے کی ہدایت بھی کردی، ان کا کہنا ہے کہ آنے اور جانے والے راستوں کا فوری جائزہ لیا جائے۔

تاجروں نے چوہدری نثار کے سامنے شکایات کے انبار لگادیئے، ان کا کہنا ہے کہ 15 لاکھ روپے فراہم کرنے کے باوجود سی ڈی اے نے سبزی منڈی کے اطراف دیوار نہیں بنائی، وزیر داخلہ نے ڈی سی مجاہد شیخ کو معاملہ حل کرنے کی ہدایت کردی۔ سماء

identity

piracy

Tabool ads will show in this div