پاکستانی مدر ٹریسا

1d

-----**  تحریر ؛ شاہد کاظمی  **-----

جرمنی کا ایک شہر Leipzig ہے، جو یورپ کے اس ترقی یافتہ ملک کا آبادی کے لحاظ سے 14 واں بڑا شہر ہے، 9 ستمبر 1929ء کو اس شہر میں ایک ایسی عجیب و غریب بچی نے آنکھ کھولی جس نے ہوش سنبھالنے کے بعد آسائشوں سے بھرپور زندگی ٹھکرادی اور ایک ایسے معاشرے کا مستقل حصہ بن گئی جہاں کا رخ کرتے ہوئے بھی لوگ گھبراتے ہیں، صحافتی تعلیم میں اکثر سُنا کہ کتا بندے کو کاٹے تو اس میں کوئی خاصیت نہیں لیکن اگر بندہ کتے کو کاٹ لے تو یہ ایک ایسی خبر بنے گی جس میں ہر ایک کی دلچسپی ہوگی۔ اسی طرح یہ بھی کوئی اچنبھے کی بات نہیں کہ آج کل پاکستانی یورپی ممالک کی شہریت حاصل کرنے کیلئے گھنٹوں لائن میں کھڑے رہتے ہیں، لیکن یہ واقعی ایک اچنبھے کی بات تھی کہ جرمنی جیسے ملک سے اس بندیٴ خدا نے پاکستان جیسے ملک کا رخ کرلیا وہ بھی 60ء کی دہائی میں جب پاکستان اپنے قیام کی 2 دہائیوں بعد بقاء کی جنگ لڑ رہا تھا۔

1a

قدرت نے انسانیت کیلئے اس کا انتخاب کرلیا تھا، جذام کیخلاف جنگ کیلئے، کیونکہ دوسری جنگ عظیم کے قرب و جوار میں جذام کا مرض لاعلاج قرار دیا جانے لگا تھا، دنیا کی طرح پاکستان میں بھی جذام کے مریضوں کا مقدر تنہائی اور مخصوص جگہ ہوگئی تھی، راقم خود راولپنڈی میں مشنری دور کی ایک ایسی جگہ کا مشاہدہ کر چکا ہے جو جذام کے مریضوں کی علاج گاہ ہے لیکن اس کو زبانِ عام میں ’’کوڑھوں کا احاطہ‘‘ کے نام سے مشہور کردیا گیا تھا، یہ بنیادی طور پر قیام پاکستان سے قبل کا ایک ایسا اسپتال ہے جو ایسے مریضوں کا علاج کرتا تھا جو معاشرے کی بے حسی کا شکار ہوجاتے تھے، (جذام کو ہی عام زبان میں کوڑھ کا مرض کہا جاتا ہے)۔

احاطہ بنیادی حوالے سے لفظی طور پر ایسی جگہ کو ہی کہتے ہیں جو کسی بھی مخصوص کام کیلئے استعمال ہو اور اس مخصوص استعمال کے علاوہ اس جگہ عام افراد کا آنا جانا نہ ہو، ایسے اسپتال کو جہاں جذام کے مریضوں کا علاج ہوتا تھا کوڑھوں کا احاطہ بھی اسی لئے کہا جانے لگا کہ وہاں داخل کروانے کے بعد اقرباء بہت کم ملاقات کیلئے جاتے تھے۔

1

پاکستان میں جذام کے علاج کے حوالے سے ’’میری ایڈیلیڈ لپروسی سینٹر‘‘ کا آغاز 56ء میں ہوچکا تھا، 60ء کی دہائی میں اس جرمن عورت کے پاکستان آنے سے جذام کیخلاف گویا ایک جنگ کا سا آغاز ہوگیا، مریضوں کا علاج ہونے لگا، آج پاکستان میں ’’میری ایڈیلیڈ لپروسی سینٹر‘‘ جذام کیخلاف جنگ کی ایک علامت بن چکا ہے، قیام پاکستان سے قبل منگھو پیر سینیٹوریم جذام کے مریضوں کی واحد اُمید تھی جو 1896ء میں قائم ہوا تھا لیکن آج پورے پاکستان میں ’’میری ایڈیلیڈ لپروسی سینٹر‘‘ کے 150 سے زائد مراکز قائم ہیں اور میکلوڈ روڈ پر ایک ڈسپنسری سے آغاز کرنیوالا یہ ادارہ آج قومی سطح کی تنظیم کا روپ دھار چکا ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا 96ء میں پاکستان کو جذام سے پاک قرار دینا ممکن نا ہوتا اگر1929ء میں جرمنی میں پیدا ہونیوالی ’’ڈاکٹر رتھ پفاؤ‘‘ 60ء کی دہائی میں پاکستان کا رخ نہ کرتیں۔ جب انہوں نے جذام کے مریضوں کی کالونی کا دورہ کیا تو پھر یہیں کی ہوکر رہ گئیں، آج وہ ایک علامت کا درجہ پا چکی ہیں اپنی پُر آسائش زندگی قربان کردی،88ء میں پاکستانی شہریت کے بعد پاکستان و جرمنی کے اعلیٰ ترین سول اعزازت اُنہیں مل چکے ہیں، مریضوں کا ریکارڈ ملک میں ان کی ہی کوششوں سے مرتب ہو پایا اور اب "کوڑھ" کا لفظ تک معاشرے سے ختم ہوتا جارہا ہے۔

غیرملکی نشریاتی ادارے کو 2010ء میں دیئے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے جذام سے مقابلے کی طرف راغب ہونے کو ایک پٹھان نوجوان مریض کو قرار دیا جو ہاتھوں پر خود کو گھسیٹ رہا تھا۔

1c

گلہ کرنا ہماری قوم کا فرض اولین بن چکا ہے لیکن ہم یہ سوچنا گوارا نہیں کرتے کہ کتنے مسائل اور بیماریاں ایسی ہیں جن کا سبب ہم خود بنتے ہیں، کتنے لوگ ہیں جو مسائل کیخلاف کام کرتے ہیں؟، ہم پفاؤ، ایدھی و چھیپا کی توصیف کرتے ہیں تو ان جیسا کردار کیوں نہیں اپناتے؟، ہم ہر مسئلے کے حل کیلئے حکومت کی طرف ہی کیوں دیکھتے ہیں؟ 87 سالہ پفاؤ ثابت قدم ہیں تو ہم چند دن میں کیوں گھبرا جاتے ہیں، جیسے حال ہی میں غرباء کی مدد کیلئے دیوارِ مہربانی کا فلسفہ سامنے آیا، اللہ کرے ایسے ہی پاکستان کا ہر ذی شعور شخص اپنے مسائل خود حل کرنے کی طرف توجہ دے اور مفادات سامنے رکھنے کے بجائے بے لوث جذبے شامل حال ہوں۔ الٰہی آمین۔

Marie Adelaide Leprosy Centre

Dr Ruth Pfau

The magic healer

Tabool ads will show in this div