کیا حق تلفیاں بھی گڈ گورننس کا حصہ ہیں؟

metro bus

تحریر: نعیم اشرف بٹ

گزشتہ کئي سال سے يہي سنتے آئے ہيں کہ جنوبي پنجاب اور چھوٹے شہروں کي حق تلفي ہوتي ہے اور ان کے حصے کا سارا بجٹ لاہور اور ديگربڑے شہروں پر خرچ کيا جاتا ہے ليکن ان بڑے شہروں ميں رہنے والے ديگر باسيوں کي طرح ميں بھي اسے محض پروپيگنڈہ سمجھتا رہا۔ شايد اسي ليے قدرت نے اس حق تلفي کا سب سے بڑا اور مستند ثبوت مجھے دے دیا۔

اس ميں کوئی شک نہيں کہ لاہور کي ميٹروبس سے روزانہ لاکھوں شہري سفر کرتےہيں اور ميٹروپوليٹن سٹي کےليے یہ کسی نعمت سے کم نہيں ہے۔ليکن کيا يہ نعمت اور سہولت پنجاب کےچھوٹے شہروں اور خاص طورپر جنوبي علاقوں کےليے بھي معني رکھتي ہے اور کيا يہ ايک نعمت دوسرے شہروں کي ہزاروں نعمتوں کو چھين کردي جاسکتي ہے تو يقيناٗ اسکا جواب نفي ميں ہوگا۔ مگر اس نفي کي پرواہ نہ کرتےہوئے مسلم ليگ ن کي قيادت نے لاکھوں یا کروڑوں نہيں بلکہ بتيس ارب روپے کے فنڈز ميٹرو بس لاہور کو منتقل کرکے اختيارات کا ناجائزاستعمال کيا۔

ان بتيس ارب روپوں ميں زيادہ تراسکيميں جنوبي پنجاب کے پسماندہ علاقوں کي تھيں جن ميں جنوبي پنجاب غربت مکاؤ پروگرام، چولستان ڈويلپمنٹ پروگرام اور صاف پاني کے دس منصوبوں کے لیے مختص اربوں روپے شامل تھے۔ اس کے علاوہ واسا کے سيوريج منصوبوں کي رقم بھي ميٹروبس لاہور کو منتقل کي گئي۔

Orange Line Accidents Lhr Pkg 09-02

محکمہ ہاؤسنگ اينڈ اربن ڈويلپمنٹ کی دستاويزات مسلم ليگ ن کي ايک اور چالاکي کو بھی منظرعام پر لايا جس کےمطابق چھ ارب روپےسے زائد کي رقم جو پنجاب حکومت نے دو ہزار گیارہ، بارہ اور تيرہ کےمالي سال ميں توانائي کےمنصوبوں کے ليے مختص کي تھي وہ بھی ميٹروبس لاہور پر خرچ کردي گئي۔ سیاسی چال اس میں یہ چلی گئی کہ اس وقت  وفاق ميں پيپلزپارٹي کي حکومت تھي اوربجلي کي لوڈشيڈنگ کا دورانيہ دن بدن بڑھ رہاتھا۔ اسي لوڈشيڈنگ کو خادم اعلیٰ پنجاب نے سياسي مقاصد کےليےبھرپور طريقے سےا ستعمال کيا۔ شہباز شریف نے مينار پاکستان کے باہر ہاتھ ميں دستی پنکھے پکڑ کرکابينہ کےاجلاس کيے اور عوام کے متعدد احتجاجي مظاہروں ميں بھي شريک ہوتے رہے۔

اس وقت لوڈ شیڈنگ کا ذمہ داروفاق میں برسر اقتدار جماعت کو قرار دیا گیا کيونکہ بہرحال بجلي کا معاملہ وفاقي حکومت ہي کا ہوتاہے۔ ليکن اس سياسي چال سے يہ ثابت ہوتاہے کہ اگر اسوقت وزيراعلیٰ پنجاب شہبازشريف توانائي کےمنصوبوں پر کام کرتے تو لوڈشيڈنگ کم ہوتي اور پھر 2013کے انتخابات ميں ن ليگ کس طرح اسي لوڈشيڈنگ کا سہارا ليکر کاميابياں حاصل کرتي۔۔اب وہي پنجاب حکومت ،وفاق کےساتھ ملکر سب سے زيادہ رقم توانائي کےمنصوبوں پر خرچ کررہی ہے۔

محکمہ ہاؤسنگ کی اس دستاويز نے وزيراعلیٰ پنجاب شہبازشريف کے ايک اور بڑے دعوے کو بھي جھوٹا ثابت کردياکہ ميٹرو بس لاہور پر صرف 28سے 29 ارب روپے خرچ ہوئے ہيں۔ دستاویز کے مطابق میٹرو بس منصوبے پر 32ارب روپے تو وہ خرچ کيےگئے جو چھوٹے شہروں کي اسکيموں سے نکالےگئے جبکہ 12 ارب روپے بجٹ سے بھی خرچ کیے گئے۔ کل 44 ارب روپے کی رقم تو یہ بن گئی جبکہ زمين کي خريداري کے لیے 8 ارب روپے اس کے علاوہ ہيں۔

Punjab-Assembly-1

اسي دستاويز پر بہاولپور سے جماعت اسلامي کے رکن پنجاب اسمبلي ڈاکٹر وسيم اختر نے اسمبلی ميں آواز اٹھائي اور اسے حق تلفي اور ناانصافي قرارديتےہوئےواک آؤٹ کيا۔  وسيم اخترکے مطابق  يہي وہ وجوہات ہيں جس کے باعث وہاں کي عوام عليحدہ صوبے کا مطالبہ کرتي ہے۔ اپوزيشن ليڈر محمودالرشيد کہتے ہیں کہ  ميٹروبس منصوبے کےليے جنوبي پنجاب کي عوام سے جو ظلم کياگيا اگر وہي زيادتي اورنج لائن ٹرین منصوبے کیلئےبھی کي گئي تو ايوان ميں دمادم مست قلندر ہوگا۔

دوسري طرف ترجمان پنجاب حکومت زعيم قادري اور وزيرقانون پنجاب رانا ثناء اللہ ان خفيہ دستاويزات کے سامنے آنے کےبعد يہ دليل دے رہےہيں کہ ميٹرو بس منصوبہ پہلے مکمل کرنے کےليےايسا کياگياجبکہ ديگرشہروں کےمنصوبوں ميں ابھي تاخير تھي۔

سياسي مبصرين کا کہناہے کہ یہ گڈ گورننس تو نہيں ہے بلکہ آئندہ انتخابات ميں انہي ناانصافيوں اورحق تلفيوں پر مسلم ليگ ن کو مشکلات درپیش آسکتی ہیں۔

PTI

PUNJAB

cm punjab

PUNJAB ASSEMBLY

Metro Bus Project

Orange Line Project

Tabool ads will show in this div