"مقبوضہ کشمیر میں صورتحال ناقابل برداشت ہوتی جارہی ہے"

Gillani

سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ ریاست میں صورتحال دن بہ دن ناقابل برداشت ہوتی جارہی ہے اور یہاں انسانی خون کی وقعت پانی کے برابر بھی نہیں رہ گئی ہے۔

کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق سید علی گیلانی نے پلوامہ میں بھارتی فوج اور پولیس کی فائرنگ سے دو معصوم طالب علموں کی شہادت کو دل دہلا دینے والا واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہر قتل کے بعد محض ہڑتال کرنا کافی نہیں ہے لیکن بھارتی حکومت نے ہمارے لیے کوئی دوسرا آپشن کھلا نہیں چھوڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر سانحے کے بعد کرفیو نافذ کرکے اور ہزاروں مسلح فوجی اہلکاروں کو تعینات کرکے لوگوں کے پُرامن احتجاج کو ناممکن بنادیا جاتا ہے۔

سید علی گیلانی نے کہا کہ ہمارا واسطہ ایک بدترین قسم کے سامراج سے پڑا ہے جس کے ہاں انسانی اور اخلاقی قدروں کا کوئی پاس ولحاظ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ایک بڑی جمہوریت ہونے کا دعویدار ہے لیکن کشمیر میں اس کی پالیسیاں جمہوری دعوے کے ساتھ کوئی میل نہیں کھاتی ہیں اور یہاں اس کے پاس انسانی زندگیوں کی قدروقیمت کیڑے مکوڑوں کے برابر بھی نہیں ہے۔

funeral-danish-shaista

سید علی گیلانی نے کہا کہ طالب علموں کی شہادت سے میرا دل مجروح ہوا ہے اور میں خون کے آنسو روتا ہوں کہ آخر کب تک ہماری قوم مصائب کے یہ پہاڑ جھیلتی رہے گی۔

انہوں نے پلوامہ میں دوطالب علموں کی شہادت کے بعد کرفیو نافذ کرنے، تحریکِ آزادی کے سینئر رہنماﺅں میر واعظ عمر فاروق، محمد اشرف صحرائی، شبیر احمد شاہ، ایاز اکبر، محمد اشرف لایا اور دیگر کو گھروں اور تھانوں میں نظربند کرنے اور حریت پسندوں کے گھروں پر مسلسل چھاپے مارنے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال قرار دیا ہے۔

انہوں نے پلوامہ سانحے کی کسی غیرجانبدار ادارے کے ذریعے تحقیقات کرانے اور قاتلوں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ سماء/اے پی پی

Hurreyat leader

SYED ALI GEELANI

Mirwaiz Umar Farooq

Pulwama Burns

two students martyred

Tabool ads will show in this div