دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی معیشت کی قربانیاں

New Terrorism Coast SP Report 13-02

اسلام آباد:دس سال میں دہشت گردی نے معیشت کے پیروں تلے زمین کھینچ لی ۔ لیکن جہاں ضرب عضب اور کراچی آپریشن نے دہشت گردوں پر زمین تنگ کردی وہیں معیشت کو بھی بھرپور سہارا دیا ۔

دہشت گردی نے سرمایہ کاروں کو تو خوفزدہ کیا ہی، عالمی دنیا میں پاکستان کے تاثر کو بھی بڑا دھچکا لگایا۔ دس برس میں معیشت 107 ارب ڈالر کا خسارہ نہ اٹھاتی تو آج ملک کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا اور کم از کم عوام لوڈشیڈنگ کو ہی بھول چکے ہوتے۔پچھلے دو برس سلگتی معیشت کے لیے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ثابت ہوئے۔

اقتصادی سروے کے مطابق پچھلے سال دہشت گردی کے نتیجے میں ہونے والا خسارہ ایک تہائی گھٹ کر ساڑھے چار ارب ڈالر سالانہ رہ گیا۔ اس کی بڑی وجہ شمالی وزیرستان میں ضرب عضب اور کراچی آپریشن کا آغاز تھا۔

اقتصادی سروے کے مطابق پچھلے سال دہشت گردی سے نمٹنے پر اخراجات دگنے ہو کر 620 ارب ڈالر ہوگئے۔ اسی طرح برآمدی آرڈرز ہاتھ سے نکلنے کا نقصان بھی 40 فی صد بڑھ گیا۔ مگر صنعتی پیداوار، ٹیکس وصولی اور غیرملکی سرمایہ کاری پر دہشت گردی کے گہرے سائے کافی حد تک چھٹتے دکھائی دیے۔

معدنی دولت اور قدرتی مناظر سے مالا مال بلوچستان اور خیبر پختونخوا دہشت گردی کا سب سے زیادہ نشانہ بنے۔ ایسے میں یہاں کوئی آنے کو تیار نہ تھا۔۔

بیرونی سرمایہ کار نہ آتے تو پاکستانیوں کو باہر جانا پڑتا جس سے اخراجات بڑھتے چلے گئے۔

سرمایہ کاروں کو ملک میں لانا اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ آپریشن سے بھاگتے بزدل دہشت گردوں نے پچھلے ایک سال سے تعلیم کو نشانے پر لینے کی کوشش کی۔ مگر آرمی پبلک اسکول کا سانحہ ہو یا باچا خان یونیورسٹی پر حملہ، پوری قوم ایک ہو کر انتہا پسندی کے خلاف ڈٹ گئی۔

اتقصادی راہداری اور سستے تیل کی بنا پر 2016 معیشت کے لیے ایک گیم چینجر بن سکتا ہے۔ دس سال پہلے 8 فی صد کی شرح سے دوڑنے والی معیشت ایک بار پھر ٹریک پر ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے اور اب وقت ہے اس ناسور کو جڑ سے ختم کر کے آگے بڑھا جائے۔ سماء

pak army

PML N

War on Terror

Tabool ads will show in this div