اورنج لائن قاتل منصوبہ۔۔۔۔۔؟

3

-----**  تحریر:محمدعلی جڑھ  **-----

پنجاب کے دل لاہور میں میٹرو بس سروس کی تکمیل کے بعد اورنج لائن منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے، ٹھوکر نیاز بیگ سے ڈیرہ گجراں تک 27 کلو میٹر پر محیط یہ ٹریک شہر کے بیچوں بیچ سے گزرے گا، منصوبے پر 3 کھرب کے لگ بھگ لاگت آئے گی اور تقریباً ڈھائی سال میں یہ مکمل ہوگا، اورنج لائن منصوبہ کے ٹریک پر کام کرنیوالی ہیوی مشینری اور پلرز کیلئے کی گئی کھدائی سے بنے بڑے بڑے گڑھے اب تک مزدوروں سمیت 10 افراد کی جان لے چکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اب ناقدین نے اس منصوبے کو اورنج ٹرین قاتل منصوبہ یا ریڈ لائن منصوبہ قرار دینا شروع کردیا ہے۔

3a

لوگ کہتے ہیں کہ منصوبہ دو سال سے زائد عرصہ تک جاری رہے گا، اگر حفاظتی اقدامات نہ کئے گئے تو یوں ہی لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھوتے رہیں گے اور یہ منصوبہ زندہ دلان لاہور کیلئے ایک ڈراؤنا خواب بن جائے گا، اس منصوبے سے متاثر ہونیوالے شہری تو آئے روز سراپا احتجاج رہتے ہی ہیں اب اس سے ہونیوالی ہلاکتوں نے انہیں مزید خوفزدہ اور برہم کردیا ہے، ذاتی، تاریخی عمارتوں اور کاروبار کی تباہی سمیت اربوں روپے کا مالی نقصان تو وہ پہلے ہی برداشت کررہے ہیں، اب بے گھری کیساتھ ساتھ اس اورنج لائن منصوبے نے ان کی جانیں اور خون لینا بھی شروع کردیا ہے، جس سے وہ شدید مشکلات اور پریشانی سے دوچار ہیں۔

دیکھا جائے تو کئی تاریخی و ثقافتی عمارتیں جن میں ’’بنگالی بلڈنگ، چوبرجی، کپور تھلہ ہاؤس، مہاراجہ بلڈنگ اور لکشمی گیتا بھون بلڈنگ شامل ہیں‘‘ کو تباہی و بربادی کا سامنا ہے، حتیٰ کہ ریلوے اسٹیشن کے قریب حاجی کیمپ چوک میں موجود بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ کی تاریخی رہائش گاہ جو اقتدار کے عروج و زوال دیکھنے کی عینی شاہد تھی وہ بھی اس اورنج لائن منصوبے کی نذر ہوکر زمین بوس ہوچکی ہے۔

3b

اس منصوبے کیلئے مجموعی طور پر 2500 کینال سرکاری و نیم سرکاری اراضی حاصل کی جارہی ہے، جس کیلئے 20 ارب روپے سے زائد کا بجٹ مختص کیا گیا ہے، ریلوے ٹریک کیساتھ ساتھ روٹ پر 26 اسٹیشن بنائے جائیں گے ان میں سے 2 انڈر گراؤنڈ اور 2 ایلیویٹیڈ ہوں گے، اورنج لائن منصوبے کی تکمیل سے کتنے لوگ مستفید ہوں گے، یہ کس حد تک کامیاب ہوتا ہے اس بارے میں تو ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا، البتہ پنجاب حکومت کا اورنج ٹرین منصوبہ اپنے آغاز سے ہی متنازع چلا آرہا ہے۔

پی ٹی آئی سربراہ عمران خان تو شروع دن سے ہی اورنج لائن ٹرین منصوبے کی مخالفت کررہے ہیں، اب بلاول بھٹو نے بھی اپنے تمام صوبائی پارٹی رہنماؤں کو ہدایت کردی ہے کہ وہ متاثرین کا نا صرف بھرپور ساتھ دیں بلکہ انہیں قانونی معاونت فراہم کریں اور ان کیساتھ مظاہروں میں بھی شریک ہوں۔

اپوزیشن جماعتیں اس منصوبے کو عوام دشمن اور ملکی معیشت پر ایک اور بوجھ قرار دے رہی ہیں، ان کا مؤقف ہے کہ میٹرو بس سروس کی طرح یہ بھی ایک ناکام منصوبہ ثابت ہوگا کیونکہ میٹرو بس سروس خسارے میں ہونے کی وجہ سے ماہانہ ایک ارب روپے کی سبسڈی حاصل کررہی اور قومی خزانے پر ایک بوجھ بن چکی ہے، اورنج لائن بھی اسی طرح خزانے پر مالی بوجھ ہی بنے گی جبکہ اس کی زد میں آنیوالے لاکھوں لوگ بے گھر ہورہے ہیں، ان کی اربوں روپے کی جائیدادیں اور کاروبار تباہ ہوچکے ہیں۔

3c

ناقدین کی تنقید کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے پنجاب کے خادم اعلیٰ کا کہنا ہے کہ اورنج لائن منصوبے کی مخالفت پاکستان کی ترقی کے دشمن کر رہے ہیں، مٹھی بھر مخالفین کو پہلے بھی ترقی کے سفر میں رکاوٹیں ڈالنے پر شرمندگی کے سوا کچھ نہ ملا اور اب بھی ان عناصر کو مایوسی ہوگی، یہ عناصر ذاتی مفادات کی خاطر پاکستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں، وہ مزید کہتے ہیں کہ منصوبے کی تکمیل سے لاکھوں لوگوں کو روزانہ سفری مسائل سے نجات ملے گی۔

اورنج لائن منصوبہ کے فائدے اور نقصان پر تو ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے، البتہ 10 قیمتی جانیں لیکر یہ قاتل منصوبہ ضرور بن چکا ہے، اس سے ہونیوالے قیمتی جانوں کے ضیاع کا حکومت کو نوٹس ضرور لینا چاہئے اور متاثرین کی مالی امداد بھی یقینی بنانی چاہئے۔

PTI

PUNJAB

ORANGE LINE TRAIN

Tabool ads will show in this div