گھوڑوں کی تجارت بند

Punjab-Assembly-1

تحرير: محمد قربان 

حکومت پنجاب نے بلدياتی انتخابات کے سب سے اہم مرحلے ميں اپنی  کاميابی  يقينی  بنانے کے لئے ہارس ٹريڈنگ کے آگے پل باندھ ديا ہے۔ پنجاب  اسمبلی  نے ايک ايسے مسودہ قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت ميئراور چيئرمين ضلع کونسل کا انتخاب اب خفيہ ووٹنگ سے نہيں ہوگا۔ مخصوص نشستوں کا فيصلہ بھی انتخابات کے بجائے متناسب نمائندگی  سے کيا جائے گا۔

حاليہ بلدياتی  انتخابات ميں آزاد ارکان کی بڑی تعداد منتخب ہوئی ہے ان ميں سے کئی تواپنا وزن سياسی جماعتوں کے پلڑے ميں ڈال چکے ہيں ليکن کئی  اس تاک ميں ہيں کہ ضلعی سربراہوں کے انتخاب کے لئے گھوڑوں کا ميدان سجے اور وہ  کام دکھائيں۔ مسلم ليگ نون کو يہ خدشہ بھی  ہے کہ جن شہروں ميں مقابلہ بڑا سخت ہونے جا رہا ہے وہاں ان کے گھوڑے کسی اور کاچارہ کھانے نہ نکل جائيں۔ اسی لئے انہيں نيا قانون متعارف کروانا پڑا اور اس کی  وجہ بتائی جا رہی ہے کہ ہارس ٹريڈنگ کا خاتمہ ہو۔

سس

ديرآئد درست آئد، شريف برادارن کو اس کا احساس تو ہو رہا ہے کہ سياست ميں ہارس ٹريڈنگ کوئی پسنديدہ فعل نہيں ہے۔ عوام ابھی انيس سو اٹھاسی  کے انتخابات کو نہيں بھولے جب بے نظیر وزیراعظم بن گئيں تو نوازشریف نے پنجاب کی وزارت اعلی کے لئے چھانگا مانگا سیاست کی ۔ آزاد منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی کو نوٹوں کے بريف کيس بھجوائے گئے اور ان کی  ہمدردياں خريدنے کے لئے جو کچھ ہوسکتا تھا سب کيا گيا۔ يہی نہيں،بےنظیر  کی حکومت الٹانے کے لئے تحریک عدم اعتماد آئی تو يہاں بھی حکومتی ایم این ایز کو خریدنے کی کوشش کی گئی جو کامياب نہ ہوسکی۔ انيس سو ترانوے ميں جماعت اسلامی آئی جے آئی سے علیحدہ ہوئی  تو اس کی وجہ بھی  جماعت اسلامی  کے ارکان کو توڑنے کی  کوشش تھی ۔

دو ہزار آٹھ ميں پیپلز پارٹی کیساتھ اتحاد کرکے شہبازشريف وزارت اعلی کے منصب پر فائز ہوگئے ليکن جب پیپلزپارٹی نے راہيں جدا کيں تو ايک بار پھر ہارس ٹريڈنگ شروع ہوگئی اور شہبازشریف نے ق لیگ میں فارورڈ بلاک بنا کرعطاءمانیکا سمیت ق لیگ کے چاليس سے زائد ایم پی اے اپنے ساتھ ملا لئے۔ کسی کوعلاج کے نام پر ڈالر ملے تو کسی کو ترقياتی فنڈز اور مراعات کی شکل ميں نوازا گيا۔

دد

ہارس ٹريڈنگ کا ايک واقعہ معروف صحافی سلیم صافی کچھ اس طرح بتاتے ہيں کہ ،''آفتاب شیرپاؤ کے ساتھ خیبر پختونخوا کی وزارت اعلیٰ پر قبضے کیلئے مقابلے کے وقت میاں محمد نوازشریف نے خیبر پختونخوا کے اراکین اسمبلی کو خریدنے کی ذمہ داری اپنی پارٹی کے غفور خان جدون اور اے این پی کے فرید خان طوفان کو دی تھی۔ کیپٹن صفدر اور محترمہ ریحام خان کے علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک رکن صوبائی اسمبلی کو قائل کرکے فرید طوفان میاں صاحب کے پاس لاہور لے گئے۔ بات طے ہوگئی لیکن ایم پی اے صاحب نے کہا کہ انہوں نے قسم کھا رکھی ہے  وہ میاں صاحب کے پیسوں کو ہاتھ نہیں لگائیں گے۔ میاں صاحب اور فرید طوفان نے ان سے کہا کہ آپ اپنی قسم پر قائم رہئے۔ آپ جھولی کو ہاتھوں سے پکڑ کر آگے لائیے۔ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ فرید طوفان نے رقم ان کی جھولی میں ڈال دی۔ ایم پی اے صاحب رقم کو ہاتھ لگائے بغیر جھولی میں گاڑی تک لے گئے اور پچھلی نشست میں پھینک کر ڈرائیور کو اسے گننے اور سنبھال کر رکھنے کا کہا۔ یوں ان کی قسم کی لاج بھی رہ گئی اور میاں صاحب کا کام بھی ہوگیا۔

فف

اب اگر مسلم ليگ نون ارکان کی خريد وفروخت روکنے اور ماضی سے سبق سيکھ کر آگے بڑھنے کا ارادہ رکھتی ہے تو اس کی حوصلہ افزائی کی  جانی  چاہئے۔

PUNJAB ASSEMBLY

LOCAL BODIES

Tabool ads will show in this div