کالمز / بلاگ

انتظارحسین ہم سے بچھڑ گئے

Intizar-Hussain

تحریر : نسیم خان نیازی

انتظارحسین نقادوں کی محفل میں اپنے افسانوی ادب کے بارے میں اکثر کہا کرتے کہ لکھنے والے جو بھی لکھتے ہیں ، اس میں آدھے معنی ہوتے ہیں ، باقی آدھے معنی پڑھنے والوں میں ہوتے ہیں ۔ آج ان کے بارے میں جو باتیں لکھی جارہی ہیں یا ماضی میں لکھی گئیں ، وہ انتظار حسین کے اس جملے کی سچائی ثابت کرتی ہیں ۔ ہر کسی نے اپنے انداز سے انتظار حسین کو پہچانا ۔ پھر بھی ان کی شخصیت کے کچھ پہلو ایسے ہیں جن پر زیادہ تر اہل دانش کی رائے ایک جیسی ہے ۔ ادب و صحافت کے گہرے ربط کا عملی نمونہ ہونے کے ساتھ ساتھ  اپنی کہانیوں کے ذریعے لوگوں کو تاریخ سے روشناس کرانے کا پہلو انتطار حسین کا ایسا ہنر ہے جو سب کےلیے متفقہ علیہ ہے ۔

انتظارحسین 7 دسمبر  1923ء کو موجودہ بھارت کے ضلع میرٹھ  میں پیدا ہوئے ۔  ادبی زندگی کی ابتداء شاعری سے کی لیکن جلد ہی افسانہ نگاری کی طرف آگئے ۔انتظار حسین کی تحریروں میں پاکستان میں ان کی ہجرت کا بہت اثر ہے ۔ نقادوں کے مطابق اردو کے جدید فکشن کے تین اہم دور ہیں ۔ پہلا دور پریم چند ہیں ،دوسرا سعادت حسن منٹو ہیں جب کہ تیسرا اور اہم دور قراۃ العین اور انتظار حسین کا ہے۔ یہ دور انتہائی تبدیلیوں اور آشوب کا دور ہے اور اس دور کی تمام تبدیلیوں کا سراغ ہمیں انہی کے ہاں ملتا ہے ۔ انتظار حسین قیام پاکستان کے بعد لاہور آئے اور یہیں کے ہوکر رہ گئے ۔

پاکستان آنے کے بعد انتظار حسین نے پہلے ہفت روزہ ’’نظام‘‘ میں مدیر کے طور پر ملازمت اختیار کی ۔ روزنامہ ''امروز '' لاہور میں  1949 ء تا 1953 ءتک کام کیا ۔  روزنامہ ’’آفاق‘‘ لاہور سے 1955 ء تا 1957  وابستہ رہے۔ پھر روزنامہ ’’مشرق‘‘ کے ساتھ منسلک ہوئےاور 1963 ء سے 1988 تک کالم لکھتے رہے ۔ مشرق میں ان کے کالموں کا سلسلہ ’’لاہور نامہ‘‘ بہت مشہور ہوا ۔

Intazar-730x548

روزنامہ مشرق سے ریٹائرمنٹ کے بعد انتظارحسین نے انگریزی کالم نگاری میں طبع آزمائی کی ۔ فرنٹیئر پوسٹ  اور ڈان میں ادبی مسائل ، نئی کتابوں اور اہم شخصیات کے حوالے سے کئی معلوماتی کالم لکھے ۔ ان کے افسانوی ادب سے متعلق بعض دانشوروں کی رائے ہے کہ ان کا فن عوامی نہیں ، ان کے افسانے کو سمجھنے کےلیے وسیع مطالعہ ہونا بھی لازمی ہے ۔ انہوں نے تین ناول ، آگے سمندر ہے ، بستی ، چاند گہن اورایک ناولٹ دن تحریر کیا ۔  1979ءمیں لکھا جانے والا ناول بستی عالمی شہرت رکھتا ہے۔ اسے انتظارحسین ہی کا نہیں، اردو کے بھی بہترین ناولوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کا انگریزی ترجمہ فرانسس پریچٹ نے1995ءمیں کیا اور اس کا دوسرا ایڈیشن نیویارک بک ریویو نے شائع کیا ۔

انتظار حسین کو برطانوی انعام ''مین بُکر انٹرنیشنل'' کے لیے دس بہترین فکشن لکھنے والوں میں منتخب کیا گیا۔  انعام تو نہ مل سکا مگر اس سے انتظار حسین کی شہرت پوری دنیا میں پھیل گئی ۔انتظار حسین کے سات افسانوی مجموعے شائع ہوچکے ہیں جن میں گلی کوچے، آخری آدمی، خالی پنجرہ، شہر افسوس، خیمے سے دور، کنکرے اورکچھوے شامل ہیں ۔ انہوں نے ’’چراغوں کا دھواں‘‘ اور ''دلی تھا جس کا نام'' کے عنوان سے دو حصوں میں آپ بیتی بھی لکھی  ۔ تنقید سے متعلق ایک کتاب '' نظرئیے سے آگے '' بھی انتظار حسین کی عمدہ کاوش ہے ۔ انتظار حسین زندگی کے آخری ایام میں لاہور کے جیل روڈ پر واقع مکان میں مقیم تھے ۔

pak tea house

معروف دانشور وجاہت مسعود صاحب مرحوم کی لاہور سے وابستگی کو بڑے خوبصورت انداز میں کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں ۔ '' پاک ٹی ہاؤس ، ٹولنٹن اور ناصر باغ  ، اور ہاتھ بھر کے فاصلے پر کرشن نگر کی گلیاں ۔اس راستے کی کون سی اینٹ ہے جسے انتظار حسین کے سجل پاؤں نصیب نہیں ہوئے۔ خاک کا اتنا چمک جانا ذرا دشوار تھا، یہاں کون سی عمارت ہے جسے انتظار حسین نے بیتے ہوئے لاہور کی تصویر بنا کے نہیں رکھ دیا۔ کوئی ٹھیلے والا ایسا نہیں ، یہاں کوئی پان فروش ایسا نہیں جسے انتظار حسین نے محبت کی آنکھ سے نہ دیکھا ہو اور اسے ایک گزر تے ہوئے عہد کا جیتا جاگتا کردار نہ بنا دیا ہو'' ۔

آخر میں انتظار حسین کےلیے اردو کے ممتاز شاعر امید فاضلی کا ایک شعر جن کا تعلق بھی انتظار حسین کی طرح میرٹھ سے تھا ۔

کل اس کی آنکھ نے کیا زندہ گفتگو کی تھی خیال تک نہ ہوا ، وہ بچھڑنے والا ہے

intizar hussain

pak tea house

fiction writer

Tabool ads will show in this div