زیکا وائرس بے قابوہورہا ہے

Feb 02, 2016

INT ZIKA VIRUS PKG 02-02 IRSHAD

[video width="640" height="360" mp4="http://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2016/02/INT-ZIKA-VIRUS-PKG-02-02-IRSHAD1.mp4"][/video]

جنیوا:زيکا وائرس اب بھی بے قابو ہے۔لاطيني امريکا ميں ہزاروں افراد اس وائرس سے مہلک مرض کا شکار ہوگئے ہیں۔لاکھوں افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کيا جا رہا ہے۔

 زیکا ایسا خطرناک مچھر ہےجس میں موجود وائرس ماں کے پیٹ میں موجود بچے کو نشانہ بناتا ہے۔زیکا وائرس سے بچہ پیدا ہونے سے قبل ہی مائیکرو سیپلے نامی بیماری کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس بیماری سے بچے کے دماغ کی نشونما رک جاتی ہے،جوعمر بھرکےلیئے نہ صرف ذہنی اور جسمانی معذوری کا بھی سبب بنتی ہے۔

یہ مہلک مچھر سب سے پہلے سب سے پہلے افریقی ملک یوگنڈا کے زیکا نامی جنگل میں پیدا ہوااوراس کا شکار سب سے پہلے یوگنڈا کے بندر ہوئے، مگر اس مچھر کے مرض نے وبائی شکل افریقہ سے ہزاروں میل دور لاطینی امریکا کے میں اختیار کی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس مچھر کے خطرات کو مکمل طور پر سمجھا بھی نہیں جا سکا ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ لاطینی امریکا میں 40 لاکھ بچے زیکا سے متاثر ہوسکتے ہیں۔زیکا مچھر کے ذریعے منتقل ہونے والے وائرس سے بچاؤ کی اب تک کوئی ویکسین یا علاج نہیں ڈھونڈا جا سکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زیکا وائرس کاعلاج تلاش کرنےمیں کئی برس لگ سکتےہیں۔  سما

latin america

zika

mosquito diseases

Tabool ads will show in this div