فرقہ وارانہ حملوں میں دو ہزار نوے افراد شہید ہوے، رپورٹ

Nov 30, -0001

اسلام آباد: وزارت داخلہ نے سینیٹ کو بتایا ہے کہ طالبان سے مذاکرات کے بعد ملک میں کوئی میزائل حملہ نہیں ہوا، دو خودکش حملوں میں سترہ افراد شہید ہوئے،گذشتہ سال دینی مدارس کو بیرون ملک سے چھبیس کروڑ روپے اور سولہ ہزار ڈالر کی امداد ملی۔

طالبان سے مذاکرات، میزائل حملوٕں سے ملی نجات، خودکش  دھماکے بھی ہوئے کم، وزارت داخلہ کے سینیٹ میں انکشافات۔

وزارت داخلہ نے سینیٹ کو تحریری آگاہ کیا کہ طالبان سے مذاکرات کے بعد کوئی میزائل حملہ نہیں ہوا۔ اس دوران اسلام آباد اور پشاور میں صرف دو خودکش حملے ہوئے جن میں سترہ افراد جاں بحق ہوئے۔ دینی مدارس کو گذشتہ سال بیرون ملک سے پچیس کروڑ اسی لاکھ روپے اور سولہ ہزار ڈالرملے۔ زیادہ امداد قطر سے آئی جبکہ باقی رقم سعودی عرب، یو اے ای، بحرین، کویت اور ہانگ کانگ سے ملی۔

دو ہزار آٹھ کے بعد فرقہ وارانہ حملوں میں دو ہزار نوے افراد شہید ہوئے۔ پنجاب میں ایک سو چار، سندھ دو سو باون،خیبرپختونخوا بائیس، بلوچستان سات سو سینتیس،فاٹا آٹھ سو سڑسٹھ، گلگت ایک سو تین اور اسلام آباد میں پانچ افراد شہید ہوئے۔ ایک سو تہتر ذمہ داروں کو گرفتار کیا گیا۔

وزارت داخلہ نے مزید بتایا کہ ملک میں تاوان کیلئے اغواء کئے گئے افراد کی تعداد صرف دس ہے۔ پاکستان میں شناختی کارڈ رکھنے والے ایک کروڑ نو لاکھ افراد کے فنگر پرنٹس نادرا کے پاس موجود نہیں۔ سماء

Tabool ads will show in this div