غداری کیس: ایف آئی اے رپورٹ سے متعلق فیصلہ محفوظ

Nov 30, -0001

اسلام آباد: خصوصی عدالت نے سنگین غداری کیس سے متعلق ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ ملزم کو فراہم کرنے سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

پرویز مشرف کے وکیل نے مقدمے کا تمام عمل ہی چیلنج کر دیا۔ فروغ نسیم کہتے ہیں آرٹیکل چھ کے تحت ٹرائل شفاف ہونا چاہئے۔

خصوصی عدالت کے روبرو، پرویز مشرف کے وکیل فروغ نسیم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ موجود ہے تاہم ایف آئی اے کی رپورٹ اس ایکٹ کے زمرے میں نہیں آتی۔ پراسیکیوٹر نے بھی اس ایکٹ کا حوالہ نہیں دیا۔

فروغ نسیم نے مقدمے کے ٹرائل کا پورا عمل ہی چیلنج کر دیا اور کہا کہ صرف ایک رپورٹ نہیں، مقدمے سے متعلق تمام رپورٹس وکلاء صفائی کو فراہم کی جائیں۔ بتایا جائے انکوائری کب اور کیسے شروع ہوئی؟ مقدمے سے متعلق دستاویز کسی کلرک کی میز کے نیچے پڑی ہیں یا غائب کر دی گئیں معلوم نہیں۔

پراسیکیوٹر ڈاکٹر طارق حسن نے کہا کہ استغاثہ نے کبھی بھی تحقیقاتی رپورٹ کے خفیہ ہونے کا دعوی نہیں کیا۔

جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیئے کہ رپورٹ خفیہ ہوتی تو میڈیا پر نہ چلتی۔ اس معاملے پر فیصلے کیلئے کچھ وقت درکار ہے۔

عدالت نے تحقیقاتی رپورٹ سے متعلق فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے سماعت اٹھائیس اپریل تک ملتوی کردی۔

فیصلہ

رپورٹ

membership

ایف آئی اے