پاکستان،ایران کے مابین تجارتی حجم بڑھانے کی مفاہمتی یاداشت پر دستخط

704220-iranianborderguardAFPx-1399241795-906-640x480 کوئٹہ / اسلام آباد / کراچی : پاکستان اور ایران نے غیر قانونی تارکین وطن کے ادراک، بارڈر سیکورٹی میں بہتری ، دہشت گردی ، منشیات اور اسملنگ کے خاتمے ، سالانہ تجارتی حجم کو پانچ ارب ڈالر سے بڑھانے کی مفاہمتی یاداشت پر دستخط کر دیئے۔ پاکستان اور ایران نے غیر قانونی تارکین وطن کے ادراک، بارڈر سیکورٹی میں بہتری ، دہشت گردی ، منشیات اور اسملنگ کے خاتمے اور دونوں ملکوں کے درمیان سالانہ تجارتی حجم کو پانچ ارب ڈالر سے زائد بڑھانے کی مفاہمتی یاداشت پر دستخط کرتے ہوئے اس پختہ عزم کا اعادہ کیاہے کہ دونوں ملک اپنی سرزمین دہشت گردی کے مقاصد کے لئے ہر گز استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہفتہ کو 19 ویں پاک ایران جوائنٹ بارڈر سیشن کے اختتام پر دونوں ملکوں نے مفاہمتی یاداشت پر دستخط کئے جس میں ایران کی نمائندگی ڈپٹی گورنر سیستان علی اصغر میر شکاری جبکہ پاکستانی وفد کی نمائندگی چیف سیکرٹری بلوچستان سیف اللہ چھٹہ نے کی۔ مفاہمتی یاداشت پر دستخط کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے دونوں ممالک کے نمائندوں نے بتایا کہ پاک ایران جوائنٹ باڈر تین روزہ سیشن میں بارڈر سیکورٹی کی بہتری ، تجارتی تعلقات کے فروغ منشیات، اسملنگ اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جامع تجاویززیر غور آئیں جن پر دونوں ممالک نے اتفاق کا اظہار کرتے ہوئے باہمی رابطوں کے فروغ پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے بارڈر ایریا کے علاقوں میں بجلی فراہمی کے لئے ایران مدد کرے گا۔ جبکہ اسملنگ روک کر پیٹرول اور دیگر تجاری اشیاءکی درآمد کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔اس مقصد کے لئے بلوچستان اور سیستان میں بارڈر مارکیٹیں قائم کی جائیں گی۔ ایران نے گوادر پورٹ کے ذریعے پاکستان کو یورپ تک تجارتی رسائی کے لئے چاہ بہار تا گوادر ریلوے لائن بچھانے کی تجویز بھی دی ہے۔ اس منصوبے کا ابتدائی سروے جلد شروع ہو گا۔ ڈپٹی گورنر سیستان علی اصغر میر شکار ی نے کہا کہ عالمی پابندیوں کے باوجود پاکستان اورایران کے تعلقات میں کوئی دوری نہےں آئی ۔دونوں ممالک کے عوام کے مابین احترام کے رشتے قائم ہیں۔ جنہیں مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک ایران سرحد پر اطمینان بخش صورتحال ہے اور 900 کلومیٹر سے زائد طویل مشترکہ بارڈر کے محافظ دونوں ملکوں کے قریبی رہنے والے لوگ ہیں۔ دشمنوں نے دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوششیں کیں۔ لیکن دشمن اپنے مقاصدمیں ناکام رہا۔ پاکستان اور ایران کے نمائندوں نے واضح کیا کہ دونوں ملک بارڈر پر پابندیوں کے حق میں نہیں بلکہ قانونی طور پر تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے بارڈر کھولنے کے حق میں ہیں۔دہشت گردی کے خلاف دونوں ممالک نے جامع اور موثر حکمت عملی وضع کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاک ایران جوائنٹ بارڈر کا آئندہ اجلاس چاہ بہار میں ہو گا، جس میں دونوں ملکوں کے حکام مفاہمتی یاداشت پر عمل درآمد اور دیگر مسائل کے حل کا جائزہ لیں گے۔ سماء

Border and Security

Tabool ads will show in this div