کالمز / بلاگ

سفید نگینوں سے سُنہرے موتیوں تک

1تحریر : ثمن خان ہلکی پھلکی بھوک مٹانے میں چھلي سے مفید چیز اور کوئی نہیں، کھیتوں سے نکل کر یہ منڈیوں میں آتی ہیں، جس کے بعد زیادہ تر لوگ اسے چھلی فروشوں کی ریڑھیوں میں ہی دیکھتے ہیں لیکن منڈی سے ریڑھی تک آنے کے لئے یہ کن مراحل سے گزرتی ہے، یہ شاید کم لوگ ہی جانتے ہوں گے۔ لاہور کے بند روڈ پر چار نمبر ٹي کو جانيوالے راستے سے ہر صبح دھوئيں کے بادل اُٹھتے ہيں، دور سے ديکھيں تو دُھند کي بدلي چھائي لگتي ہے ليکن تھوڑا پاس جائيں تو نظر آتا ہے کہ دُھندلي صبح پر چھلي فروش محنت کا تڑکہ لگا رہے ہيں، جس سے يہاں کا نظارہ سُرمئي چادر اُوڑھ ليتا ہے۔ اس سڑک پر ایک ہی ساتھ تین بھٹیاں قائم ہیں۔ سردی ہو یا گرمی یہاں علی الصبح ہی چھلی فروش پُہنچنا شروع ہو جاتے ہیں۔ بھٹیوں کے احاطے میں کھڑی اپنی ریڑھیاں باہر نکالتے ہیں اور لگ جاتے ہیں کام میں۔ ریڑھی بان دین محمد بتاتے ہیں کہ "میں آذان فجر کے وقت اُٹھتا ہوں، ہر صبح سبزی منڈی میں سٹوں کی بولی لگتی ہے جہاں سے تمام چھلی فروش دو سے تین من سٹے روزانہ خریدتے ہیں اور پھر ان کچے دانوں کو لیکر اپنی اپنی بھٹیوں کا رُخ کرتے ہیں۔" 2 لاہور میں تقریبا پندرہ کے قریب بھٹیاں ہیں جن میں سے بعض دریائے راوی کے کنارے تو کوئی رائیونڈ روڈ پر واقع ہیں۔ سبزہ زار اور ساندہ کلاں میں قائم بھٹیاں بھی چھلی فروشوں کا ٹھکانہ ہیں۔ موسم گرما میں ہر بھٹی پر پچاس سے زائد ریڑھیاں بھرنے آتی ہیں جبکہ سردیوں کے موسم میں ہر بھٹی پر یہ تعداد کم ہوکر بیس سے تیس رہ جاتی ہے۔ بھٹی والے جوان لکڑي کي خالي ريڑھيوں ميں سُلگتي راکھ ڈالنے کا کام کرتے ہیں، تیس سالوں سے ساندہ کلاں میں بھٹی چلاتے محمد اختیار نے بتایا کہ وہ ہر روز مغرب کے بعد اپنی بھٹی جلا لیتے ہیں، بارہ سے چودہ فُٹ گہری بھٹی میں بیس من کوئلہ ڈالا جاتا ہے اور اُسے تمام رات سُلگنے کے لئے چھوڑ دیا جاتاہے، صبح جب ریڑھی بان آتے ہیں تو بھٹی والے جوان سب ریڑھیوں کو باری باری جلتے کوئلے کی راکھ سے بھرنا شروع کردیتے ہیں۔ ہر ریڑھی کو جلتے شعلوں سے بھرنے کے لئے دو سو روپے وصول کئے جاتے ہیں۔ 3 سُلگتی راکھ کی ایک تہہ پر چھلي فروش قطار در قطار سٹے تب تک لگاتے رہتے ہیں کہ ایک ریڑھی میں ایک من سٹے سما جائیں۔ ان کچی چھلی پر جلتے کوئلے کی ایک اور تہہ بچھائی جاتی ہے۔ صبح کا اُجالا ہوتے ہي شروع ہونيوالے کام کا نظارہ اسی وقت قابل دید ہوتا ہے جب کچے سٹوں کوجلتے کوئلے کی تپش ملتی ہے۔ اور ہر طرف دھوئيں کے بادل چھا جاتے ہيں۔ گرم شعلے چھلي کو پکانے کے بعد جلا نہ ديں، اسي لئے کوئلے کی آخری تہہ پر پاني کا چھڑکاو کرکے کپڑے سے ڈھانپنا ضروری سمجھا جاتا ہے ۔۔ جس کے بعد گرما گرم چھلی فروخت کےلیے تیار ہوتی ہے۔ 444 55555                               بابا انور چالیس سال سے لاہور کی گلی گلی محلے محلے جا کر چھلی بیچتا ہے۔ کہتا ہے کہ "میرا روزگار اسی پیشے سے جُڑا ہے۔ برسوں سے میرا یہی معمول ہے لیکن جب ہم گلی محلوں میں جاتے ہیں تو بعض لوگ ہمیں بُہت حقیر سمجھتے ہیں۔ کوئی ریڑھی ہٹانے کو کہتا ہے تو بعض ایک چھلی کا دس روپے دینے کو تیار نہیں ہوتے۔ کہتے ہیں کہ پانچ روپے لگاو۔ اتنے کی تو ہمیں ایک کچی چھلی پڑتی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم کوئی ہزاروں روپے کماتے ہیں۔ حالانکہ صبح سویرے سے شروع ہونے والی محنت سارا دن پیدل چل کر ختم ہوتی ہے، تب جا کر کہیں پانچ سے آٹھ سو روپے تک ہاتھ آتے ہیں۔ ہمارا بھی گھر بار ہے، بچے ہیں اور بے شمار اخراجات۔" 6666ان سب چھلی فروشوں کی ایک ہی کہانی ہے جو سفید دانوں کو پکانے اور پھر انہیں بیچنے کے لئے دن رات خون پسینہ ایک کرتے ہیں۔ اس طرح سے چھلی کھانے کے شوقین افراد کو ذائقہ دار غذا بھی مل جاتی ہے اور ان محنت کشوں کو روزگار بھی۔ سماء

PUNJAB

corn

Vendors

Maze

Tabool ads will show in this div