کب تک چلے گا جھوٹ

aa

تحریر:احمد ولید

"کیا ہم ایک جھوٹی قوم ہیں؟" سوال بڑا سخت ہے لیکن ہے کافی حد تک سچ۔چندروز قبل لاہور پولیس کے سربراہ پھٹ پڑے ۔ وہ جھوٹے مقدمات درج کروانے کے رجحان پر خاصے برہم تھے  انھوں نے کہاکہ99 فیصد ایف آئی آرز جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں۔ ان میں سے بعض تو مکمل طور پرجھوٹی ہوتی ہیں اور جن میں سچائی ہو ان میں بھی جھوٹ کا تڑکہ لازمی لگا ہوتا ہے ۔ ایک لمحے کے لئے یہ مان لیتے ہیں کہ  پولیس افسرکی 99 فیصد والی بات بھی پورا سچ نہیں،مگریہ ایک تلخ حقیقت  ہے کہ معاشرے میں جھوٹ کا راج تو بہرحال ہے۔

ad

بے بس پولیس افسر نے اپنے ماتحتوں کی نااہلی کا برملا اعتراف کیا کہ وہ جان بوجھ کرجھوٹے مقدمات درج کرلیتے ہیں اور پھرجھوٹی ایف آئی آر سےلےکرجھوٹی گواہی تک صرف جھوٹ ہی چلتاہے۔اس افسرکاکہناتھاکہ کسی شہری کےگھریادکان پر ڈاکا پڑجائے تو وہ ایف آئی آر میں ایک لاکھ کی رقم کو بڑھا کر 10 لاکھ اور 4تولےسونا کو پچاس تولے لکھوانے میں ذرا بھی شرمندگی محسوس نہیں کرتا۔ایک شخص نے ذاتی لین دین کے تنازع پر دوسرے شخص کے خلاف گاڑی کا ساؤنڈ سسٹم اوراسٹپنی چوری کی جھوٹی ایف آئی آر کی درخواست دی اور پولیس نے بغیر تفتیش کیے ایف آئی آر درج کرلی۔جس کے بعد پولیس نے اس شخص کا جینا دوبھرکردیا اوراس جھوٹے کیس سے چھٹکارے کےلئے  اس شخص کو 4سال دھکے کھانا پڑے ۔

لڑکی گھرسے بھاگ کر مرضی کی  شادی کرلے توماں باپ کی طرف سے لڑکے کو  سبق سکھانے کے لیے اغوا کا جھوٹا مقدمہ درج کرانا ایک معمول ہے۔عدالت میں جھوٹی گواہی دینے والے جھوٹے ثابت ہونے کے باوجود دندناتے  پھرتے ہیں اورانہی عدالتوں کے باہر بڑی آسانی سے  نئے گاہک ڈھونڈ لیتے ہیں۔

KARACHI, PAKISTAN, JAN 05: People travel on an overloaded passenger vehicle due to non-availability of public transport as residents of city are facing problems during closure of gas at compressed natural gas (CNG) stations in Karachi on Thursday, January 05, 2012.  (Rizwan Ali/PPI Images).

جھوٹ بولنے والے جھوٹ پکڑے جانے پر بالکل بھی شرمندہ نہیں  ہوتے کیونکہ انہیں دوسرا جھوٹ بولنے کا فن بھی خوب آتا ہے۔آپ ٹی وی پر بیٹھ کر بڑے سے بڑا جھوٹ بول دیں،اگلے پروگرام میں آپ کو معافی مانگنے کی ضرورت نہیں کیونکہ سادہ لوح عوام آپ کے پہلے جھوٹ کو بھلا کراگلے جھوٹ پریقین کرنے کو تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔

سیاستدانوں کی بڑی تعداد نےبھی ہمیشہ جھوٹ کا سہارا لے کر الیکشن لڑے اور جھوٹے نعروں اور وعدوں سے لوگوں کو بے وقوف بنایا۔ یہ نعرے کبھی چھ ماہ میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے ہوتے ہیں اورکبھی روزگار کے مسائل حل کرنے کے ۔جس ملک میں اعلی ترین عہدے پر بیٹھا کروڑوں عوام کا منتخب نمائندہ،انکم ٹیکس کے گوشوارے جمع  کرواتے وقت، جھوٹ کا سہارا لے رہا ہواوراپنی آمدن پر صرف پانچ ہزار ٹیکس دے رہا ہو، وہاں عوام کو جھوٹ بولنے سے کون روک سکتا ہے۔

ac

ایک بڑی مذہبی سیاسی جماعت کے امیر کو ایک 'بدتمیز' ٹی وی اینکر نے جب ان کے ماضی کے بیانات میں تضاد کی شہ سرخیاں  دکھاتے ہوئے پوچھا کہ فلاں سال میں آپ نے یہ بیان دیا اورفلاں سال میں آپ کی رائے یہ تھی تو وہ مولانا نہ صرف ان اخباری بیانات سے صاف مکر گئے بلکہ ان  بیانات ،اخبارات کو  ہی جھوٹ قراردے دیا۔ جس پر اینکرپرسن نے سرپکڑ لیا اوربولے تو یہ سب اخبارات آپ کے جھوٹے بیانات چھاپتے رہے اور 'آپ نے کسی ایک کو بھی عدالت میں نہیں گھسیٹا' تو وہ خاموش ہو گئے۔اسی طرح ایک شعلہ بیاں مولانا اپنے دھرنے میں موجود چند ہزار لوگوں کولاکھوں کا  جم غفیر قرار دینے کے جھوٹ میں  بالکل  بھی جھجھک محسوس نہیں کرتے۔

Terrorist Release Khi Pkg 17-12

پوری دنیا ہمیں کہتی رہی کہ آپ کے ملک میں شدت پسندوں کے ساتھ ساتھ ان کی پناہ گاہیں بھی موجود ہیں اورتقاضا کرتے رہے کہ ان کے خلاف ایکشن لیں۔ ہم جھوٹ بولتے رہے کہ یہاں کچھ نہیں ہے۔آج ہم ضرب عضب آپریشن کر رہے ہیں۔ ہم الزام عائد کرتے ہیں کہ بھارت بغیر بتائے سیلابی ریلے چھوڑ دیتا ہے اور ہمارے حصے کا پانی بھی چوری کر لیتا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کےایک سینئرافسر نے انکشاف کیا کہ پاکستان نے آج تک بھارت سے تحریری  ایسی کوئی شکایت نہیں کی۔ اس کے علاوہ بھارت کی جانب سے تعمیر کئے جانے جانے والے ڈیمزپر ہماری  طرف سے اٹھائے جانے والی تکنینکی خلاف ورزیوں اوراعتراضات پربھی ہم کسی بین الاقوامی فورم پرکچھ ثابت نہیں کر پائے،کیا ہم جھوٹی الزام تراشی کرتے ہیں؟

Pakistani-Parliament_0

خبروں میں ہونٹ سینے کا معاملہ ہو یا عمران خان کی پینتیس پنکچرکی کہانی،سب جھوٹ نکلیں۔ کسی اخبار اورٹی وی نمائندےنے کہا کہ اگر قصور میں بچوں سے زیادتی کیس کے معاملے میں جھوٹی تعداد نہ بتاتے تو حکومت ٹس سے مس نہ ہوتی۔

دنیا ایک گلوبل ویلیج بن چکی ہے جہاں جھوٹ کی کوئی گنجائش نہیں۔اب ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ اقوام عالم میں ہمیں کس حیثیت میں پہچان بنانی ہے۔اپنی آنے والی نسل کے ساتھ ساتھ موجودہ نوجوان نسل کویہ باورکروانا ہے کہ جھوٹ ایک لعنت ہے۔جھوٹ کی بنیاد پر معاشرے کی تشکیل ریت کی دیوار کی مانند ہے جوکبھی پائیدار نہیں ہو سکتی۔ یہ کمزوراورخوفزدہ ذہنوں کی عکاسی کرتی ہے۔بین الاقوامی سطح پر اپنے دلائل میں پختگی لانے کے لیے جھوٹ کو ترک کرنا ہوگا ورنہ پاکستانی قوم پراعتبار کبھی بحال نہیں ہوگا۔

terrorism in pakistan

India Pakistan Relations

pakistan politicians

pakistan society

lie

pakistan police

political parties of pakistan

Tabool ads will show in this div