کوہی گوٹھ کا فسٹیولا اسپتال

12179555_908892372528580_1427862781_n تحریر : سید فیصل کریم بھاگی کے بھاگیہ میں کچھ سال پہلے تک صرف آنسو اور ذلت تھی، کیوں کہ بھاگی فسٹیولا جیسی بیماری میں مبتلا ہوگئی تھی۔ اس کے شوہر نے اسے طلاق تو نہیں دی تھی، لیکن کیوں کہ وہ ایک ’صحت مند‘ جیون ساتھی چاہتا تھا، اس لیئے اس نے دوسری شادی کرلی۔ صرف شوہر سے جدائی کا دکھ ہی نہیں، بھاگی کو فسٹیولا کی وجہ سے گھر کے ایک کونے میں قید تنہائی بھی برداشت کرنی پڑی۔ اس کے کھانے کے برتن، پینے کا گلاس، پہننے کے کپڑے سب کچھ الگ کر دیئے گئے، یہ سوچ کر کے بیماری دوسروں کو لگے گی، بھاگی کو گھر میں موجود بیت الخلا جانے کی اجازت نا تھی۔ 12188614_908892385861912_269888831_n بھاگی زندہ نہیں رہنی چاہتی تھی، رہتی بھی کیسے، جینے کی امید قطرہ قطرہ اس کی آنکھوں سے آنسو بن کر جھڑ رہی تھی، بھاگی پانچ سال اس بیماری کو جھیلتی رہی، جس میں مثانہ اور غلاف فرج کے بیچ ایک سوراخ یا راستہ بن جاتا ہے، جس سے پیشاب رستا رہتا ہے، یہ بیماری ناکافی طبی سہولیات کی وجہ سے بھی ہوتی ہیں لیکن بیماری کی سب سے بڑی وجہ کم عمری کی شادیاں ہیں۔ جسمانی تکلیف سے زیادہ بھاگی اور اس جیسی لڑکیوں کو اس بیماری کے سبب شدید ذہنی دباؤ سے گزرنا پڑتا ہے، بھاگی نے بار بار رساؤ کی وجہ سے پہلے پانی پینا کم اور پھر ترک ہی کردیا، بلکل اتنا ہی جتنا حلق کو تر کرنے کے لیئے کافی ہو۔ سسرال کے برتاؤ کی وجہ سے وہ گھر کے کونے میں پڑی روتی رہتی تھی جس کی وجہ سے اس کی بینائی کمزور پڑنے لگی تھی، جسمانی لحاظ سے کمزور اور لاغر، ذہنی طور پر بالکل پستی میں چلی گئی تھی بھاگی۔ ایک دن بھاگی کی قسمت اسے کراچی لے آئی، اس شخص کے اسپتال جس کی زندگی کا نصب العین ہے ’نیور سے ڈائی‘۔ جی ہاں ، بھاگی پہنچی کراچی کے علاقے ملیر کے کوہی گوٹھ فسٹیولا اسپتال میں، جہاں ڈاکٹر شیر شاہ کا یہ اسپتال محض اسپتال نہیں، بلکہ بھاگی جیسی ہزاروں خواتین کیلئے جینے کی ایک نئی امنگ ہے۔ 12178219_908892375861913_704072727_n لگ بھگ تیرہ سال قبل ڈاکٹر شیر شاہ نے اس مرض کیخلاف اعلان جہاد کیا تھا۔ ڈاکٹر شیر شاہ کہتے ہیں ’’جب میں نے یہ جنگ شروع کی تو یہ محض ایک بیماری کیخلاف نہیں، بلکہ تین بڑے مسئلوں کیخلاف جنگ تھی، پہلا تو یہ کہ اس بیماری کے حوالے سے آگاہی و شعور بیدار کیا جائے، دوسرا یہ کہ اس کا علاج کیا جائے اور تیسرا اور سب سے اہم یہ کہ خواتین مریضوں میں نا صرف جینے کی امید دوبارہ بیدار کی جائے بلکہ انہیں اپنے پیروں پر کھڑے ہونے میں مدد بھی کی جائے۔‘‘ 12596242_10153675046241998_904310147_n ڈاکٹر شیر شاہ کے مطابق فسٹیولا کو دوسرے الفاظ میں ’غریبوں کی بیماری‘ کہا جائے تو بے جاناں ہوگا، صرف بھاگی ہی نہیں، کئی ہزار خواتین کوہی گوٹھ اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ان کا تعلق بدین، کوئٹہ، ٹھری میر واہ اور ایسے کئی شہر جہاں طبی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں، ڈاکٹر شیر شاہ کا کوہی گوٹھ فسٹیولا اسپتال اس بیماری کے علاج کا بہترین مرکز بن کر ابھرا، لیکن یہ صرف اسپتال نہیں بلکہ اسپتال سے بڑھ کر ہے، کچھ ہے جو اسے خاص بناتا ہے اور وہ ہے ایک عدد ری ہیبلی ٹیشن سینٹر۔ 12647826_10153675041886998_1385490757_n یو این ایف پی اے کے اشتراک سے بننے والا یہ سینٹر مریض خواتین کیلئے کسی رحمت سے کم نہیں،کیوں کہ یہاں یہ خواتین نا صرف خوبصورت کڑاھی دار قمیض شلوار اور علاقائی زیورات بناکر ہنر مند بنتی ہیں، بلکہ اس ذہنی اذیت سے بھی دور نکل جاتی ہیں جو وہ بیماری کی حالت میں اپنے گھروں میں جھیل کر آئی ہوتی ہیں۔ ’’جس طرح قبر کا حال مردہ جانتا ہے، اس طرح اسپتال کے بستر پر پڑا مریض ہی جانتا ہے کہ وہ کس طرح گن گن کر دن گزارتا ہے‘، سینٹر کی رکھوالی کرنے والی ساجدہ کہتی ہیں کہ ’ہم نے اسی لیئے یہ سینٹر بنایا، کہ یہاں آنے سے مریضہ یہ محسوس نہیں کرتیں کہ وہ کسی اسپتال میں داخل ہیں، بلکہ ان کا وقت اچھا  گزر جاتا ہے۔‘‘ 12625824_10153675040331998_1513860213_n لاڑکانہ سے آئی رخسانہ اپنے ہاتھ سے تیار پنکھے دکھاتے ہوئے خوشی خوشی بتارہی تھی کہ ’’ہم یہاں شلوار قمیض سیتے ہیں، اپنے اپنے علاقوں کے مشہور زیورات بناتے ہیں، ہاتھ سے پنکھے اور دیگر دستکاریاں وغیرہ میں مہارت حاصل کرتے ہیں، یہ سب ہمیں ہنر مند بھی بناتا ہے اور اس سے ہمارا کھویا حوصلہ بھی واپس آتا ہے"۔ کیوں کہ مریض خواتین زیادہ تر پسماندہ علاقوں سے آتی ہیں جہاں دو وقت کی روٹی محنت مشقت سے مشروط ہے، اس لیئے خواتین کو واپسی پر بجائے آرام کے پھر کام کرنا پڑتا ہے، جو ان کی سرجری کے لیئے بہت نقصان دہ ہوتا ہے۔ 12584228_10153675045441998_248055777_nڈاکٹر شیر شاہ کہتے ہیں ’’انھیں واپس جاکر بھٹہ مزدوری نا کرنی پڑے، بھاری بھرکم بوجھ نا اٹھانا پڑے، ہم اس لیئے بھی انھیں ہنر سکھاتے ہیں، اور انھیں واپسی پر دوا کے لیئے پیسوں کیساتھ سلائی مشین بھی دیتے ہیں، تاکہ کام چلتا رہے۔‘‘ بھاگی ٹھیک ہوکر واپس جارہی ہے۔ بھاگی کی سرجری تو فسٹیولا اسپتال میں ہوئی، مگر اس کے ٹوٹے حوصلے اور بکھرے عزم کی سرجری ری ہیبلی ٹیشن سینٹر نے کردی۔ سماء

HEALTH

rehabilitation centre

DIALYSIS

Bhagi

Tabool ads will show in this div