فیصلہ قانون نافذ کرنے والوں کو کرنا ہے تو عدالتیں ختم کردی جائیں : الطاف حسین

Nov 30, -0001

اسٹاف رپورٹ
کراچی:  ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ کراچی میں کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کرکے انصاف اور قانون کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں ۔  اگر فیصلہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہی کرنا ہے تو عدالتیں ختم کردی جائیں۔

نائن زیرو پر ایم کیوایم رابطہ کمیٹی کے ارکان سے بات کرتے ہوئے الطاف حسین کا کہنا تھا کہ کراچی میں کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کرکے انصاف اور قانون کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔ کراچی اورسندھ کے شہری علاقوں میں جنگل سے بدتر قانون نافذ کردیا گیا ہے ۔

 انہوں نے سوال کیا کہ   پاکستان کا آئین اور قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ پولیس اور دیگر ادارے جسے چاہیں گرفتارکر لیں اور سفاکی سے قتل کرکے اس کی لاش سڑک پر پھینک دیں؟ اگرملزم کو مجرم قرار دیکر قتل کرنے کا فیصلہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کوہی کرنا ہے تو پھرعدالتیں ختم کردی جائیں  اور یہ اعلان کردیا جائے کہ عوام کے جان ومال کاتحفظ اب حکومت کی نہیں بلکہ خود عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ جس طرح چاہیں اپنی جان بچائیں ۔

انہوں نے کہا کہ  ایم کیو ایم کی جانب سے بیانات جاری ہورہے ہیں اور پریس کانفرنسز بھی ہورہی ہیں ۔  لیکن نہ وزیر اعظم توجہ دے رہے ہیں نہ ہی وزیراعلیٰ سندھ اپیلوں پر کان دھر رہے ہیں۔

 الطاف حسین کا کہنا تھا کہ  جہاں عدالتیں اتنی بے بس ہوں کہ وہ ظلم کرنے والوں کو کٹہرے میں نہ لاسکیں وہاں عوام کس سے انصاف طلب کریں  ؟ سماء

Tabool ads will show in this div