کارکنوں کا قتل، متحدہ رہنماؤں کا شدید احتجاج و مذمت،ہلاکتوں کیخلاف قرارداد منظور

ویب ایڈیٹر:
کراچی : ایم کیو ایم کے رہنما سندھ اسمبلی کے اجلاس میں کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل اور ٹارگٹ کلنگ پر خطاب کے دوران پھٹ پڑے، ایم کیو ایم رہنماؤں کی جانب سے کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ پر شدید احتجاج اور مذمت کی گئی، رؤف صدیقی کہتے ہیں کہ یہ کوئی ہٹلر کا معاشرہ نہیں ۔۔ گنہگار تھے بھی تو عدالت میں پیش کرنا چاہیئے تھا، جب کہ کارکنوں کے قتل کے خلاف مذمتی قرار داد کو متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔

سندھ اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں ایم کیو ایم کے صوبائی وزیر کامرس اینڈ انڈسٹری رؤف صدیقی نے کارکنوں کی ہلاکت پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ 2ڈبل کیبن میں نقاب ڈال کر چاروں کارکنوں کو پکڑا گیا، چاروں کارکنان بے گناہ تھے، اگر کارکنان گناہ گار بھی تھے تو مقدمہ چلا کرعدالت میں پیش کرنا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ کارکنوں کو گرفتار کرنے کے بعد بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا، کارکنوں کی کھالیں اتاری گئیں، ہم کسی کمیونسٹ یا ہٹلر کے معاشرے میں نہیں رہ رہے۔

خواجہ اظہار الحسن کا کہنا تھا کہ ہم نے کارکنوں کے اغوا اور قتل کے خلاف ہر فورم پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا، انہوں نے اسمبلی اراکین سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ کیا ہماری غلطی جرائم پیشہ افراد کی سرکوبی کیلئے حمایت کرنا
ہے؟

سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر آغا سراج درانی کی زیر صدارت شروع ہوا، اجلاس کے آغاز میں ایم کیو ایم کے رہنما خواجہ اظہار الحسن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم مسلسل احتجا ج کر رہے ہیں، ہمیں یقین دہانی کرائی گئی کہ کارکنوں کو بخیریت بازیاب کرایا جائے گا اور عدالتوں میں پیش کیا جائے گا، ہم نے کوئی فورم نہیں چھوڑا، جہاں نمائندگی تھی وہاں جمہوریت پر یقین رکھتے ہوئے ہم نے اپنی آواز اٹھائی اور اپنی عوام کی پوری طرح ترجمانی کی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے پریس کلب پر بھی اپنی فریاد کی، سڑکوں پر بھی احتجا ج کیا، یہ کیسے ظالم لوگ ہیں کہ ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی، اتنے احتجاج کے بعد ان کے دل تک نہ پگھلے، ہم سے یہ غلطی ہوئی کہ ہم نے کراچی آپریشن کی حمایت کی، قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد کیا کیا یہ غلطی ہے؟

انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں جرائم کے خلاف آواز اٹھانے پر سزا دی جا رہی ہے تو یہ پیغام تمام سربراہان کے لئے ہے کہ جتنا زیادہ ہم حمایت کرینگے، اتنی ہی شدت سے ہماری لاشیں ہمارے حوالے کی جائینگی، 9ہزار سے زائد ٹارگٹڈ آپریشن ہوئے کسی گلی سے اس کے خلاف آواز نہیں آئی،  کیا19 ہلاکتیں زیادتی نہیں ہے ہمارے ساتھ ؟ میں ان کو دعوت دیتا ہوں جو یوم سوگ پر اپنی آوازیں اٹھا رہے ہیں، آیئے نمائش پر اور ان لاشوں کو دیکھ سکیں گے۔ اس سے زیادہ لاشوں کی اور بے حرمتی کیا ہوگی، کہ نفرت کے بدلے میں بغاوت ہوتی ہے۔

سندھ اسمبلی ميں ايم کيو ايم کے رہنما محمد حسين نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  کیا عوام سادہ لباس والوں سے خود نمٹ لیں، ہم لاشیں اُٹھا اُٹھا کر تھک گئے ہیں، دو ڈبل کیبن میں نقاب ڈال کر چاروں کارکنوں کو پکڑا گیا، آنکھوں میں پیٹرول کے انجکشن لگائے گئے، کارکنوں کی کھالیں اتاری گئیں، شعلوں سے جلایا گیا، اگر گناہ گار بھی تھے تو مقدمہ چلا کر عدالت میں پیش کرنا چاہیئے تھا۔

سندھ اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ کے پارلیمانی رہنما فیصل سبزواری کہتے ہیں کارکن سوال کرتے ہوئے کہا کہ کیا اسی دن کے لئے حکومت میں شامل ہوئے تھے اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ قتل و غارت روکی جائے کیا پتا کل انہیں بھی قتل کردیا جائے، ابھی غم کا ایک فیصد بھی اظہار نہیں کیا، یہ فاٹا تو نہیں کہ لوگ امن لشکر بنالیں۔

دوسری جانب سندھ اسمبلی کے اجلاس میں جہاں متحدہ قومی موومنٹ کے چار کارکنوں کے قتل پر ارکان نے شدید مذمت کی، وہیں کارکنوں کے ساتھ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے بھائی اور قائد اعظم کی مغفرت کی دعائیں بھی کی گئیں۔ سماء

updates

myanmar

کیخلاف

hair

squads

Tabool ads will show in this div