یہ جنگ ہے ، ٹی ٹوئنٹی میچ نہیں

Warsak Cadet Pak Army Psh Pkg 30-11

تحریر: نسیم خان نیازی 

دہشت گردوں کی ٹوٹی کمر کا ایکسرے مانگنے والے اپنے جذبات کی تسکین کےلیے جُملے کستے رہیں تو انہیں کون روک سکتا ہے ۔ باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے بعد ان کے ہاتھ یہ نادر موقع ہے کہ وہ پہلے سے زخم خوردہ قوم کے زخموں پر نمک چھڑکتے جائیں ۔ ولائتی مفاد کے تحفظ کےلیے کام کرنے والے دیسی دانشوروں کی یہ ڈیوٹی ہے کہ پاکستانیوں میں ایسا ذہنی خلفشار پیدا کریں کہ وہ کبھی دہشت گردی کے خلاف یکسو نہ ہوسکیں ۔ یہاں شکوک و شبہات کی ایسی دنیا تخلیق کردی جائے کہ ہر کوئی دوسرے پر انگلیاں اٹھاتا پھرے اور امن قائم کرکے آگے بڑھنے کے راستے مسدود رہیں ۔

 ایکسرے مانگنے والے اگر تعصب کی عینک اتار دیں تو انہیں بہت کچھ نظر آجائے گا مگر وہ دہشت گردی کے عفریت کو پاکستانیوں کے اوپر مسلط رکھنے کی دیرینہ خواہش کے زیراثر ہیں ۔باچا خان یونیورسٹی پر حملے سے بہت نقصان ہوا اور اس حملے کو روک لینا سیکیورٹی فورسز کےلیے یقیناً بڑی کامیابی ہوتی مگر افسوس ایسا نہیں ہوسکا ۔تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہماری فورسز ، پولیس یا خفیہ ایجنسیوں نے کبھی کوئی حملہ نہیں روکا ۔ ضرب عضب کے ساتھ ساتھ ملک میں لاتعداد آپریشنز کیے جاچکے ہیں اور کئی عسکریت پسند اپنے ناپاک ارادے پایہ تکمیل تک پہنچانے سے پہلے ہی قانون کی گرفت میں آچکے ہیں ۔ بے صبری کے ساتھ نتائج مانگنے والوں اور جملے کسنے والوں کو ایک بات زیر نظر رکھنی چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کوئی ٹی ٹوئنٹی میچ نہیں کہ ایک بٹن دبا کر سب کچھ آف یا آن کردیا جائے ۔

Terrorist Operation 2100 Lhr Pkg 29-06

سال 1979 میں روسی فوج کے افغانستان داخلے کے بعد پاکستانی ریاست نے ایک پالیسی بنائی ،جس کے غلط یا صحیح ہونے پر الگ بحث کی جاسکتی ہے ۔ وہ پالیسی کسی نہ کسی شکل میں 2001 تک چلتی رہی یعنی 20 سال تک ہم ملک میں عسکری گروہ تیار کرتے رہے ۔ 2001 کے بعد انہیں( جزوی طور پر) ختم کرنے کا فیصلہ ہوا اور جو بعد میں جزوی سے کلی طور پر ان کے خاتمے کے فیصلے میں بدل گیا ۔ اب 20 سالہ حکمت عملی کے توڑ کےلیے کم ازکم 20 سال تو چاہئیں جو شائد 2020 ء میں پورے ہوں گے ۔ پاکستان میں بدلتی رائے عامہ ، سیاسی قیادت کی جانب سے مسئلے کا ادراک اور فوج کی مصمم ارادے کو دیکھ کر تو یہی امید کی جاسکتی ہے کہ اب ہمارا ہرقدم بہتری کی جانب اٹھ رہا ہے ۔

گزشتہ 3 سال کے اعداد و شمار بھی اس دلیل کی تائید کرتے ہیں کہ دہشت گردی میں بتدریج کمی آرہی ہے ۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق خیبرپختونخوا میں 60 فیصد تک اور ملک بھر میں 80 فیصد تک کمی آچکی ہے ۔ اہل پاکستان نے دہشت گردوں کی ایسی دیدہ دلیری بھی دیکھی کہ ملک کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں ایف آئی اے کے ہیڈ کوارٹر پر چند ہفتوں کے دوران 2 بار حملہ کیا ۔ اس وقت قبائلی علاقوں میں محفوظ پناہ گاہیں بھی موجود تھیں اور تربیتی مراکز بھی مگر اب ایسا نہیں ۔ خیبر ایجنسی ، باجوڑ ایجنسی ، مہمند ایجنسی ، اورکزئی ایجنسی ، کرم ایجنسی اور شمالی وزیر ستان ایجنسی میں فوج اپنا کنٹرول قائم کرچکی ۔ جنوبی وزیرستان ایجنسی میں آپریشن جاری ہے اور وہاں سے بھی دہشت گرد بھاگ رہے ہیں ۔ سوات ، دیر ، بنوں اور مالاکنڈ میں حالات کافی بہتر ہیں ۔

pakistan army

سیکیورٹی فورسز کےلیے بڑا چیلنج اب افغانستان سے داخل ہونے والے دہشت گرد ہیں ۔ جلد یا بدیر 2400 کلومیٹر طویل اور دشوار گزار ڈیورنڈ لائن پر حفاظتی دیوار تعمیر کرنا اب ضروری ہوگیا ہے ۔ ساتھ ہی افغانستان سے داخلے کے قانونی راستوں پر بھی انتظامات بہتر بنانے پر توجہ دینا ہوگی ۔ کون جانتا ہے کہ 50 ہزار پاکستانیوں کی جانیں لینے والی اس ہولناک جنگ کو اور کتنا خون چاہیے مگر اہل وطن کم ازکم اتنی تسلی تو ضرور رکھ سکتے ہیں کہ اب ہماری سمت درست ہے ۔ اگرفوجی اسٹیبلشمنٹ نے ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرنے کی ٹھان ہی لی ہے تو اہل قلم کو اس کا اعتراف کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں دکھانی چاہیے ۔ جہاں تک تعلق ہے ولائتی مفاد کےلیے کام کرنے والے دیسی دانشوروں کا ، وہ اپنی چاکری جاری رکھیں ، کنفیوژن پھیلاتے جائیں ، ایکسرے مانگتے رہیں، قربانیوں کا مذاق اڑاتے رہیں ، ان کا مفاد اسی میں ہے۔

pak army

operation zarb e azb

pakistan terrorism

Tabool ads will show in this div